بطورنگراں وزیراعظم اپنے نام کی مخالفت کرتی ہوںعاصمہ جہانگیر
موجودہ حالات میں عہدہ لینے کامطلب الزام سرلیناہے،مجھ سے کوئی پارٹی خوش نہیں
ملک کی قسمت قلمکاربدل سکتے ہیں،کراچی لٹریچرفیسٹیول میں ’’ایکسپریس‘‘سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ بار کی سابق صدرعاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات سب کے سامنے ہیں اس کے باوجود کراچی میں ادبی سرگرمیوں کا باقاعدگی سے ہونا خوشی کی بات ہے۔
ملک کی قسمت کو قلمکار مل کر بدل سکتے ہیں،بطور نگراں وزیراعظم اپنے نام کی مخالفت کرتی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں نمائندہ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت کے لیے میرا نام بطور وزیراعظم پاکستان مختلف حلقوں میں لیا جارہا ہے، میں اسکی مخالفت کرتی ہوں۔ ملک اس وقت جس دور سے گزررہا ہے اس میں کوئی عہدہ لینے کا مطلب اپنے سر الزامات لینے والی بات ہے، ویسے بھی مجھ سے کوئی پارٹی خوش نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر میں بطور وزیراعظم اپنا نام دیتی بھی تو ایم کیو ایم میری مخالفت کرتی اور میں یہ نہیں چاہتی کہ پاکستان کا وزیراعظم ایسا ہو کہ جس سے کوئی ایک بھی پارٹی ناخوش ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ کام کرنے کا عزم رکھتے ہوں انھیں کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں ہمیشہ سے اپنے ملک کی ترقی کے لیے سوچتی رہی ہوں اور آئندہ بھی اس کی بہتری کے لیے سوچتی رہوںگی۔ ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے، یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لینا چاہیے۔
ملک کی قسمت کو قلمکار مل کر بدل سکتے ہیں،بطور نگراں وزیراعظم اپنے نام کی مخالفت کرتی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں نمائندہ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت کے لیے میرا نام بطور وزیراعظم پاکستان مختلف حلقوں میں لیا جارہا ہے، میں اسکی مخالفت کرتی ہوں۔ ملک اس وقت جس دور سے گزررہا ہے اس میں کوئی عہدہ لینے کا مطلب اپنے سر الزامات لینے والی بات ہے، ویسے بھی مجھ سے کوئی پارٹی خوش نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر میں بطور وزیراعظم اپنا نام دیتی بھی تو ایم کیو ایم میری مخالفت کرتی اور میں یہ نہیں چاہتی کہ پاکستان کا وزیراعظم ایسا ہو کہ جس سے کوئی ایک بھی پارٹی ناخوش ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ کام کرنے کا عزم رکھتے ہوں انھیں کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں ہمیشہ سے اپنے ملک کی ترقی کے لیے سوچتی رہی ہوں اور آئندہ بھی اس کی بہتری کے لیے سوچتی رہوںگی۔ ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے، یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لینا چاہیے۔