مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش

وادی کشمیرمیں آج بھی مسلمان اکثریت میں ہیں بھارت کی کوشش ہےکہ وادی میں بھی ہندوؤں اورسکھوں کی اکثریت ہوجائے

وادی کشمیرمیں آج بھی مسلمان اکثریت میں ہیں بھارت کی کوشش ہےکہ وادی میں بھی ہندوؤں اورسکھوں کی اکثریت ہوجائے . فوٹو : فائل

اسلام آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان نے کبھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن بھارت انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مستقل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے اور اب کشمیر کی آبادی کو بھی بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم نے اقوام متحدہ کوخط لکھا دیا ہے جس میں تمام ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اب وادی میں آبادی کے تناسب کی تحقیقات کرنا اقوام متحدہ کی ذمے داری ہے۔

نفیس زکریا نے کہا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور مسئلہ کشمیر پر ہمارا دو ٹوک مؤقف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسی سازوں کا منصوبہ کیا ہے' یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے' اولاً بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالا اور دوسری جانب ایسے اقدامات کیے جن سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کیا جا سکے' اس مقصد کے لیے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کراتا ہے اور وہ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ان انتخابات سے کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کا اظہار ہوتا ہے' اس کے ساتھ ساتھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے' 1947ء سے لے کر آج کے دن تک بھارت کی یہ کوششیں جاری ہیں۔


جموں میں ہندوؤں کی اکثریت ہو چکی ہے جب کہ لداخ میں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں' وادی کشمیر میں آج بھی مسلمان اکثریت میں ہیں' بھارت کی کوشش ہے کہ وادی میں بھی ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت ہو جائے اور وہ یہاں غیر آئینی طور پر غیر مسلموں کی آبادکاری کررہا ہے' یہ صورت حال یقیناً اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے' اصولی طور پر بھارت مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا' یقیناً اس پر اقوام متحدہ کو توجہ دینا چاہیے۔ بقول ترجمان دفتر خارجہ کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کو اس صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے' اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اب گیند اقوام متحدہ کے کورٹ میں ہے' اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں موجود پانچ ویٹو پاورز نے بھی اس تنازعہ کو حل کرنے پر توجہ نہیں دی۔

اگر دنیا کی سپر پاورز توجہ دیتیں تو یہ تنازعہ کبھی کا حل ہوچکا ہوتا۔ اب بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اس بارے میں اقوام متحدہ کو لازماً اپنا کردارادا کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ صرف خط لکھنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس معاملے میں بھارت سے سفارتی سطح پر باقاعدہ احتجاج بھی کرے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی قرارداد جمع کرائے تاکہ اس پر بحث ہوسکے۔
Load Next Story