بے نامی جائیداد ضبط کرنے کیلیے رولز پر نظرثانی کا فیصلہ

ایف بی آرنے مسودہ تیار کرکے لا ڈویژن کو بھجوادیا، آئندہ ہفتے تک توثیق متوقع

بینامی جائیدادوں کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بہت خدشات تھے۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بینامی جائیداد ضبط کرنے کے قانون پر عملدرآمد کے لیے رولز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے نظر ثانی شدہ رولز کا مسودہ تیار کرکے توثیق کے لیے لا ڈویژن کو بھجوادیا ہے۔


''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کا کہنا ہے کہ لا ڈویژن کی جانب سے آئندہ ہفتے تک نظر ثانی شدہ رولز کے مسودے کی توثیق کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لا ڈویژن کی توثیق کے بعد نوٹیفکیشن کے ذریعے ان رولز کا اطلاق کردیا جائے گا جب کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کے لیے بینامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 متعارف کرایا جا چکا ہے لیکن اس ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کے لیے رولز متعارف کرانا باقی تھے جو اب کرائے جارہے ہیں تاہم ان رولز کے آنے کے بعد وفاقی حکومت کسی بھی بینامی جائیداد کو بحق سرکار ضبط اور نیلام کرسکے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بینامی جائیدادوں کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بہت خدشات تھے کیونکہ اس کی وجہ سے ٹیکس چوری ہورہی تھی جسے روکنے کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی و اثاثہ جات ٹیکس چوری کے ساتھ ساتھ ٹیررازم فنانسنگ کے لیے استعمال ہونے کا بھی خدشہ تھا جسے روکنے کے لیے وزارت خزانہ کی جانب سے اس قانون سازی کا عمل 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور 2017 میں یہ قانون نافذ کیا گیا۔
Load Next Story