پاک افغان خوشگوار تعلقات…وقت کی ضرورت

افغان صدر کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے

افغان صدر کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے ۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد دارلحکومت کابل کے صدارتی محل میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کو کشیدہ تعلقات کے خاتمے کے لیے جامع سیاسی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے' ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریے پر ہو' خطے کی سلامتی کی خاطر منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ انھوں نے طالبان کو بھی امن کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں لیکن وہ کسی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔

افغان صدر کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے جس کا بہرصورت خیرمقدم کیا جانا چاہیے لیکن انھوں نے یہ دعوت صرف تقریر کی حد تک دی ہے پاکستانی حکومت کو سرکاری سطح پر باضابطہ طور پر یہ دعوت نہیں دی گئی' اس لیے پاکستانی حکومت کو بھی انتظار ہے کہ افغان صدر باضابطہ طور پر سیاسی مذاکرات کا ڈول ڈالیں تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اس کے خاتمے کے لیے مناسب حل تلاش کیا جا سکے۔ ستمبر 2014ء میں اشرف غنی نے افغانستان کا صدر منتخب ہونے کے بعد بھی پاکستان کے بارے میں ایسے ہی نیک خیالات کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا' ان کے ان اقدامات کے باعث یہ امید بندھی کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک عرصہ سے جاری کشیدہ تعلقات جلد ہی ختم ہو جائیں گے اور پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں پیش رفت ہو گی۔

لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اشرف غنی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور انھوں نے بھی سابق صدر حامد کرزئی کی روش پر چلتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی، انھوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب سے امن عمل کے لیے بار بار دی جانے والی دعوت سے اغماض برتنا شروع کر دیا بلکہ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیان بازی کا عمل معمول بنا لیا ' ان کے اس رویے سے یوں معلوم ہونے لگا کہ بھارت اور افغانستان خطے کی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے پاکستان کی مخالفت میں ایک نقطے پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ صورت حال کو بگڑنے سے بچانے کے لیے پاکستان نے افغانستان کو امن مذاکرات کی بار بار دعوت دی لیکن افغان حکومت نے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔افغان فورسز کی جانب سے سرحدوں پر کشیدہ صورت حال بھی پیدا کی گئی لیکن پاکستان نے معاملات کو نہایت زیرکی سے حل کیا۔


گزشتہ دنوں پاکستانی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے سیاسی مشاورت کے لیے کابل کا دورہ کیا اور صدر اشرف غنی سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے اس دورے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کو جامع سیاسی مذاکرات کی پیشکش اس جانب اہم پیش رفت ہے۔ افغان حکومت کو ادراک ہو ہی گیا ہے کہ طاقت کے ذریعے معاملات کو حل نہیں کیا جا سکتا باہمی مذاکرات ہی وہ واحد طریقہ کار ہے جس کے ذریعے امن کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا لیکن اس وقت افغان حکومت نے پاکستان کی ان کوششوں کو اہمیت نہیں دی جس کے باعث افغان امن عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ اب اشرف غنی کو اس کا ادراک ہو گیا ہے کہ مذاکرات کے بغیر معاملات بہتری کی جانب نہیں بڑھ سکتے اسی لیے انھوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کو بھی امن کی دعوت دی ہے۔ لیکن اس معاملے میں پیش رفت اس وقت ہی ہو گی جب افغان حکومت خلوص نیت سے اس پر عمل درآمد کرے گی۔ اس کے لیے افغان حکومت کو قدم آگے بڑھانا ہوگا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور بہتر تعلقات کے قیام کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیے جائیں جو کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کریں اور ایسی نوبت نہ آنے دیں کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان کشیدگی جنم لے۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا، ہرزہ سرائی یا الزامات کی سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہو گا۔
Load Next Story