امریکامیںبیروزگاری کی شرح بڑھ کر83فیصدہوگئی
توقعات سے زیادہ1لاکھ63ہزارملازمتوںکی فراہمی کے باوجودشرح بیروزگاری میں اضافہ
توقعات سے زیادہ1لاکھ63ہزارملازمتوںکی فراہمی کے باوجودشرح بیروزگاری میں اضافہ ، فوٹو فائل
امریکا میں جولائی کے دوران توقعات سے بھی بڑھ کر ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے مگر اس کے باوجود بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ امریکی محکمہ محنت سے جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی نجی شعبے نے گزشتہ ماہ 1لاکھ63 ہزار افراد کو ملازمتیں فراہم کیں مگر بیروزگاری کی شرح 8.2 فیصد سے بڑھ کر 8.3 فیصد ہوگئی۔
توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی معیشت ملازمتوں کے ایک لاکھ مواقع فراہم کرے گی۔ ماہر اقتصادیات نیجل گائولٹ نے کہاکہ یہ ملازمتوں کے حوالے سے اچھی خبرہے، رپورٹ سے امریکا کے پھر سے کسادبازاری کا شکار ہونے کے خدشات زائل ہو جائیں گے۔ محکمہ محنت کے مطابق جولائی میں خدمات، خوراک ومشروبات اور پیداواری شعبے نے زیادہ ملازمتیں فراہم کیں،
1 لاکھ 63 ہزار ملازمتوں کی فراہمی کے باوجود بیروزگاری کی شرح میں اضافے کا مطلب ہے کہ امریکی لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والوں کے مقابلے میں ملازمتوں کے کم مواقع فراہم کیے گئے۔
توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی معیشت ملازمتوں کے ایک لاکھ مواقع فراہم کرے گی۔ ماہر اقتصادیات نیجل گائولٹ نے کہاکہ یہ ملازمتوں کے حوالے سے اچھی خبرہے، رپورٹ سے امریکا کے پھر سے کسادبازاری کا شکار ہونے کے خدشات زائل ہو جائیں گے۔ محکمہ محنت کے مطابق جولائی میں خدمات، خوراک ومشروبات اور پیداواری شعبے نے زیادہ ملازمتیں فراہم کیں،
1 لاکھ 63 ہزار ملازمتوں کی فراہمی کے باوجود بیروزگاری کی شرح میں اضافے کا مطلب ہے کہ امریکی لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والوں کے مقابلے میں ملازمتوں کے کم مواقع فراہم کیے گئے۔