روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں پناہ مل گئی
روہنگیا مسلمان برما سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں پناہ ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے
روہنگیا مسلمان برما سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں پناہ ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے - فوٹو: فائل
برما میں مسلمانوں پر پرامن تصور کی جانے والی بدھ کمیونٹی کے ہاتھوں جو لرزہ خیز مظالم کی کہانیاں میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں وہ رونگھٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ مسلمانوں کو وہاں روہنگیا کہا جاتا ہے جن کے لیے جان بچانے کے لیے فرار ہونے کے راستے بھی مسدود کر دیئے گئے۔ یہ مظلوم لوگ بھاگ کر تھائی لینڈ جانے کی کوشش کرتے رہے مگر تھائی لینڈ والوں نے انھیں اپنے ملک میں نہ آنے دیا۔ ان بے چاروں کے پڑوس میں بھارت کا علاقہ آسام بھی ہے مگر بھارت کی قیادت تو مسلمانوں کے ازلی دشمنوں میں شامل ہے تاہم اب تازہ اطلاع کے مطابق 18سو سے کچھ زائد روہنگیا مسلمان برما سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں پناہ ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے حالانکہ اس سے قبل بھی وہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں مگر وہ کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔
برما سے یہ لوگ بھاگنے کے لیے چھوٹی کشتیوں یا مال بردار جہازوں کی مدد لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر یہ دونوں ذریعے بھی الٹا ہلاکت خیز ثابت ہوتے رہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئیٹر نے بنگلہ دیشی علاقے کاکسس بازار سے خبر دی ہے کہ 18سو سے زائد روہنگیا مسلمان جن میں سے بہت سارے بیمار ہیں یا انھیں گولیوں کے مہلک زخم لگے ہیں بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں۔ یہ لوگ جنوب مغربی میانمار میں انتہائی بدترین حالات کا شکار تھے جن کی جان کو ہر دم دھڑکا لگا رہتا تھا۔ میانمار کی سیکیورٹی فورسز حملہ آور بدھ نوجوانوں کو روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ کرنے میں مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اب میانمار کی حکومت نے بھی بدھ حملہ آوروں کو روکنے کی تھوڑی بہت کوشش کی ہے جس سے روہنگیا مسلمانوں کو فرار کا موقع فراہم ہو گیا۔
بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ان سب پناہ گزینوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے لیکن انھیں اس بات پر اطمینان ہے کہ اب وہ حملہ آوروں سے بچ کر یہاں پہنچ گئے ہیں۔ بنگلہ دیش حکومت نے کاکسس بازار کے قریب ان کے لیے پناہ گزین کیمپ بنا دیے ہیں تاہم دنیا میں آنگ سان سو چی کے بارے میں تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی چمپئن سمجھتی ہے مگر اس کی طرف سے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کوئی بیان نہیں آیا۔
برما سے یہ لوگ بھاگنے کے لیے چھوٹی کشتیوں یا مال بردار جہازوں کی مدد لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر یہ دونوں ذریعے بھی الٹا ہلاکت خیز ثابت ہوتے رہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئیٹر نے بنگلہ دیشی علاقے کاکسس بازار سے خبر دی ہے کہ 18سو سے زائد روہنگیا مسلمان جن میں سے بہت سارے بیمار ہیں یا انھیں گولیوں کے مہلک زخم لگے ہیں بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں۔ یہ لوگ جنوب مغربی میانمار میں انتہائی بدترین حالات کا شکار تھے جن کی جان کو ہر دم دھڑکا لگا رہتا تھا۔ میانمار کی سیکیورٹی فورسز حملہ آور بدھ نوجوانوں کو روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ کرنے میں مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اب میانمار کی حکومت نے بھی بدھ حملہ آوروں کو روکنے کی تھوڑی بہت کوشش کی ہے جس سے روہنگیا مسلمانوں کو فرار کا موقع فراہم ہو گیا۔
بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ان سب پناہ گزینوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے لیکن انھیں اس بات پر اطمینان ہے کہ اب وہ حملہ آوروں سے بچ کر یہاں پہنچ گئے ہیں۔ بنگلہ دیش حکومت نے کاکسس بازار کے قریب ان کے لیے پناہ گزین کیمپ بنا دیے ہیں تاہم دنیا میں آنگ سان سو چی کے بارے میں تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی چمپئن سمجھتی ہے مگر اس کی طرف سے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کوئی بیان نہیں آیا۔