بڑے آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت

پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں

پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں ۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں' خصوصاً کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات تاحال موجود ہیں' ادھر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں کر سکے' فوجی آمر ایوب خان نے پنجاب میں بہنے والے تین دریاؤں پر بھارت کا حق تسلیم کر لیا اور سندھ طاس معاہدہ قبول کیا' اس معاہدے کے نقصانات اب سامنے آ رہے ہیں' اس وقت ایوب خان اور اس کی ٹیم سودے بازی نہ کرتی تو پاکستان کو کم از کم دریائے راوی کا پانی مل سکتا تھا' بہرحال اس کے بعد بھی ہمارے حکمرانوں نے پانی اور توانائی کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دی، اب صورت حال یہ ہے کہ ہم بری طرح پانی کی کمی کا شکار ہیں اور یہ کمی بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے، حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 21کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے 'اتنی بڑی آبادی کے لیے وسائل کی فراہمی انتہائی مشکل کام ہے۔


ادھر ہم کالا باغ ڈیم تعمیر کر سکے اور نہ ہی بھاشا ڈیم یا کوئی اور بڑا ڈیم تعمیر کر سکے' اب گزشتہ روز واپڈا کے چیئرمین نے سینیٹ کے فورم فار پالیسی ریسرچ کو آگاہ کیا کہ ملک کو درپیش پانی کے مسائل سے چھٹکارا دینے کے لیے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ کالا باغ ڈیم پر ملک کے قوم پرست حلقے منفی رائے دیتے ہیں' عجیب بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے قوم پرستوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے اور نہ ہی کوئی متبادل ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کی' اب بھی وقت ضایع کیے بغیر وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ آبی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے زمینی حقائق پر مبنی پالیسی اختیار کرے تاکہ پاکستان کو مستقبل میں قحط سالی سے بچایا جا سکے۔
Load Next Story