بھارتی آرمی چیف کی ہرزہ سرائی

اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چین کے ساتھ بھارتی تنازعے سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے، بھارتی آرمی چیف

اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چین کے ساتھ بھارتی تنازعے سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے، بھارتی آرمی چیف۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے ساتھ بھارت کی ازلی دشمنی سے تو پورا زمانہ آگاہ ہے مگر ہندی چینی بھائی بھائی کا محاورہ کیوں عداوت میں تبدیل ہو گیا اس کی وجوہات میں ایک تودونوں ملکوں کا سرحدی جھگڑا ہے اور دوسری وجہ چین کی پاکستان سے دوستی ہے جس کے بارے میں ''ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری'' کے اسمائے صفت استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس پس منظر میں بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا جب کہ پاکستان کے علاوہ چین کے ساتھ بھی جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئی دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے ارونا چل پردیش میں ڈوکلام کے مسئلے پر اور مستقبل میں چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازعے کے حوالے سے اپنی فوج کے تفصیلی موقف کی وضاحت کی ہے۔ جنرل راوت کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ شمالی بارڈر پر بھارتی فوجی دستے مصروف عمل ہیں جب کہ انھوں نے الزام عائد کیا کہ چین بھارت سے ڈوکلام کا علاقہ چھیننے کے لیے پر تول رہا ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار ہونا چاہیے۔


بھارتی آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چین کے ساتھ بھارتی تنازعے سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے لہذا چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں اس ممکنہ جنگ سے نمٹنے کے لیے شمالی اور مغربی سرحدوں پر کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بھارتی آرمی چیف کی طرف سے چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت جنگ کرنے کی بات مبالغہ آرائی لگتی ہے کیونکہ بھارت کی اتنی پسلی نہیں ہے کہ وہ دو ایٹمی طاقتوں کے ساتھ اکٹھا ٹکرا سکے یہ تو بقول شاعر : دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے والا معاملہ لگتا ہے۔

اس کے باوجود پاکستان کو بھارتی فوجی تیاریوں اور بھارتی فوج کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ بھارتی عزائم ماضی کی نسبت بہت زیادہ توسیع پسندانہ ہو چکے ہیں۔ بھارت کو اب امریکا اور نیٹو کی حمایت بھی حاصل ہے جو اسے ماضی میں نہیں تھی' بھارت کے آرمی چیف کے بیان کو محض گیدڑ بھبکی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Load Next Story