423پولیس افسران کو برطرف کرنے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
سندھ پولیس سیاسی پارٹی بن چکی،جرائم میں ملوث افسران سے قیام امن کی امید نہیں کی جاسکتی
سندھ پولیس سیاسی پارٹی بن چکی،جرائم میں ملوث افسران سے قیام امن کی امید نہیں کی جاسکتی فوٹو: فائل
جرائم میں ملوث 423پولیس افسران واہلکاروں کو برطرف کرنے کیلیے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آئینی درخواست دائرکردی گئی۔
درخواست گزار محموداخترنقوی کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ، چیف سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری سروسز، آئی جی سندھ اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ پولیس سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 423پولیس افسران کے خلاف قتل سمیت دیگر فوجداری مقدمات درج ہیں،مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود یہ افسران و اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے اور تنخواہیں اور مراعات بھی لیتے رہے، مدعاعلیہان نے ایسے اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی کے بجائے انھیں خلاف ضابطہ ترقی دینے کی کوشش کی اور اس حوالے سے قانون بھی بنایا، درخواست گزار کے مطابق جرائم میں ملوث پولیس افسران واہلکار ہرگز امن قائم نہیں کرسکتے۔
ان سے امن کی امید بھی نہیں کی جاسکتی کیوں یہ جرائم پیشہ افراد ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسے پولیس افسران و اہلکار معاشرے میں برائی کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں اسلیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل37کے تحت کارروائی کی جائے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان پولیس افسران و اہلکاروں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور مقدمات درج ہونے کے بعد سے اب تک حاصل کی گئی تنخواہ اور دیگرمراعات بھی واپس لی جائے۔
درخواست گزار محموداخترنقوی کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ، چیف سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری سروسز، آئی جی سندھ اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ پولیس سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 423پولیس افسران کے خلاف قتل سمیت دیگر فوجداری مقدمات درج ہیں،مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود یہ افسران و اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے اور تنخواہیں اور مراعات بھی لیتے رہے، مدعاعلیہان نے ایسے اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی کے بجائے انھیں خلاف ضابطہ ترقی دینے کی کوشش کی اور اس حوالے سے قانون بھی بنایا، درخواست گزار کے مطابق جرائم میں ملوث پولیس افسران واہلکار ہرگز امن قائم نہیں کرسکتے۔
ان سے امن کی امید بھی نہیں کی جاسکتی کیوں یہ جرائم پیشہ افراد ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسے پولیس افسران و اہلکار معاشرے میں برائی کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں اسلیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل37کے تحت کارروائی کی جائے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان پولیس افسران و اہلکاروں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور مقدمات درج ہونے کے بعد سے اب تک حاصل کی گئی تنخواہ اور دیگرمراعات بھی واپس لی جائے۔