بلیک اینڈ وائٹ میں رنگینی کے آثار

بہت ساری مظلومات کو یاد آرہا ہے کہ ان کے ساتھ تو بڑا ظلم ہوا ہے

barq@email.com

ہمیں کچھ ایسا لگ رہا ہے ہماری سیاست کی یہ منحوس اور سوکھی ساکھی اور سراسر '' جھاڑ جھنکار ''دنیا کچھ رنگین ہونے والی ہے یا یوں کہیے کہ ڈرامے میں جو ٹوسٹ آتا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہ اچھا خاصا گلیمر س دکھائی دے رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے، آخر ،

عالم غبار وحشت مجنوں ہے سربسر
کب تک خیال طرۂ لیلیٰ کرے کوئی

اخبار اٹھاؤ تو ایک سے بڑھ کر کھردرا، بے ڈھنگا اور ٹیڑھا میڑھا چہرہ دیکھنے کو ملے، طبیعت اوجھ گئی ۔پتہ نہیں ہماری سیاست میں یہ بنیادی ٹیڑھ کہاں سے آئی ہے۔ چہرہ جتنا زیادہ ڈراؤنا ہوگا، اتنا ہی کامیاب ہو بھئی ہم بچوں کو ڈرا تو نہیں رہے ہیں، بہلانا چاہتے ہیں بلکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ منحوس چہرے دیکھتے دیکھتے خواتین کے بچے بھی ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔

اب تک تو خدا اجر خیر دے کچھ صحافی اور کیمرہ مین کہیں نہ کہیں سے کوئی خوشنما چوکھٹا ڈھونڈ ہی لیتے تھے اور نیچے کیپشن دے دیتے ۔ کہ اسلام آباد کی خاتون جو انہماک سے تقریر سن رہی ہے یا کراچی کی خاتون جو عید کی خریداری میں مصروف ہے، پشاور کی ایک خاتون جو چوڑیاں خرید رہی ہے۔

لیکن آخر کب تک اس ''انہماک'' یاخریداری کرنے والی تصاویر دیکھ کر خوشگوار احساس سے گزارہ چلتا ۔ امید کی ایک ''کرن '' کچھ دن نظر آتی رہی، وہ بھی نہ جانے کس جہاں میں کھو گئی، قندیل بلوچ کو آخر کب بعد از مرگ خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے، وینا ملک نے بھی شاید تھک ہار کر اور اس قدرناشناس معاشرے سے مایوس ہوکر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ ایک بچاری میرا تھی تو اکیلا ،،،،اتنا بڑا بھاڑ کیسے جھونک سکتا ہے حالانکہ اس نرکی بچی نے مقدور بھر سعی کی اور مسلسل کر بھی رہی ہے لیکن

یہ ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

ریحام خان سے بڑی توقعات تھیں کہ اب علیحدگی کے بعد سیاست میں مستقل رنگینی آجائے گی، لوگوں نے کافی ہلہ شیری بھی دی ، پرستاروں نے بھی مقدور بھر کوشش کی لیکن شاید وہ اس تجربے سے اتنی مایوس ہوگئی تھی کہ پتا لگنے ہی میں عافیت جانی چنانچہ حاضر اسٹاک میں جو کچھ ہے ، ان میں سے بعض کو دیکھ کر سرپر ''پلو'' لینے یا ٹوپی رکھنے ،آستین کھولنے اور گریبان کے بٹن لگانے کا خیال آجاتا ہے۔


مطلب یہ بہت ہی قحط الرجال بلکہ قحط النساء کی صورت حال تھی ۔ اپنے یہاں کے مستقل اور روزانہ طلوع ہونے والے کھردرے چہرے کیا کم تھے کہ اوپر سے علامہ طاہر القادر، الطاف حسین وغیرہ بھی انٹری مار دیتے تھے ،گویا کریلے کو نیم پر چڑھا دیتے تھے یا صحرا میں بگولے اٹھا دیتے تھے اور یا دہی میں لیموں بلکہ نارنگی نچوڑ دیتے تھے۔

خدا گلالئی کو اجر دے کہ اس نے بارش کے پہلے قطرے کا کردار ادا کیا اور اب گرج چمک کے ساتھ زوردار بارش کے آثار دکھائی دیتے ہیں، یہاں وہاں سے مستقل پرزینٹ سر'' کی آوازیں سنائی دے رہی ہے اور بہت ساری مظلومات کو یاد آرہا ہے کہ ان کے ساتھ تو بڑا ظلم ہوا ہے چنانچہ باری باری سب کو اپنا سر یاد آئے گا اور قوم کے سپوتوں سے توقع رکھیں گی کہ

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شعر

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شعر ۔ کا تو ہمیں پتہ نہیں ہے لیکن کراچی کے ساحل سے لے کر خیبر کے پہاڑوں تک کے جو حرم کے پاسبان ہیں، وہ بھی کچھ جوش و جذبے کے مالک نہیں ہیں، ان کے لیے صرف دو پیسے کی افیون بھی بہت ہے کیونکہ سر پہلے ہی نشے سے بھرے ہوئے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ہماری سیاست صحافت اور مجلسی زندگی میں کافی رنگینی آنے والی ہے، پانی کا پہلا چھینٹا پڑچکا ہے اور باقی گھنگھور گھٹا آئی کھڑ ی ہے، یہ بچپن میں پڑھی ہوئی مولوی اسمعیل میر تھی کی ایک نظم تھی کہ جس میں بارش سے پہلے کاسماں باندھا گیا اور پھر ''پہلی بوند'' کی اہمیت بیان کی گئی تھی ۔

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں گری تھی

لیکن وہ بوند تو یہاں گرگئی ہے، اب دیکھتے ہیں کہ گھنگھور گھٹا کیا کرتی ہے لیکن توقع تویہی کہ ساری سیاست اور صحافت جل تھل ہو جائے گی کیونکہ قحط النساء کی ماری ہوئی صحافت کے بھاگوں چھنگا ٹوٹ چکا ہے ہونا بھی چاہیے اور ٹیڑھے میڑے چہروں کو برداشت کرتا رہے،

رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
آخر کبھی تو عقدۂ دل وار کرے کوئی
Load Next Story