پاک فوج کے سربراہ کی دو ٹوک باتیں
پاکستان میں آئینی، قانونی اور جمہوری روایات کی مضبوطی ہم سب کی مضبوطی ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ
ملک بھر میں بدھ کو 52واں یوم دفاع ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ فوٹو: آئی این پی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیوں کے باوجود بھی ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری ترقی و کامیابی کا وقت ہے، قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے، دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمے داری ہے اور یہ حق ریاست کے پاس ہی رہنا چاہیے،آئیں ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں طاقت کا استعمال آئین و قانون کے مطابق صرف ریاست کے پاس ہو، جذبے کا تعلق صرف جنگ سے نہیں بلکہ قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے، فوج دہشتگردوں کو تو ختم کر سکتی ہے لیکن انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں آئینی، قانونی اور جمہوری روایات کی مضبوطی ہم سب کی مضبوطی ہے، آنیوالی نسلوں کا ہم پر حق ہے کہ ہم انکو دہشتگردی اور کرپشن سے پاک پاکستان دیں، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، دشمن کوئی بھی حربہ آزما لے ہم ہمیشہ متحد رہیں گے، ہم سے زیادہ وسائل رکھنے والے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے، بلوچستان کے غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشتگردوں، علیحدگی پسندوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ امریکا اور عالمی طاقتوں کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کا ذمے دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ہمارا دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔
ملک بھر میں بدھ کو 52واں یوم دفاع ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی جس آگ میں جل رہا ہے چند بھٹکے ہوئے لوگوں کے اس طرز عمل کی پورا پاکستان قیمت ادا کر رہا ہے، یوم دفاع پوری قوم سے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وطن عزیز کو دہشت گردوں سے پاک کر کے پرامن اور کامیابی کی روشن مثال بنا دیا جائے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو' قوم کا جذبہ، تعاون اور آگاہی ضروری ہے' دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے' اس لیے اس جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے پوری قوم کا متحد ہونا' عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔
پاک فوج نے ہر مشکل وقت میں جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت اور خدمت کا کام سرانجام دیا اور دہشت گردی کے خلاف جس بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی کام نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا۔ امریکا اپنے تمامتر وسائل' ٹیکنالوجی اور اتحادیوں کی فوج ظفر موج اکٹھی کرنے کے باوجود افغانستان میں دہشت گردوں پر قابو نہیں پا سکا اور آج بھی افغانستان کے ایک بڑے حصے پر اس کا کنٹرول نہیں' آئے دن جنگجو کارروائیاں کرکے امریکی اور اتحادی فوج کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ امریکا اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیتا ہے۔
بنظر غائر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ پاکستانی فوج نے انتہائی جرات اور بہادری سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی' آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے اب آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مزید قربانیاں دینا پڑیں گی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریںگے۔ پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر دہشت گردی اور دشمنوں کی جارحیت کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے کیونکہ یہ جنگ ہم سب کی بقا کی جنگ ہے اور وطن عزیز کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے اسے ہر صورت جیتنا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں آئینی، قانونی اور جمہوری روایات کی مضبوطی ہم سب کی مضبوطی ہے، آنیوالی نسلوں کا ہم پر حق ہے کہ ہم انکو دہشتگردی اور کرپشن سے پاک پاکستان دیں، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، دشمن کوئی بھی حربہ آزما لے ہم ہمیشہ متحد رہیں گے، ہم سے زیادہ وسائل رکھنے والے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے، بلوچستان کے غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشتگردوں، علیحدگی پسندوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ امریکا اور عالمی طاقتوں کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کا ذمے دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ہمارا دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔
ملک بھر میں بدھ کو 52واں یوم دفاع ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی جس آگ میں جل رہا ہے چند بھٹکے ہوئے لوگوں کے اس طرز عمل کی پورا پاکستان قیمت ادا کر رہا ہے، یوم دفاع پوری قوم سے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وطن عزیز کو دہشت گردوں سے پاک کر کے پرامن اور کامیابی کی روشن مثال بنا دیا جائے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو' قوم کا جذبہ، تعاون اور آگاہی ضروری ہے' دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے' اس لیے اس جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے پوری قوم کا متحد ہونا' عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔
پاک فوج نے ہر مشکل وقت میں جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت اور خدمت کا کام سرانجام دیا اور دہشت گردی کے خلاف جس بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی کام نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا۔ امریکا اپنے تمامتر وسائل' ٹیکنالوجی اور اتحادیوں کی فوج ظفر موج اکٹھی کرنے کے باوجود افغانستان میں دہشت گردوں پر قابو نہیں پا سکا اور آج بھی افغانستان کے ایک بڑے حصے پر اس کا کنٹرول نہیں' آئے دن جنگجو کارروائیاں کرکے امریکی اور اتحادی فوج کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ امریکا اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیتا ہے۔
بنظر غائر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ پاکستانی فوج نے انتہائی جرات اور بہادری سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی' آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے اب آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مزید قربانیاں دینا پڑیں گی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریںگے۔ پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر دہشت گردی اور دشمنوں کی جارحیت کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے کیونکہ یہ جنگ ہم سب کی بقا کی جنگ ہے اور وطن عزیز کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے اسے ہر صورت جیتنا ہے۔