قلم کار ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیںمقررین

لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز ’’سیاسی طنزومزاح ‘‘سمیت 28سیشن ہوئے

کراچی لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز سیشن سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر خطاب کر رہے ہیں(فوٹو ایکسپریس)

کراچی میں جاری چوتھے سالانہ لٹریچر فیسٹیول میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے فیسٹیول کو کامیاب بنادیا۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں جمعہ کے روز سے شروع ہونے والے فیسٹیول میں پاکستان سمیت ہندوستان، امریکہ ، برطانیہ اور سائوتھ افریقہ و دیگر ممالک سے شاعر، ادیب ، دانشور اور اسکالر خصوصی شریک ہوئے ہیں، فیسٹیول کے دوسرے روز کا آغاز انتظار حسین کی کتاب ''کوفہ میں کرفیو''سے ہوا ۔

اس سیشن میں انتظار حسین کی کتاب پر شمیم حنفی اور مہر افشاں فاروقی نے ریڈنگ کی ،اس موقع پر شمیم حنفی نے کہا کہ میں نے جب انتظارحسین کی پہلی کہانی''نیند'' پڑھی تومجھے ایسا لگا کہ ان کی تحریروں میں حال ہی نہیں ماضی بھی شامل ہے، مہر افشاں فاروقی نے کہاکہ قلم کار ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔




انتظار حسین کی تحریریں نئے لکھنے والوں کے لیے اکیڈمی کا درجہ رکھتی ہیں، ہم ہندوستان میں بیٹھ کر جب انھیں پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے انتظارحسین ہمارے سامنے بیٹھے ہیں، کراچی لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز دوسرے سیشن میں منیزہ نقوی کی کتاب کی تقریب ہوئی، تیسرا سیشن فلم کی زبوں حالی کے حوالے سے ہوا جس میں ندیم مانڈوی والا اور مہر جعفری نے سینما اور فلم کے حوالے سے بات کی ، ندیم مانڈوی والا نے کہا کہ دنیا بھر میں سینما کی آج بھی بڑی اہمیت ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس کو اہمیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔

چوتھے سیشنمیں بچوں کی شاعری کا بازار سجا جس میں نئے لکھنے والوں نے نایاب کتابیں تو خریدیں سا تھ سا تھ سینئرزشعرا کو اپنا کلام بھی سنایا ، فیسٹیول کے دوسرے روز مختلف موضوعات پر لکھی گئیں کتابوں کی تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئیںجبکہ معروف ڈرامہ اداکارہ بشری انصاری نے' 'سیاسی طنزومزاح ''کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے گفتگو کی ،اس موقع پر بشر ی انصاری کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں مزاح کی کیفیات تبدیل ہوچکی ہیں۔

اب سیاست پر مزاحیہ تحریریں لکھنا ہنر سمجھی جاتی ہیں ،معروف ڈرامہ نگارحسینہ معین،امجد اسلام امجد،اور نورالہدی شاہ کے ساتھ ایک سیشن بعنوان'پاپولر ٹی وی ڈرامہ میں ہم کیا دیکھتے ہیں'ہواجس میں پاکستانی ڈرامے کے کئی پہلوئوں پر گفتگوکی گئی، فیسٹیول میں بچوں کے لیے پپیٹ شوکا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس سے بچے لطف اندوز ہوتے رہے ، فیسٹیول کے دوسرے روز28سیشن ہوئے دوسرے دن کااختتام محفل مشاعرہ سے ہوا جس میں افتخارعارف ، امجدالسلام امجد، انور مسعود ، شمیم حنفی،انور شعوراور فہمیدہ ریاض نے اپنا کلا پیش کیا، کراچی لٹریچرفیسٹیول آج اختتام پذیر ہوگا۔
Load Next Story