جذباتی باتیں اور بین الاقوامی مسائل
اس وقت ملک کو ایک مضبوط سیاسی حکومت کی ضرورت ہے جو افغانستان، ایران، بھارت اور امریکا سے مذاکرات شروع کرے۔
tauceeph@gmail.com
امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کا دورۂ پاکستان ملتوی ہوگیا۔ وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی ڈاکٹرائن کو مسترد کر دیا ہے۔ ملک بھر میں امریکی حکومت کے خلاف مظاہرے بڑھ گئے۔ مولانا سمیع الحق نے اعلان کر دیا کہ حکومت حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا نہ سوچے، یوں پاکستان تاریخ کے ایک خطرناک دور میں داخل ہو گیا۔ اس خطرناک دور میں غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہی اس بحران کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ امریکا نے پہلی جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی سیاست میں قدم جمانا شروع کیے۔
امریکی صدر ٹرومین نے سوچ بچار کے بعد دوسری جنگ عظیم میں مداخلت کی۔ جرمنی اور جاپان کے خلاف برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جنگ میں کامیابی کے باوجود برطانوی سلطنت غروب ہونا شروع ہوئی۔ امریکا نے دنیا کی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے خطے میں قدم جمانا شروع کیے۔ محمد علی جناح نے سب سے پہلے امریکا کے اس نئے کردار کو قبول کیا اور اپنی 11 اگست 1947ء کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں صدارتی تقریر میں امریکا کا شکر ادا کیا اور امریکی حکومت کو خط بھیجا کہ امریکا ہماری مسلح افواج کی تنظیم نو میں مدد کرے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان امریکا کے دورے پر گئے۔ انھوں نے بعض دیگر وجوہات کی بنا پر سوویت یونین کا دورہ نہیں کیا۔ پاکستان امریکا کا دفاعی اتحادی بنا۔ وزیر خارجہ سر ظفر اﷲ خان نے وفاقی کابینہ کی پیشگی مرضی معلوم کیے بغیر معاہدہ بغداد پر دستخط کیے۔
اس طرح پاکستان امریکا کا اسٹرٹیجک پارٹنر بنا۔ بڈبیڑ پشاور میں امریکا کو فوجی اڈا دیا گیا۔ امریکا نے لاکھوں ڈالر کی امداد دی جس سے مسلح افواج اور سول بیوروکریسی کے مزے آ گئے۔ ملک سیکیورٹی اسٹیٹ بنا اور مارکسٹ دانشور حمزہ علوی نے لکھا کہ ایک Invisible حکومت قائم ہوئی۔ امریکا نے نظر نہ آنے والی اس حکومت کی سرپرستی کی، کھل کر ایوب خان اور یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی۔
امریکا نے فوج کو جدید ہتھیار دیے۔ بیوروکریسی کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے امریکی یونیورسٹیوں کے دروازے کھل گئے۔ دائیں بازو کے سیاست دانوں کے لیے امریکی سفارتخانے کے دروازے کھل گئے، مگر امریکا اور بھارت کے بھی مشترکہ مفادات تھے، یوں امریکیوں نے واضح کیا کہ امریکی اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔
65ء کی جنگ کے بعد امریکا نے پاکستان اور بھارت کو دی جانے والی فوجی امداد بند کر دی۔ امریکا نے جنرل یحییٰ خان کو مشورہ دیا کہ وہ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل کریں مگر یحییٰ خان نے امریکی مشورے کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔ امریکا کے سابق صدر نکسن کی مداخلت پر بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنی فوج کے سربراہ جنرل مانک شاہ کو مغربی پاکستان پر قبضے کی اجازت نہیں دی۔ امریکا نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹم بم بنانے کے منصوبے کی مخالفت کی۔
امریکا کی ایما پر جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کیا اور مارشل لاء نافذ کیا۔ امریکا اور پاکستان نے مشترکہ طور پر افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف پروجیکٹ شروع کیا، اس پروجیکٹ سے منسلک جنرلوں نے اربوں ڈالر کمائے۔ سویلین اور خاص طور پر مذہبی جماعتوں کے وارے نیارے ہوئے۔ ڈاکٹر نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا افغانستان سے چلا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی پالیسی اختیار کی اور بعض جنرلوں نے دنیا بھر میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ امریکی طالبان حکومت کے قیام کے خلاف نہیں تھے مگر طالبان حکومت نے سعودی منحرف اسامہ بن لادن کی مدد کی۔ اسامہ نے اپنے جانثاروں کے ذریعے نائن الیون کی دہشتگردی کو منظم کیا تو امریکا نے طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے جنرل پرویز مشرف سے تعاون مانگا۔ پاکستان 1948ء سے امریکا کا اتحادی تھا، یوں طالبان حکومت کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا۔
جنرل مشرف کی ناقص پالیسی کے نتیجے میں کابل میں لڑی جانے والی جنگ کراچی تک پہنچ گئی۔ پاکستان کے افغانستان اور امریکا سے تعلقات خراب ہونے لگے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں اپنی ناقص پالیسی کو یوں سراہا کہ پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی مداخلت کو روکنے کے لیے طالبان کی مدد کی۔
امریکی فوجی اور سول افسروں نے 2005ء سے یہ الزام لگانا شروع کیا کہ اسامہ پاکستان میں روپوش ہے اور افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کوئٹہ اور چمن کے درمیان متحرک ہے۔ امریکی حکومت اور کانگریس نے پہلا کیری لوگر بل منظور کر کے عسکری اسٹیبلشمنٹ سے متعلق پہلی دفعہ اپنی نئی پالیسی واضح کی، پھر ایوان نمایندگان اور سینیٹ میں پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کی تحریکیں پیش ہونے لگیں۔ 2010ء میں ایبٹ آباد سے اسامہ برآمد ہوئے۔
طالبان کے امیر ملا منصور پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تو پتہ چلا کہ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تھا اور کراچی کے علاقے گلشن اقبال اور سہراب گوٹھ سے متصل علاقے میں ایک فلیٹ کے مالک تھے۔صدر ٹرمپ کے اس ڈاکٹرائن سے پہلے پاکستان کے ایران، افغانستان اور بھارت سے تعلقات خرابی کی کئی حدود پھلانگ گئے۔
کویت نے پاکستانیوں پر 10 سال سے زائد عرصے سے عائد ویزا پابندیوں کو ختم کرنے سے انکار کیا۔ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای امریکا کی نئی پالیسی پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے امریکا سے صرف دفاعی نوعیت کے تعلقات نہیں ہیں، بلکہ تعلیم، صحت، تجارت غرض ہر شعبے میں پاکستان کی معیشت امریکا سے منسلک ہے۔ لاکھوں پاکستانی امریکا میں آباد ہیں اور لاکھوں امریکا کا ویزا حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان سات ممالک میں شامل ہے جس کے باشندے امریکا میں آباد ہیں، یوں محض سڑکوں پر نعرے لگانے اور ٹاک شوز میں جذباتی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے یہ جذباتی بیان دے کر سنجیدہ حلقوں کو مایوس کیا کہ پاکستان ویتنام اور کمبوڈیا بن جائے گا۔ کاش رضا ربانی ویتنام اور کمبوڈیا کی کمیونسٹ حکومتوں کا ذکر کرتے اور یہ بھی بتا دیتے کہ ان دونوں ممالک کی معیشت اور سماجی زندگی کسی طور امریکا سے منسلک نہیں تھی۔
اس وقت ملک کو ایک مضبوط سیاسی حکومت کی ضرورت ہے جو افغانستان، ایران، بھارت اور امریکا سے مذاکرات شروع کرے۔ پاکستان کے خاص طور پر افغانستان سے تعلقات بحال ہوں۔ امریکا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی شکایات کو دور کریں۔ 50ء کی دہائی میں ہمارے رہنماؤں نے صرف امریکا کا اتحادی بننے کی تاریخی غلطی کی تھی جس کی سزا یہ ملک بھگت چکا ہے۔ اب امریکا سے تعلقات ختم کرنے اور صرف کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کی پالیسی خطرناک ہو گی۔
امریکی صدر ٹرومین نے سوچ بچار کے بعد دوسری جنگ عظیم میں مداخلت کی۔ جرمنی اور جاپان کے خلاف برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جنگ میں کامیابی کے باوجود برطانوی سلطنت غروب ہونا شروع ہوئی۔ امریکا نے دنیا کی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے خطے میں قدم جمانا شروع کیے۔ محمد علی جناح نے سب سے پہلے امریکا کے اس نئے کردار کو قبول کیا اور اپنی 11 اگست 1947ء کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں صدارتی تقریر میں امریکا کا شکر ادا کیا اور امریکی حکومت کو خط بھیجا کہ امریکا ہماری مسلح افواج کی تنظیم نو میں مدد کرے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان امریکا کے دورے پر گئے۔ انھوں نے بعض دیگر وجوہات کی بنا پر سوویت یونین کا دورہ نہیں کیا۔ پاکستان امریکا کا دفاعی اتحادی بنا۔ وزیر خارجہ سر ظفر اﷲ خان نے وفاقی کابینہ کی پیشگی مرضی معلوم کیے بغیر معاہدہ بغداد پر دستخط کیے۔
اس طرح پاکستان امریکا کا اسٹرٹیجک پارٹنر بنا۔ بڈبیڑ پشاور میں امریکا کو فوجی اڈا دیا گیا۔ امریکا نے لاکھوں ڈالر کی امداد دی جس سے مسلح افواج اور سول بیوروکریسی کے مزے آ گئے۔ ملک سیکیورٹی اسٹیٹ بنا اور مارکسٹ دانشور حمزہ علوی نے لکھا کہ ایک Invisible حکومت قائم ہوئی۔ امریکا نے نظر نہ آنے والی اس حکومت کی سرپرستی کی، کھل کر ایوب خان اور یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی۔
امریکا نے فوج کو جدید ہتھیار دیے۔ بیوروکریسی کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے امریکی یونیورسٹیوں کے دروازے کھل گئے۔ دائیں بازو کے سیاست دانوں کے لیے امریکی سفارتخانے کے دروازے کھل گئے، مگر امریکا اور بھارت کے بھی مشترکہ مفادات تھے، یوں امریکیوں نے واضح کیا کہ امریکی اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔
65ء کی جنگ کے بعد امریکا نے پاکستان اور بھارت کو دی جانے والی فوجی امداد بند کر دی۔ امریکا نے جنرل یحییٰ خان کو مشورہ دیا کہ وہ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل کریں مگر یحییٰ خان نے امریکی مشورے کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔ امریکا کے سابق صدر نکسن کی مداخلت پر بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنی فوج کے سربراہ جنرل مانک شاہ کو مغربی پاکستان پر قبضے کی اجازت نہیں دی۔ امریکا نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹم بم بنانے کے منصوبے کی مخالفت کی۔
امریکا کی ایما پر جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کیا اور مارشل لاء نافذ کیا۔ امریکا اور پاکستان نے مشترکہ طور پر افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف پروجیکٹ شروع کیا، اس پروجیکٹ سے منسلک جنرلوں نے اربوں ڈالر کمائے۔ سویلین اور خاص طور پر مذہبی جماعتوں کے وارے نیارے ہوئے۔ ڈاکٹر نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا افغانستان سے چلا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی پالیسی اختیار کی اور بعض جنرلوں نے دنیا بھر میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ امریکی طالبان حکومت کے قیام کے خلاف نہیں تھے مگر طالبان حکومت نے سعودی منحرف اسامہ بن لادن کی مدد کی۔ اسامہ نے اپنے جانثاروں کے ذریعے نائن الیون کی دہشتگردی کو منظم کیا تو امریکا نے طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے جنرل پرویز مشرف سے تعاون مانگا۔ پاکستان 1948ء سے امریکا کا اتحادی تھا، یوں طالبان حکومت کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا۔
جنرل مشرف کی ناقص پالیسی کے نتیجے میں کابل میں لڑی جانے والی جنگ کراچی تک پہنچ گئی۔ پاکستان کے افغانستان اور امریکا سے تعلقات خراب ہونے لگے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں اپنی ناقص پالیسی کو یوں سراہا کہ پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی مداخلت کو روکنے کے لیے طالبان کی مدد کی۔
امریکی فوجی اور سول افسروں نے 2005ء سے یہ الزام لگانا شروع کیا کہ اسامہ پاکستان میں روپوش ہے اور افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کوئٹہ اور چمن کے درمیان متحرک ہے۔ امریکی حکومت اور کانگریس نے پہلا کیری لوگر بل منظور کر کے عسکری اسٹیبلشمنٹ سے متعلق پہلی دفعہ اپنی نئی پالیسی واضح کی، پھر ایوان نمایندگان اور سینیٹ میں پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کی تحریکیں پیش ہونے لگیں۔ 2010ء میں ایبٹ آباد سے اسامہ برآمد ہوئے۔
طالبان کے امیر ملا منصور پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تو پتہ چلا کہ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تھا اور کراچی کے علاقے گلشن اقبال اور سہراب گوٹھ سے متصل علاقے میں ایک فلیٹ کے مالک تھے۔صدر ٹرمپ کے اس ڈاکٹرائن سے پہلے پاکستان کے ایران، افغانستان اور بھارت سے تعلقات خرابی کی کئی حدود پھلانگ گئے۔
کویت نے پاکستانیوں پر 10 سال سے زائد عرصے سے عائد ویزا پابندیوں کو ختم کرنے سے انکار کیا۔ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای امریکا کی نئی پالیسی پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے امریکا سے صرف دفاعی نوعیت کے تعلقات نہیں ہیں، بلکہ تعلیم، صحت، تجارت غرض ہر شعبے میں پاکستان کی معیشت امریکا سے منسلک ہے۔ لاکھوں پاکستانی امریکا میں آباد ہیں اور لاکھوں امریکا کا ویزا حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان سات ممالک میں شامل ہے جس کے باشندے امریکا میں آباد ہیں، یوں محض سڑکوں پر نعرے لگانے اور ٹاک شوز میں جذباتی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے یہ جذباتی بیان دے کر سنجیدہ حلقوں کو مایوس کیا کہ پاکستان ویتنام اور کمبوڈیا بن جائے گا۔ کاش رضا ربانی ویتنام اور کمبوڈیا کی کمیونسٹ حکومتوں کا ذکر کرتے اور یہ بھی بتا دیتے کہ ان دونوں ممالک کی معیشت اور سماجی زندگی کسی طور امریکا سے منسلک نہیں تھی۔
اس وقت ملک کو ایک مضبوط سیاسی حکومت کی ضرورت ہے جو افغانستان، ایران، بھارت اور امریکا سے مذاکرات شروع کرے۔ پاکستان کے خاص طور پر افغانستان سے تعلقات بحال ہوں۔ امریکا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی شکایات کو دور کریں۔ 50ء کی دہائی میں ہمارے رہنماؤں نے صرف امریکا کا اتحادی بننے کی تاریخی غلطی کی تھی جس کی سزا یہ ملک بھگت چکا ہے۔ اب امریکا سے تعلقات ختم کرنے اور صرف کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کی پالیسی خطرناک ہو گی۔