عیدالاضحیٰ اور اس کے تقاضے

آج عالم اسلام جن حالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں

آج عالم اسلام جن حالات سے دوچار ہے‘ اس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں ۔ فوٹو؛ فائل

پاکستان اور برصغیر کے مسلمان آج مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ عیدالاضحی منا رہے ہیں' اس روز مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے حضرت ابراہیم ؑاور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑکی یاد تازہ کرتے ہیں۔ عید قربان مسلمانوں کو درس دیتی ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں' مشرق وسطیٰ اور دیگر عرب ملکوں میں جمعہ کو عیدالاضحی منائی گئی' اس سے قبل مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے آئے بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کر لیا۔

سعودی عالم دین شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج ادا کیا جس میں انھوں نے کہا کہ حج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور مفادات کے حصول کا اکھاڑا بنانا جاہلیت کے وہ رسم و رواج ہیں جنھیں اسلام مٹانے کے لیے آیا ہے' اسلام امن کا مذہب ہے اور اسلامی تعلیمات دنیا بھر میں امن اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں' اسلام شدت پسند جماعتوں کا مخالف ہے' اسلام میں غیر مسلم کا خون بہانا بھی حرام ہے' امت سیاست کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچے' مسلم حکمران قرآن کے مطابق حکمرانی کریں۔ مسلمان حکمران قرآن کے مطابق حکمرانی کریں' ان کو چاہیے کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامیں، اس پر عمل کریں اسی میں نجات ہے، ڈاکٹر شیخ سعد نے کہا میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کو لوٹا دے۔

حج بیت اللہ کے عالمگیر اجتماع میں قبلہ اول کی مسلمانوں کو واپسی کی دعا کی اس حوالے سے خاص اہمیت ہے کہ اس سطح پر پہلے اس کا تذکرہ کم ہی ہوا۔ ڈاکٹر شیخ سعد نے خطبہ حج جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مسلمان پر لازم ہے کہ ان حدود کی حفاظت کرے جو اللہ نے اس کے لیے کھینچ دیں، اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ نظام عدل قائم اور حکومت کرو، مسلمان حکمران اسلام کے احکامات پر عمل کرکے اللہ کا قرب حاصل کریں۔ خطبہ حج میں اسلام کے اس آفاقی پیغام کا اعادہ کیا گیا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر فوقیت حاصل نہیں' اللہ کے نزدیک اس کار درجہ بلند ہے جو تقویٰ میں آگے ہے۔


آج عالم اسلام جن حالات سے دوچار ہے' اس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں اور اس کے ساتھ وہ طبقہ جو دین کی غلط تعبیر و تشریح کر رہا ہے' اس کا کردار بھی مشکوک ہے کیونکہ اس نے بھی مسلم حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی تائید کی ہے' جناب سعد بن ناصر الشتری نے جو باتیں کہیں ہیں' وہ اپنے اندر معنی کا جہان لیے ہوئے ہیں' انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بیگناہ غیر مسلم کا خون بہانا بھی حرام ہے' بدقسمتی سے مسلمانوں کے ایک گروہ نے انتہا پسندی کا جو راستہ اختیار کیا اس کی وجہ سے عالم اسلام شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انتہا پسندوں کے زیراثر تنظیموں نے دہشتگردی کی راہ اختیار کی' ادھر مسلمانوں کی مخالف قوتوں نے اسے دین اسلام کے خلاف استعمال کیا۔

آج پورا مشرق وسطیٰ' شمالی افریقہ کے مسلم ممالک اور افغانستان بے چینی اور انتشار کا شکار ہیں۔ گرم ہوائیں پاکستان کا رخ بھی کر رہی ہیں' اگر اسلامی ملکوں کے حکمران اور دین کی تعبیر و تشریح کا ذمے دار طبقہ اپنا حقیقی رول ادا کرتا تو اسلامی معاشروں میں انتہا پسندی کا زہر نہیں پھیل سکتا تھا' بہرحال خطبہ حج میں جناب سعد بن ناصر الشتری نے جو کچھ کہا ہے' اسے مسلم حکمرانوں کو راہ عمل بنانا چاہیے۔ عیدالاضحی کا مبارک دن بھی مسلمانوں کو یہی سبق دیتا ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔

قربانی دراصل ایثار کا نام ہے' اس دن کی نسبت سے مسلمان دنیا کی دیگر اقوام کو بھی عمل اور ایثار و قربانی کا پیغام دے سکتے ہیں۔ اس موقع پر مسلمانوں کو غریب مسلمانوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے' قربانی کا مقصد محض نمود و نمائش نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد ایک جانب اللہ کو راضی کرنا اور دوسری جانب غربا اور مساکین کا خیال رکھنا بھی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں جانوروں کو قربان کیا جائے گا' اگر خوشحال مسلمان اپنے غریب مسلمان بھائیوں کا خیال رکھیں تو کوئی مسلمان اس مبارک دن قربانی کے گوشت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں' صاف معاشرے تہذیب و تمدن کی علامت ہوتے ہیں' قربانی کے مبارک دن کے موقع پر جہاں دینی فریضہ ادا کرنا ہے وہاں صحت و صفائی کی صورت حال کو برقرار رکھنا بھی ایک دینی فریضہ ہی ہے اور اس پر لازمی عمل کیا جانا چاہیے۔
Load Next Story