جولائی و اگست میں ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال 25 ارب روپے سے تجاوز

رواں مالی سال کے ابتدائی 2ماہ میں393ارب کی وصولیاں کی گئیں،اگست میں208ارب، جولائی میں185ارب روپے رہیں

پرال افسران کی باہمی چپقلش و تنازعات بڑی وجوہ، ناکامی کاملبہ کراچی میں حالیہ بارشوں پر ڈال دیاگیا،ایف بی آرذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے رواں مالی سال2017-18 کے پہلے 2ماہ (جولائی/اگست) کے دوران ٹیکس وصولیوں کا شارٹ فال 25 ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے جبکہ صرف گزشتہ ماہ کے دوران ریونیو شارٹ فال میں 12 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ روز تک موصول ہونے والے ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق فیڈل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 393 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں جن میں سے گزشتہ ماہ (اگست) کے دوران 208ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں جبکہ اس سے قبل جولائی کے دوران مجموعی طور پر 185ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی گئی تھیں جو گزشتہ مالی سال 2016-17کے پہلے ماہ (جولائی)کے دوران حاصل ہونے والی مجموعی طور پر 160ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں اگرچہ زیادہ تھیں مگر رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی)کے لیے مقرر کردہ 200 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 15ارب روپے کم تھیں اور جولائی میں ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال 15 ارب روپے کے لگ بھگ تھا جو گزشتہ ماہ (اگست) بڑھ کر 27 ارب روپے ہوگیا ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ (اگست2017)کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مجموعی طور پر 208 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں جو اگست کے لیے مقرر کردہ 220 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 12ارب روپے کم ہیں۔ اس طرح رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال27ارب روپے رہا ہے جبکہ نئے چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا نے اپنی تقرری کے فوری کے بعد کمشنرز کانفرنس بھی طلب کی اور فیلڈ فارمشنز کو خصوصی ہدایات بھی جاری کیں جس میں کہا گیا کہ ریونیو شارٹ فال کو ابھی پورا کیا جائے کیونکہ اگر اس میں اضافہ ہوا تو رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں مشکل پیدا ہوگی تاہم اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ریونیو شارٹ فال کی ایک بڑی وجہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹد (پرال) کے افسران کی آپسی لڑائی اور تنازعات بھی ہیں۔

سابق چیئرمین ایف بی آر نے اپنے آخری دنوں میں پرال کے کچھ افسران کو بطور خاص پرال کی خصوصی بورڈ میٹنگ بلا کر ترقی دی تھی جس کے باعث افسران میں گروپ بندی ہے اور اس گروپ بندی کی وجہ سے سسٹم میں نقائص دور نہیں ہورہے ہیں اورٹیکس دہندگان کو ٹیکس گوشوارے جمع کروانے میں بھی مشکلات درپیش آرہی ہیں اور انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ ہونے کے باعث ان گوشواروں کے ساتھ آنے والا ریونیو بھی اتنا نہیں آپارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی پرال کے افسران نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے معاملہ کراچی میں آنے والی حالیہ بارشوں پر ڈال دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارشوں کی وجہ سے سسٹم کام نہیں کررہا ہے اور وہاں سے پورا ریونیو نہیں آسکا ہے اس وجہ سے شارٹ فال ہے اور رواں ماہ (ستمبر) یہ ریونیو آجائے گا جبکہ ایف بی آر ذرائع کے مطابق رواں ماہ بھی ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا مہنیہ ہے اور اس دوران بھی اگر پرال افسران کی گروپ بندی جاری رہی تو ٹیکس دہندگان کو ٹیکس گوشوارے داخل کروانے میں مشکلات برقرار رہیں گی اور اس سے ایف بی آر کا ریونیو بھی متاثر ہوگا۔
Load Next Story