خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملہ
ہمیں لندن سے دھمکیاں مل رہی ہیں، فاروق ستار
ہمیں لندن سے دھمکیاں مل رہی ہیں، فاروق ستار ۔ فوٹو : آن لائن
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن عیدالاضحی پر قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تاہم اس حملے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے ۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں خواجہ اظہارالحسن محفوظ رہے۔ واقعات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما نماز کراچی کے علاقے بفر زون میں نماز عید ادا کرنے کے بعد گھر واپس آرہے تھے کہ پہلے سے گھات لگائے موٹر سائیکل سواردو حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی۔ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے ٹوئٹر پر واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔
ایس ایس پی سینٹرل پیر محمد شاہ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد دو تھی جنہوں نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پی ایس پی کے سینیئر وائس چیئرمین ڈاکٹر صغیر احمد، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لندن سے دھمکیاں مل رہی ہیں، جب کہ جنوبی افریقا سے آنے والے معاملات بھی سب کے سامنے ہیں۔بہرحال خواجہ اظہار پر حملہ کھلی دہشت گردی اور کراچی کے حالات خراب کرنے کی سازش ہے۔گو وزیراعلیٰ سندھ اور فاروق ستار کی گفتگو سے بہت کچھ عیاں ہوتا ہے تاہم جب تک پورے ثبوت نہیں مل جاتے ، اس وقت تک کسی مخصوص جماعت یا شخصیت پر الزام محض الزام ہی کہلائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ کے اصل کرداروں تک پہنچا جائے اور انھیں بے نقاب کیا جائے۔
ایس ایس پی سینٹرل پیر محمد شاہ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد دو تھی جنہوں نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پی ایس پی کے سینیئر وائس چیئرمین ڈاکٹر صغیر احمد، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لندن سے دھمکیاں مل رہی ہیں، جب کہ جنوبی افریقا سے آنے والے معاملات بھی سب کے سامنے ہیں۔بہرحال خواجہ اظہار پر حملہ کھلی دہشت گردی اور کراچی کے حالات خراب کرنے کی سازش ہے۔گو وزیراعلیٰ سندھ اور فاروق ستار کی گفتگو سے بہت کچھ عیاں ہوتا ہے تاہم جب تک پورے ثبوت نہیں مل جاتے ، اس وقت تک کسی مخصوص جماعت یا شخصیت پر الزام محض الزام ہی کہلائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ کے اصل کرداروں تک پہنچا جائے اور انھیں بے نقاب کیا جائے۔