ورلڈ الیون سے سیریز کیلیے سیکیورٹی حصار کو آہنی بنانے کی مہم شروع

آئی سی سی سیکیورٹی وفد آج قذافی اسٹیڈیم اور مہمان ٹیم کے ممکنہ روٹس کا جائزہ لے گا

میچز دیکھنے کیلیے 7ملکوں کے کرکٹ بورڈ سربراہوں کو دعوت نامے ارسال۔ فوٹو: فائل

ورلڈ الیون کیخلاف سیریز کیلیے سیکیورٹی حصارکوآہنی بنانے کی مہم شروع ہوگئی۔

پاکستان اورورلڈ الیون کے مابین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے تینوں مقابلے قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول کیے گئے ہیں، پہلا مقابلہ 12 ستمبرکوہوگا۔ ایونٹ کیلیے بھرپور تیاریاں کی جارہی ہیں،آئی سی سی سیکیورٹی ٹیم کا ایک رکن عید سے قبل لاہور آنے کے بعد واپس جاچکا، دیگرکی آمد گزشتہ روز ہوگئی۔

گزشتہ روز کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل نے دیگر حکام کے ہمراہ قذافی اسٹیڈیم کا دورہ کرتے ہوئے وینیو اور اطراف کی صورتحال کا جائزہ لیا، واسا افسران نے نکاسی آب کیلیے انتظامات دیکھے، منگل کو مہمان سیکیورٹی وفد کو قذافی اسٹیڈیم، ورلڈ الیون کے ممکنہ روٹس کا دورہ کروایا جائے گا، پی سی بی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بریفنگ دی جائیگی، سیف سٹی پراجیکٹ کا دورہ بھی کرایا جائے گا۔

قوی امکان ہے کہ ایک دو روزمیں قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں موجود ریسٹورنٹ اور دکانیں بند کروادی جائینگی،عام شہریوں کی آمد ورفت روک کر نشترپارک کے علاقے کوایک مضبوط قلعے میں تبدیل کرنے کا کام شروع ہوجائیگا، دوسری جانب میچزکیلیے آن لائن ٹکٹوں کی فروخت تیزی سے جاری ہے، شائقین کی جانب سے شکوے شکایتیں بھی سننے میں آرہی ہیں کہ ٹکٹ بک کروانے کا سسٹم پیچیدہ ہونے کی وجہ سے انھیں دقت ہورہی ہے۔


پی سی بی ذرائع کے مطابق کچھ ٹکٹیں ایک دو روز میں کسی نامزد بینک کی برانچز پربھی حاصل کی جاسکیں گی۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے میچز دیکھنے کیلیے 7ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے سربراہوں کو دعوت نامے ارسال کردیے ہیں،لاہور آنے والے ان مہمانوں کے تمام تر اخراجات بھی اٹھائے جائیں گے، یاد رہے کہ ورلڈ الیون میں 7ملکوں کے کرکٹرز شریک ہیں۔

بھارت پاکستان کیساتھ کرکٹ نہیں کھیلتا اس لیے میچ دیکھنے کیلیے دعوت نہیں دی، افغانستان کا کوئی کھلاڑی ورلڈ الیون کا حصہ نہیں اس لیے اس کو بھی بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق کپتان عمران خان سمیت سابق کرکٹرز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

دریں اثنا قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی بڑی خوش آئند بات ہے، اگلے 3 ماہ میں7 ٹی 20 میچز میزبانی سے نئی راہیں کھلیں گی، کرکٹرز اچھا کھیل پیش کرنے کیلیے بے تاب ہیں، امید ہے کہ شائقین بھی بھرپور سپورٹ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ قبل ازیں پرستار انٹرنیشنل کرکٹر اور اپنے ہیروز کو صرف ٹی وی پر دیکھتے تھے،اب اپنے میدان پر رنز بنتے،چوکے، چھکے لگتے اور وکٹیں گرتے دیکھیں گے،ایک شاندار ماحول کھلاڑیوں کا لہو بھی گرمائے گا۔

مکی آرتھر نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ کیلیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، ہیڈ کوچ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے بعد گرین شرٹس کو مسلسل بہتری کی جانب دیکھنا چاہتے ہیں،کارکردگی میں تسلسل کی بدولت ٹاپ ٹیموں میں جگہ بنانا ہدف ہے، پرجوش شائقین کی موجودگی میں کرکٹرز کا اپنا کھیل نکھارتے ہوئے اپنے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں لیکن اس کیلیے ضروری ہے کہ پاکستان کو انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کا موقع ملتا رہے۔

دوسری جانب فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شائقین طویل عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کے واپسی کے منتظر ہیں، یہ موقع ہے کہ شائقین ملکی کرکٹ کو سپورٹ کرنے کیلیے سٹیڈیم آئیں، عوام کا اس کھیل سے والہانہ لگاؤ دنیا دیکھے گی،میچز کا کامیابی سے انعقاد اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
Load Next Story