روہنگیا مسلمانوں پر مظالم
اس وقت غیر مصدقہ تاہم قابل اعتبار ذرائع کے مطابق برما میں 10لاکھ سے 13لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں
اس وقت غیر مصدقہ تاہم قابل اعتبار ذرائع کے مطابق برما میں 10لاکھ سے 13لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں ۔ فوٹو : فائل
برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں ہے' یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے اور اب اس میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ لاکھوں روہنگیا برما سے ہجرت کرکے دیگر مسلمان ملکوں میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں بھی برما کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے خاصا واویلا ہو رہا ہے' 2013ء میں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی ان قوموں میں شمار کیا ہے جن کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جا رہی ہے' 1982ء میں روہنگیا مسلمانوں کی بھاری اکثریت کو برما کی شہریت سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ روہنگیا مسلمانوں پر حالیہ فوجی کریک ڈاؤن کے بعد ان کی بڑی تعداد بنگلہ دیش میں پناہ کے لیے سرحد پر دھکے کھا رہی ہے' بہت سوں کو بنگلہ دیشی حکومت نے پناہ بھی دے دی ہے۔
اس سارے معاملے کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں اس مسئلے کو مسلمانوں کا مسئلہ توکہا جا رہا ہے لیکن اسے حل کرانے کے لیے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آ رہے' پاکستان کی حکومت اور یہاں کی سیاسی جماعتیں بھی صرف اپنے عوام کی جذباتی تسکین یا ان کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے اس مسئلے کا ذکر کرتے ہیں لیکن برمی حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر جس انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے' وہ نہیں کی جا رہی' دیگر مسلم ممالک میں بھی اخبارات کی حد تک شاید اس مسئلے کا ذکر ہو رہا ہو لیکن حکومتی سطح پر خاموشی ہے ۔ ادھر روہنگیا مسلمانوں کی کوئی متفقہ تنظیم بھی کم از کم پاکستان میں فعال نہیں ہے جو بتائے کہ ان کے مطالبات کیا ہیں اور وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے برمی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کی۔ یوں اس معاملے پر سوائے اخباری بیانات دینے کے کچھ نہیں ہو رہا یا پھر کچھ مذہبی اور سیاسی تنظیمیں ہیں جو روہنگیا مسلمانوں کے نام پر عوام سے چندہ یا قربانی کی کھالیں بٹور رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں دنیا بھر میں المیوں کے انتظار میں رہتی ہیں تاکہ چندہ مہم شروع کی جا سکے۔
اس وقت غیر مصدقہ تاہم قابل اعتبار ذرائع کے مطابق برما میں 10لاکھ سے 13لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں جب کہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں روہنگیا دوسرے ملکوں میں جا کر بس گئے ہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں بھی دو لاکھ کے قریب روہنگیا موجود ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ برما حکومت اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کی کوئی صورت نکالی جائے تاکہ جن روہنگیا کی شہریت منسوخ ہے ، وہ بحال ہوسکے ۔برما حکومت کی تو یہ پالیسی ہے کہ وہاں موجود دس یا تیرہ لاکھ روہنگیا ہجرت کر جائیں۔اس مسلے کا بہتر حل یہی ہے کہ اس معاملے پر برما حکومت سے بات کی جائے اور روہنگیا رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ اس مسلے کے حل کی کوئی صورت نکالی جا سکے۔
اس سارے معاملے کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں اس مسئلے کو مسلمانوں کا مسئلہ توکہا جا رہا ہے لیکن اسے حل کرانے کے لیے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آ رہے' پاکستان کی حکومت اور یہاں کی سیاسی جماعتیں بھی صرف اپنے عوام کی جذباتی تسکین یا ان کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے اس مسئلے کا ذکر کرتے ہیں لیکن برمی حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر جس انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے' وہ نہیں کی جا رہی' دیگر مسلم ممالک میں بھی اخبارات کی حد تک شاید اس مسئلے کا ذکر ہو رہا ہو لیکن حکومتی سطح پر خاموشی ہے ۔ ادھر روہنگیا مسلمانوں کی کوئی متفقہ تنظیم بھی کم از کم پاکستان میں فعال نہیں ہے جو بتائے کہ ان کے مطالبات کیا ہیں اور وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے برمی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کی۔ یوں اس معاملے پر سوائے اخباری بیانات دینے کے کچھ نہیں ہو رہا یا پھر کچھ مذہبی اور سیاسی تنظیمیں ہیں جو روہنگیا مسلمانوں کے نام پر عوام سے چندہ یا قربانی کی کھالیں بٹور رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں دنیا بھر میں المیوں کے انتظار میں رہتی ہیں تاکہ چندہ مہم شروع کی جا سکے۔
اس وقت غیر مصدقہ تاہم قابل اعتبار ذرائع کے مطابق برما میں 10لاکھ سے 13لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں جب کہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں روہنگیا دوسرے ملکوں میں جا کر بس گئے ہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں بھی دو لاکھ کے قریب روہنگیا موجود ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ برما حکومت اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کی کوئی صورت نکالی جائے تاکہ جن روہنگیا کی شہریت منسوخ ہے ، وہ بحال ہوسکے ۔برما حکومت کی تو یہ پالیسی ہے کہ وہاں موجود دس یا تیرہ لاکھ روہنگیا ہجرت کر جائیں۔اس مسلے کا بہتر حل یہی ہے کہ اس معاملے پر برما حکومت سے بات کی جائے اور روہنگیا رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ اس مسلے کے حل کی کوئی صورت نکالی جا سکے۔