بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ فوٹو : فائل

NEW YORK:
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا تاہم قتل کیس کی پراسراریت اور کیس کے مسٹری مرڈر ہونے کا باب ختم نہیں ہو سکا، سیاسی حلقوں میں فیصلہ زیر بحث ہے، خصوصی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اصغر خان نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس افسران ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی سٹی خرم شہزاد کو مجموعی طور پر17، 17سال قید ، پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے5 ملزمان بری کردیے۔ فیصلہ کے بعد سیاسی حلقوں کا شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے، سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بچوں نے اپنی والدہ کے قتل کیس کا فیصلہ ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، بلاول، بختاور، آصفہ بھٹو زرداری نے عدالتی فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار ٹویٹر پر کیا جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مایوس کن اور نا قابل قبول قرار دیا۔


بادی النظر میں بے نظیر قتل کیس متفرق شواہد، قرائنی ثبوتوں،گواہوں کے بیانات ، قتل کے محرکات، قاتلوں کی شناخت اور جلسہ کے بعد بے نظیر کا گاڑی سے سرباہرنکالنے کے مہلک لمحات اندوہ ناک داستان سے عبارت ہے، اسے دنیا کے اہم سیاسی مرڈر کیسوں میں حوالہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیس کے فیصلہ پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا عندیہ دے چکی ہے ،اس لیے قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، بے نظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ بے نظیر قتل کیس کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، یہ نکتہ بھی زیر بحث ہے کہ عدالت کو اسکاٹ لینڈیارڈکی رپورٹ دیکھنا چاہیے تھی ۔یاد رہے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 8فروری2008 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی مگر اس میں بھی قتل کے محرکات پر کئی نکات کو تشنہ چھوڑ دیا گیا، پھر فروی2012کوجے آئی ٹی بنی، مگر کیس سربستہ راز بنا رہا۔اب صائب حکمت عملی قانون وانصاف سے مسلسل رجوع کرنے کی ہے ، مایوسی مناسب نہیں، ابھی عدالتی و قانونی مراحل کے دروازے کھلے ہیں۔
Load Next Story