ملک کی تباہی میں4 جرنیل سر فہرست ہیں ممنون حسین
پاکستان میں اسمبلیاں محض ربڑ چھاپ ادارے ثابت ہوئے، جسٹس وجیہہ الدین۔
فاروق عادل کی کتاب کی تقریب رونمائی سے ڈاکٹر شاہد حسین ودیگر کا خطاب. فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر اور سابق گورنر سندھ ممنون حسین نے کہا ہے کہ ملک کی تباہی میں4 جرنیل سر فہرست ہیں۔
جنھوں نے ملک پر قبضہ کیا اور ملک کو اپنے ادوار میںتباہی سے دوچار کیا،اب ملک کو سدھارنے کیلیے شفاف اور پرامن انتخابات کا انعقاد بے حد ضروری ہے، وہ پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے تحت کالم نویس فاروق عادل کی کتاب'' ایک آنکھ میں امریکا '' کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے، ممنون حسین نے کہا کہ ملک کے امریکی زیر اثر طبقات کو ملک کی تباہی کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان میں لاقانونیت کی ذمے داری جہاں مختلف طبقات پر ڈالی جاتی ہے وہیں۔
اس کی ذمے داری ان ڈکٹیٹروں پر بھی عائد ہوتی ہے جو جمہوریت کو سبوتاژ کرکے ملک پر مسلط ہوتے رہے، جسٹس ( ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ایک آنکھ میں امریکا کا سرورق دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف نے دونوں ملکوں کا موازنہ پیش کیا ہو۔
امریکا میں سب سے بڑی طاقت عوام ہیں لیکن پاکستان میں اسمبلیاں محض ربڑ چھاپ ادارے ثابت ہوئے ہیں اور صدر صرف آرڈیننس جاری کرنے کے عادی رہے ہیں، ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ اس سفر نامہ میںامریکا اور پاکستان کے تعلقات کا موازنہ کیا گیا ہے جو مصنف کی حب الوطنی کا مظہر ہے، افغان جنگ کے دوران پاکستان کو اب تک 99 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور امریکا نے محض 22 ارب ڈالر کی امداد دی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ یہ کس کے مفادات کی جنگ ہے، تقریب رونمائی سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر اور سابق گورنر سندھ ممنون حسین نے کہا ہے کہ ملک کی تباہی میں4 جرنیل سر فہرست ہیں۔
جنھوں نے ملک پر قبضہ کیا اور ملک کو اپنے ادوار میںتباہی سے دوچار کیا،اب ملک کو سدھارنے کیلیے شفاف اور پرامن انتخابات کا انعقاد بے حد ضروری ہے، وہ پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے تحت کالم نویس فاروق عادل کی کتاب'' ایک آنکھ میں امریکا '' کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے، ممنون حسین نے کہا کہ ملک کے امریکی زیر اثر طبقات کو ملک کی تباہی کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان میں لاقانونیت کی ذمے داری جہاں مختلف طبقات پر ڈالی جاتی ہے وہیں۔
اس کی ذمے داری ان ڈکٹیٹروں پر بھی عائد ہوتی ہے جو جمہوریت کو سبوتاژ کرکے ملک پر مسلط ہوتے رہے، جسٹس ( ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ایک آنکھ میں امریکا کا سرورق دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف نے دونوں ملکوں کا موازنہ پیش کیا ہو۔
امریکا میں سب سے بڑی طاقت عوام ہیں لیکن پاکستان میں اسمبلیاں محض ربڑ چھاپ ادارے ثابت ہوئے ہیں اور صدر صرف آرڈیننس جاری کرنے کے عادی رہے ہیں، ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ اس سفر نامہ میںامریکا اور پاکستان کے تعلقات کا موازنہ کیا گیا ہے جو مصنف کی حب الوطنی کا مظہر ہے، افغان جنگ کے دوران پاکستان کو اب تک 99 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور امریکا نے محض 22 ارب ڈالر کی امداد دی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ یہ کس کے مفادات کی جنگ ہے، تقریب رونمائی سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔