ملکی سیاسی منظرنامہ اتار چڑھاؤ کا شکار

جمہوریت عوام کو اپنا نمایندہ چننے کا موقع فراہم کرتی ہے

جمہوریت عوام کو اپنا نمایندہ چننے کا موقع فراہم کرتی ہے . فوٹو : فائل

موجودہ سیناریو میں ملکی سیاسی منظرنامہ جس قدر اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اس میں لازم ہوگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی ادارے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فہمیدہ اور دانشمندانہ طرز عمل کا مظاہرہ کریں، ملک داخلی اور خارجی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہے ایسے میں باہمی چپقلش، چھوٹے چھوٹے مسائل پر اختلافات اور منتقمانہ سیاست سے پرہیز ہی راست اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری کا کہنا صائب ہے کہ پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے ڈائیلاگ ہوسکتے ہیں، 62,63 میں ترمیم کا فیصلہ آیندہ اسمبلی کرے گی، مفاہمت کی سیاست ہی کی وجہ سے جمہوریت پروان چڑھتی ہے اور ہمیں ذاتی مفادات کے بجائے جمہوریت کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

بلاشبہ جمہوریت اظہار رائے کی آزادی دیتی ہے لیکن سیاست دانوں کو اپنے بیانات میں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، عوامی اجتماعات میں عامیانہ زبان اور اداروں سے ٹکراؤ کا تاثر پیدا کرنا کسی طور درست نہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے چکوال جلسے میں بالکل صحیح اشارہ دیا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، دولت کی کمی کے باعث ہمیں بھیک اور قرضے مانگنا پڑتے ہیں۔

جمہوریت عوام کو اپنا نمایندہ چننے کا موقع فراہم کرتی ہے، جو عوام میں مقبول ہوگا وہ منظر پر آجائے گا، اس معاملے کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی ماحول جمہوری اور قانونی حدود کا احاطہ کرے۔ دوسری جانب مریم نواز نے بھی اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں مزنگ لاہور میں انتخابی دفتر کے افتتاح کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ووٹ کی بے حرمتی اور ووٹر کی بے عزتی کا حوالہ دیا ہے۔ سیاست دانوں میں جاری لفظی جنگ کے مضمرات اور نتائج ملکی سیاست اور جمہوری عمل پر کیا مرتب ہوں گے، تمام سیاسی قیادتوں کو اس کا حقیقی ادراک ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں تجزیہ کار اور فہمیدہ حلقے حالیہ مردم شماری کے نتائج کو متنازع بنانے کے مضمرات کے حوالہ سے اپنے اندیشوں اور ملکی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔


ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے مردم شماری کے نتائج مکمل مسترد کرتے ہوئے 10 ستمبر کو احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے جب کہ حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی نے بھی مردم شماری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، علاوہ ازیں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نجکاری و شماریات نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کل بلاکس کے ایک فیصد میں پوسٹ مردم شماری کرانے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کو سفارش کردی ہے۔ ملک میں اس کے مضمرات اور نتائج ملکی سیاست اور جمہوری عمل پر کیا مرتب ہوں گے، تمام سیاسی قیادتوں کو اس کا حقیقی ادراک ہونا چاہیے۔ ملک میں 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری کو متنازعہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے صائب ہوگا کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹاتے ہوئے تمام فریقین کو ایک پیج پر لانے کی کوشش کی جائے۔

پیدا شدہ سیاسی ماحول کو کشیدگی اور تناؤ سے بچانے کی تدابیر وقت کا تقاضا ہے۔ قوم ایک بڑی اعصابی اور سیاسی آزمائش سے گزر رہی ہے، ملک کو جن اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے اس کا صحیح ادراک ہونا چاہیے۔ سینیٹ کے تمام ارکان کی کمیٹی نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں مسترد کرتے ہوئے سخت موقف اپنانے اور پاکستان میں متعین امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے پارلیمنٹ کی طرف سے پیش کی جانے والی سفارشات سے آگاہ کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اس معاملے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے، خطے میں امن کے قیام کے لیے اس کے کلیدی کردار کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ داخلی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ لیکن ان معاملات کا تجزیہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ حالات اس نہج تک کیونکر پہنچے۔ اس وقت پاک امریکا تعلقات جس کشیدگی کا شکار ہیں ایسے میں بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کا امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کو لکھا گیا خط بھی سوچ کے در وا کرتا ہے جس میں انھوں نے اعزاز چوہدری کو ملک کا بدترین سیکریٹری خارجہ قرار دیا ہے۔

ایسے نازک وقت میں اس خط کا سامنے آنا کسی سازش کا حصہ تو نہیں۔ جو چیز قومی اعصاب کو جھنجھوڑ رہی ہے اس کا احساس سیاستدانوں کو بلاتاخیر ہونا چاہیے۔ ملکی سیاست میں تدبر اور تحمل کی ایسی روش کا سامنے آنا لازم ہے جس سے سیاسی جماعتوں میں نتیجہ خیز مکالمہ کی راہ استوار ہو اور حکومت سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی ادارے ملکی مفاد، سلامتی، قومی یکجہتی اور معاشی استحکام کے لیے ایسے نظام کے احیاء کے لیے کاوشیں کریں جو قومی امنگوں کی صحیح عکاسی کرے۔ مملکت خداداد کی سالمیت، خودمختاری، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ہر محب وطن خیرمقدم کرے گا۔
Load Next Story