پروفیشنلز کیلیے فیس کی بینکنگ چینلز سے وصولی یقینی بنانے پر غور

وکلا ڈاکٹر و دیگر کی آمدنی کے حوالے سے مس رپورٹنگ کوفوجداری جرم قراردینے کی تجویز کا بھی جائزہ

ٹیکس چوری روکنے کیلیے بینکنگ ودیگرچینلز کی نگرانی کاموثرنظام متعارف کرانے پربھی غورکیا جا رہاہے،دستاویز۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے وکلا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، ڈاکٹرز، ڈریس ڈیزائنرز اور آرکیٹکچرز سمیت دیگر تمام پروفیشنلز سے ٹیکس وصولی یقینی بنانے کیلیے چیک، پے آرڈر اور ڈیمانڈ ڈرافٹ سمیت دیگر بینکنگ چینل سے فیس کی وصولی کو لازمی قرار دینے کی تجویز کا جائزہ لیناشروع کردیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسر نے بتایا کہ قومی احتساب بیوروکی خصوصی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری کی جانب سے کی تجویز پر پروفیشنلز کی آمدنی کی مانیٹرنگ کیلیے موثر نظام متعارف کروانے پر غور ہورہا ہے جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی اس حوالے سے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ تمام طبقوں سے ان کی آمدنی کے مطابق ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جاسکے۔


''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق نیب کی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تجویز دی ہے کہ فیشن ڈیزائنر،ڈریس ڈیزائنر،ڈاکٹرز،انجینئرز، وکلاء،اٹارنیز،آرکیٹیکس، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور کنسلٹنٹس کی آمدنی کی مانیٹرنگ اور اسے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے اور اس کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو فیشن ڈیزائنر،ڈریس ڈیزائنر،ڈاکٹرز،انجینئرز، وکلا، اٹارنیز، آرکیٹیکس، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور کنسلٹنٹس کیلیے بینکنگ چینلز کے ذریعے فیس کی وصولی کو لازمی قرار دے اور اس کے علاوہ ٹیکس قوانین میں بھی مزید ترامیم بھی کی جائیں۔ جس کے تحت ایسی شقیں متعارف کروائی جائیں جس کے تحت فیشن ڈیزائنر،ڈریس ڈیزائنر، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، اٹارنیز، آرکیٹیکس، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور کنسلٹنٹس کی جانب سے فیسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کی مس رپورٹنگ کو فوجداری جرم قرار دیا جائے اور مس رپورٹنگ کرنے والے پروفیشنلز کو فوجداری مجرم قرار دے کر ان کے خلاف فوجداری مقدمے قائم کیے جائیں اور انہیں سزائیں و جرمانے بھی فوجداری مقدمات کے تحت ہی دی جائیں۔

اس کیلیے متعلقہ قوانین میں ترمیم کی جاسکتی ہیں اور اصل آمدنی کا پتہ چلانے اور ان کی مانیٹرنگ کیلیے وکلا، چارٹر اکاؤنٹنٹنس، ڈاکٹر، ڈریس ڈیزائنرز اور آرکیٹیکچرز سمیت دیگر تمام پروفیشنل سے ٹیکس وصولی یقینی بنانے کیلیے چیک، پے آرڈر اور ڈیمانڈ ڈرافٹ سمیت دیگر بینکنگ چینل سے فیس کی وصولی کو لازمی قراردیا جائے۔ اس بارے میں ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم حتمی فیصلہ باہمی مشاورت کے ساتھ ہوگا۔
Load Next Story