کھپرو میں آلودہ پانی کی فراہمی کا عدالت نے نوٹس لے لیا

بلدیاتی حکام کو 7 دن میں فلٹر پلانٹ درست کرانے اور تالابوں میں ایک ماہ کے دوران 2 مرتبہ کلورین ڈالنے کا حکم۔

بلدیاتی حکام کو 7 دن میں فلٹر پلانٹ درست کرانے اور تالابوں میں ایک ماہ کے دوران 2 مرتبہ کلورین ڈالنے کا حکم۔ فوٹو: فائل

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ کھپرو نے شہری کی درخواست پر ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے پانی میں جراثیم کش ادویات کا استعمال نہ کرنے اور فلٹر پلانٹ ، ٹی او انفرااسٹرکچر عدالت میں طلب، 7یوم کے اندر فلٹر پلانٹ کو درست کرانے اور پانی میں جراثیم کش ادویات استعمال کرنے کا حکم۔

تفصیلات کے مطابق کھپرو میں فلٹر پلانٹ گزشتہ 10 ماہ سے خراب ہے جس کے باعث شہریوں کو آلودہ پانی مہیا کیا جا رہا تھا جسکی وجہ سے شہری پیٹ ، معدے ، گیسٹرو اور ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریوں میں مبتلا ہو رہ ہیں، محبوب خان بابو نامی شہری نے سول جج و جوڈیشنل مجسٹریٹ کھپرو نوید احمد کلہوڑو کی عدالت میں مضر صحت و آلودہ پانی فراہم کرنے سے متعلق درخواست دی جس پر سول جج و جوڈیشنل مجسٹریٹ نے فوری طور پر ایڈمنسٹریٹر کھپرو کو طلب کرلیا۔




ٹی او انفرااسٹرکچر امان اللہ سانگی نے عدالت کو بتایا کہ فلٹر پلانٹ جلد درست کرلیا جائے گا جس پر عدالت نے حکم دیا کہ 7 یوم کے اندر فلٹر پلانٹ درست کرا کے تالابوں میں جراثیم کش ادویہ پھٹکری اور کلورین کا فوری طور پر استعمال شروع کیا جائے اور مہینے میں 2 مرتبہ شہریوں کی موجودگی میں پھٹکری اور کلورین تالابوں میں ڈالی جائے اور رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، شہریوں و سماجی حلقوں نے سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کے اس اقدام کو سراہا ہے۔
Load Next Story