پاکستان کا ایران سے گیس کی قیمت کم کرنے پر اصرار معاہدے پر دستخط نہ ہو سکے

ایران قیمتوں کومعاہدے کے تحت کم کرے تاکہ اسے ترکمانستان کیساتھ حتمی شکل دیے گئے ریٹ کے برابر لاسکیں، مشیر پٹرولیم.

معاہدے پر دستخط 27 فروری سے پہلے ہوجائینگے، عاصم حسین، نرخ کم ہوئے تو پاکستان منصوبے کے چلنے تک 1.5 بلین ڈالر بچائے گا، ذرائع فوٹو: فائل

پاکستان نے ایران کو گیس کی قیمت کم کرنے پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باہمی فروخت اور خریداری کے معاہدے کے تحت قیمتوں کو کم کرے تاکہ اسے ترکمانستان کیساتھ حتمی شکل دیے گئے ریٹ کے برابر لایا جاسکے۔

وزیر اعظم کے مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے ہفتے کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم قیمت ری نیگوسی ایشن شق کو استعمال کررہے ہیں۔ ایران کو قیمت کم کرنی پڑے گی اور تاپی (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ، انڈیا پائپ لائن) کے ریٹ تک آنا ہوگا۔ ایران کی تدبیر انرجی اور پاکستان کی انٹر گیس کمپنی ایرانی فرم کی طرف سے پاکستان میں 781 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر کیلیے معاہدے پر دستخط نہیں ہوپائے کیوں کہ ابھی مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔

اس معاہدے پر 27 فروری سے پہلے دستخط ہوجائینگے۔عاصم حسین کا کہنا تھاکہ اگر گیس یورپ اور امریکا کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کم ہوئی تو اسکے نرخ تاپی سے بھی کم ہوسکتے ہیں، ہم قیمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ اگر ایران گیس کی قیمت تاپی گیس پائپ لائن جتنی ہوجاتی ہے تو پاکستان اس منصوبے کے چلنے تک 1.5 بلین ڈالر بچائے گا۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ دورے پر آئے ہوئے ایرانی وفد کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ تہران میں اس پر غور کیا جاسکے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بارٹر ایک آپشن ہو سکتا ہے۔




 

ایرانی تکنیکی ٹیم کی اگلے ہفتے مشاورات کیلیے اسلام آبادآمد متوقع ہے اور پھر پاکستان معاہدے پر دستخط کرنے تہران جائیگا۔ دریں اثنا ثنا نیوز وزیر اعظم کے مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے ضیا الدین میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں ڈاکٹر ضیا الدین ڈے پر سیمینار سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکا کا کوئی دبائو نہیں، ہم فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنیکا فیصلہ ہوچکا ہے،ایران سمیت سینٹرل ایشیائی ممالک سے گیس کی درآمد پاکستان کی ضرورت ہے اور ہم اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد ہیں۔ گیس بحران پر ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ سی این جی سیکٹر کا خاتمہ توانائی کے موجودہ بحران کی وجہ سے ضروری ہے، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو اپنی قیمتی گیس کو گاڑیوں میں ضائع کر دے۔ انھوں نے کہا کہ وزارت پیٹرولیم نے اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ مل کربین الاقوامی پالیسیاں بنائی ہیں جو نگراں حکومت میں بھی برقرار رہنا چاہئیں ۔
Load Next Story