بھارت کا سندھ طاس معاہدہ سے انحراف

ہمیں دیامربھاشاڈیم اور دیگر آبی منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا

ہمیں دیامربھاشاڈیم اور دیگر آبی منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا ۔ فوٹو : فائل

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پانی کے استعمال میں ہوش سے کام نہ لیا اور بہتر آبی انتظام نہ کیا تو مستقبل میں مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، مشکل صورتحال سے بچنے کے لیے ہمیں محتاط انداز میں پانی کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا، سندھ طاس معاہدے سے مسائل کافی حد تک حل ہوئے، بھارت نے اب اس معاہدے سے متعلق عملدرآمد کرنا چھوڑ دیا ہے، انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کا بحران سنجیدہ صورتحال اختیار کر رہا ہے اور باہمی تنازع کو شدت فراہم کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے پاک بھارت آبی مسئلہ کی شدت کو اس کے خاص سیاق وسباق میں اجاگر کیا ہے کیونکہ 25جنوری 2017 کو بطور وزیر پانی وبجلی وہ بھارتی نو رکنی وفد کا خیرمقدم کرچکے تھے، اس وفد کی سربراہی بی کے سکسینہ کررہے تھے ، بات چیت کا محور دوطرفہ مذاکرات سے آبی مسئلہ کے حل کی کوشش تھی، اس وقت بھی جب کہ بگلیہار ڈیم اور دیگر ہائیڈروالیکٹرک ڈیمز کی متنازع تعمیرات پر پاکستان نے سخت اعتراضات اٹھائے تب بھی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بھارت پر واضح کردیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحفظ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دو ایٹمی ملکوں کے مابین ایک طے شدہ عالمی معاہدہ ہے اور عالمی بینک کی نگرانی میں ہونے والا یہ معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا مستند فارمولا ہے اور اس کی استقامت سے صاف ظاہر ہے کہ تین جنگوں کے باوجود اس معاہدہ پر کوئی زد نہیں پڑی مگر بھارت نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، کشن گنگا اور رتلے ہائیڈروپاور پروجیکٹ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

اس کے بعد بھی حالیہ دنوں میں بھارت نے نئے ڈیموں کی تعمیر شروع کردی ہے تاکہ پاکستان کو آبی جارحیت سے نقصان پہنچایا جائے۔ دریائے چناب کو خشک صحرا میں بدل دیا جائے، مودی حکومت نے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سندھ طاس معاہدہ دو ملکی عالمی معاہدہ اور طے شدہ آبی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اسے کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔اب بھارت عالمی عدالت اور ثالثی عدالتوں کی کارروائی سے گریز پائی کا وتیرہ اختیار کیے ہوئے ہے اور غیر جانبدار ماہر کی تقرری کا اس پر خبط سوار ہے۔پاکستان کا موقف بھارتی انانیت اور کہہ مکرنیوں کے خلاف ایک منطقی طرز عمل کا مظہر ہے کہ خطے کو پانی کی قلت کا ہولناک بحران درپیش ہوسکتا ہے اس لیے بھارت اس ممکنہ صورتحال کا ادراک کرے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کے استدلال کے تناظر میں تقسیم ہند کے بعد ہی دیگر مسائل کی طرح آبی مسئلہ بھی باہمی تنازعات میں شامل ہوا، سندھ طاس معاہدے کے بعد ابتدائی طور پر مسئلہ حل ہوا جب کہ بھارت رن آف ریور پر کئی آبی وسائل کے قیام کا منصوبہ رکھتا ہے، پاکستان نے بھارت کے معاہدے کے خلاف جاری منصوبوں پر تحفظات کا اظہارکیا ہے۔


خطے کا ہر ملک جانتا ہے کہ بھارت آبی جارحیت میں مصروف ہے جو سندھ طاس معاہدے کے اصولوںکے منافی ہے، پاکستان طے شدہ اصولوں اور عالمی قوانین کی پاسداری کی پابندی کر رہا ہے، ہمارے ہمسایوں کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے ملک میں استعمال شدہ پانی کی صورتحال بیان کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بدلے حکومت کو صرف 120 روپے دیے جاتے ہیں، اسی وجہ سے عوام کو پانی کی اہمیت کا احساس نہیں، ہمیں پانی کے نئے ذخائر بنانا ہوںگے، خواجہ آصف نے کہا کہ140 ملین ایکڑ فٹ ہمارا اپنا پانی ہے جو ہمارے اپنے وسائل سے ملتا ہے جن میں گلیشیئر پگھلنے کا عمل بھی شامل ہے، ہم پانی کو مجرمانہ طور پر اورلامحدودآبی رسد سمجھ کراستعمال کر رہے ہیں جوافسوسناک ہے۔

ہمیں دیامربھاشاڈیم اور دیگر آبی منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا، یہ حقیقت ہے کہ ارباب اختیار کو ملکی آبی وسائل پر مکمل تصرف کو یقینی بنانا ہے اور بھارت پاکستان کی زراعت اورہائیڈل منصوبوں کو جو نقصان پہنچا رہا ہے اسے ہر قیمت پر بچانا ہوگا۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے ساتھ تمام آبی تنازعات حل کرنے پرتیارہے، حقیقت میں بھارت سے آنے والے پانی پر بھارت کا حق نہیں، دریائے سندھ میں زیادہ تر پانی پاکستانی گلیشیئرسے آتا ہے، جو پانی پاکستان کومعاہدہ کے تحت ملنا چاہیے اسے بھارت کو روکنے کا کوئی حق نہیں، اور نہ دریائے سندھ پر لاتعداد ڈیموں کی سرعت کے ساتھ تعمیر کے جنوں اور دشمنی پر مبنی آبی جارحیت جاری رہنی چاہیے۔

بھارت پاکستان کی آبی مسئلہ کے تصفیہ کی پر امن اور باہمی اشتراک اور قانونی ذرائع سے حل کی کسی کوشش کو اس کی کمزوری پر محمول نہ کرے، پانی کے عالمی بحران کی رپورٹیں عالمی جرائد اور سائنسی تحقیقی انکشافات کے ذریعے ان ملکوں کے لیے لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہیں جنہیں پانی کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ بھارت کی سفارت کارانہ دو عملی وقت کا ضیاع ہے ، وہ دیرینہ تنازعات کے ساتھ آبی مسئلہ کے معاملہ میں غیر یقینی ابہام اور بات چیت کے لاحاصل تسلسل کا خاتمہ کرے جب کہ اس حقیقت کو مان لے کہ پاکستان کے لیے اس کی آبی ضروریات اور سندھ طاس معاہدہ کا تحفظ ناگزیر ہے۔
Load Next Story