ڈرافٹ کا ڈرامہ رچاکر کیا فائدہ ہوا

اب ڈرافٹ میں جو کرکٹرز منتخب ہوئے ان کا سن لیں، 160 بہترین کھلاڑی تو باہر ہو گئے

ڈرافٹ سے اچھا تو چار مہمان کھلاڑیوں والی پالیسی ہی برقرار رکھنا ہوتی۔ فوٹو: فائل

ڈومیسٹک کرکٹ سے چھیڑچھاڑ پی سی بی کے بعض افراد کا پسندیدہ مشغلہ ہے، شاید وہ اپنے آپ کومصروف اور قابل ظاہر کرنے کیلیے ہر سال نیا نظام بناتے ہیں پھر اپنی نااہلی کا ثبوت دیتے ہوئے اگلے سال خود اس میں خامیاں نکال کر نئی تبدیلی کر دیتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتاکہ جناب پچھلے سال تو آپ نے کہا تھا کہ نئے سسٹم سے کرکٹ بہترین ہو جائے گی پھر اسے کیوں بدل رہے ہیں؟

شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ زیادہ پھل پھول نہیں سکی، شکیل شیخ جیسے بعض مخصوص چہرے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے اور کھیل کا معیار مزید خراب ہوتا گیا، پھر اس کام میں ان کے ساتھ نجم سیٹھی کے منظور نظر ہارون رشید بھی شامل ہو گئے، ان دونوں نے مل کر ڈومیسٹک کرکٹ کو پھر تجربات کی بھٹی میں جھونک دیا۔

انھیں نئے چیئرمین کی بھی بھرپور سپورٹ حاصل رہی جو بدقسمتی سے کھیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، یہی اس ملک کا المیہ ہے یہاں کرکٹرز میڈیا میں کام کر رہے ہیں اور میڈیا والے کرکٹ بورڈ چلا رہے ہیں، چند ماہ قبل پی سی بی نے اعلان کیا کہ قائد اعظم ٹرافی میں بھی پی ایس ایل کی طرز پر ڈرافٹ سسٹم لایا جائے گا، ریجنز میں بہت سیاست ہے اور سفارشی کھلاڑی منتخب ہو جاتے ہیں، نئے نظام سے یہ مسئلہ حل اور مقابلے سے بھرپور ٹورنامنٹ ہوگا، مگر زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں، سب کچھ ویسا ہی رہا، زیادہ تر ٹیموں نے مقامی کھلاڑیوں کو ہی ترجیح دی۔

بورڈ نے رواں سیزن سے ڈومیسٹک کرکٹرز کو ماہانہ معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بھی اپنوں کو نوازنے کی بڑی وجہ ہے، اسے اگر پرفارمنس سے مشروط کریں تب ہی کچھ فائدہ ہوگا۔ نیا ڈرافٹ سسٹم فیل ہو گیا، جیسے لاہور کی ٹیموں میں حارث سہیل کے سوا شاید ہی کوئی اور دوسرے شہر کا کرکٹر شامل ہو، اسی طرح فیصل آباد کے 20 میں سے 18 کرکٹرز مقامی ہیں۔

اگر ایسا ہی کرنا تھا تو ریجنز کو ہی ٹیمیں منتخب کرنے دیتے، رہی بات سفارشی کرکٹرز کی تو یہ سسٹم بنانے والے شکیل شیخ ڈرافٹ میں بطور اسلام آباد کرکٹ نمائندہ موجود تھے، جب ایمرجنگ کرکٹر کی باری آئی تو انھوں نے ارسل شیخ کا نام لیا، اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ وہ شیخ صاحب کے صاحبزادے ہیں، قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی انھوں نے بطور ایمرجنگ کرکٹر اپنے بیٹے کو ہی چنا تھا، پھرفیصل آباد ریجن آفیشلزکے کانوں میں کسی نے جا کر کچھ سرگوشی کی تو انھوں نے ایمرجنگ کیٹیگری میں شکیل شیخ کے دوسرے بیٹے معید شیخ کو منتخب کر لیا، اس سے زیادہ اقربا پروری کیا ہوگی۔

معید نے اب تک20فرسٹ کلاس میچز میں 11کی اوسط سے427رنز بنائے ہیں، بورڈ نے ریجنز سے پہلے ہی کپتانوں کے نام مانگ لیے تھے مگر انھیں ڈرافٹنگ میں بلایا ہی نہیں گیا، کوچز کے ساتھ ریجنل صدور بیٹھے جوکلبزکے ووٹ چھن جانے کے خوف سے من پسند کھلاڑی بھی شامل کراتے رہے، قومی کرکٹ ٹیم کے ایک سابق منیجر جو خود کو خاصا بااصول کہتے تھے ان کی سفارش پر فیصل آباد کی ٹیم میں 38 سالہ عمار محمود کو جگہ دی گئی، 36سالہ عمران علی کا بھی انتخاب ہوا،اس طرح سفارشی کرکٹرز شامل نہ ہونے کے دعوے کا پول تو کھل گیا۔


اب ڈرافٹ میں جو کرکٹرز منتخب ہوئے ان کا سن لیں،8 ڈپارٹمنٹس نے 20،20 کھلاڑیوں کے نام دیے، یوں 160 بہترین کھلاڑی تو باہر ہو گئے، بعض ڈپارٹمنٹس کے پے رول پر 30سے40 کرکٹرز بھی شامل ہیں، محتاط اندازے کے مطابق 200 پلیئرز تو ڈرافٹ کیلیے دستیاب نہ تھے،12،12نام ریجنز نے دیے یوں 96 کرکٹرز اور باہر ہوئے، یوں تقریباً300 اہم کرکٹرز کے نام ڈرافٹ میں شامل ہی نہیں ہوئے، اب جو کھلاڑی باقی بچے انھیں اپنے ریجنز کے سوا اور کون جانتا تھا۔

بورڈ نے فہرست میں کسی کھلاڑی کی کارکردگی نہیں دی صرف نام لکھے، جیسے میں لاہور کرکٹ کا آفیشل ہوں میرے سامنے اسلام آباد کے غیرمعروف کھلاڑیوں کی فہرست ہے تو میں کیسے کسی کو منتخب کرتا، کارکردگی کا تو پتا ہی نہیں تھا، اسی لیے سب نے اپنے اپنے پلیئرزکو ترجیح دی، کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعجاز فاروقی نے سب سے پہلے ڈرافٹ سسٹم کیخلاف آواز اٹھائی ، اب ان کے عہدے کی معیاد مکمل ہو چکی تو سزا دینے کیلیے پی سی بی پوری کوشش کر رہا ہے کہ انھیں دوبارہ منتخب نہ ہونے دیا جائے،ان کی راہ میں مسلسل کانٹے بچھائے جا رہے ہیں، ڈرافٹ میں شہر کے کئی باصلاحیت کرکٹرز نظر انداز ہو گئے ۔

کراچی کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی زبیر نذیرخان نے اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی دی ہے، کئی عمر رسیدہ ایسے کرکٹرز جن کا کوئی مستقبل نہیں انھیں منتخب کر لیا گیا،اول تو ڈرافٹ سسٹم رکھنا ہی نہیں چاہیے تھا، اگر رکھا بھی تو اس میں ریجنز کے صدور کی جگہ کپتان اور کوچ کو ٹیم منتخب کرنے کا اختیار دیتے، اس سے کچھ تو بہتری آتی، ملک بھر سے ریجنز کے آفیشلز اور کوچز کو لاہور بلایا گیا، ان کی آمدورفت، رہائش وغیرہ پر بھی فضول میں بھاری رقم خرچ ہوئی۔

ڈرافٹ سے اچھا تو چار مہمان کھلاڑیوں والی پالیسی ہی برقرار رکھنا ہوتی، مگر بورڈ کے بااختیار لوگ بغیر سوچے سمجھے فیصلے کر جاتے ہیں،ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر تک کو ڈرافٹ سسٹم کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا گیا، رہی بات مقابلے سے بھرپور کرکٹ کی تو وہ آپ دیکھ لیجیے گا، اس بار بھی ڈپارٹمنٹس اور ریجنز میں بڑا فرق نظر آئے گا، ایک طرف اسٹارز سے بھرپور اور دوسری جانب بیشترغیرمعروف کرکٹرزپر مشتمل ٹیمیں ہوں گی۔

اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں حقیقتاً بہتری لانی ہے تو سابق عظیم کھلاڑیوں کو بلا کر تجاویز لیں، ایک ٹیسٹ یا ون ڈے بھی نہ کھیلے ہوئے لوگ ملکی کرکٹ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔نجم سیٹھی نے بدقسمتی سے اب تک اچھی ٹیم نہیں بنائی، ابتدا میں ہی ان سے کئی غلط فیصلے ہو گئے ہیں، جیسے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا اعلان کر کے بار باراسے موخر کرنا،کھلاڑیوں کو ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سے بلالیا گیا مگر ایونٹ ملتوی ہو گیا۔

اب جو تاریخیں رکھی ہیں اس میں جنوبی افریقہ اور بنگلادیش کی لیگز ہونا ہیں،وہاں بھی نہ جا کر پلیئرز کا بھاری مالی نقصان اور بورڈ کے تعلقات الگ خراب ہوں گے، بغیر سوچے سمجھے کیے گئے فیصلوں میں یہی ہوتا ہے، ابھی تو ورلڈالیون کی وجہ سے دیگر مسائل سے توجہ ہٹی ہوئی ہے مگرجلد ہی عجلت میں کیے گئے غلط اقدامات کے نقصانات سامنے آئیں گے، تب شاید بہت دیر ہو چکی ہو،دیکھتے ہیں چیئرمین صاحب کچھ ایکشن لیتے ہیں یا زبانی دعوؤں سے ہی بہلاتے رہیں گے۔
Load Next Story