جامعہ کراچی کے 21 مکانوں پر کئی سال سے ریٹائر ملازمین قابض

رہائشی مکانات واگزارکرانے کے حوالے سے کوئی حکمت عملی طے نہیں کی جاسکی، ہائوس الاٹنمنٹ کمیٹی

قبضہ کیے گئے گھروں کی تعداد 21 سے بھی زیادہ ہے، انتظامیہ کو گھر خالی کرانے کیلیے فوری پالیسی بنانی ہو گی، ڈاکٹر شکیل فاروقی۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں21 مکانوں پر تاحال رٹائر ملازمین قابض ہیں ان میں تدریسی وغیرتدریسی دونوں کیٹگری کے ریٹائرملازمین شامل ہیں جن سے جامعہ کراچی کی انتظامیہ گھر واگزار کرانے میں بظاہر ناکام نظرآرہی ہے۔

جامعہ کراچی کے مکانات پر قبضوں کا انکشاف گزشتہ روز کوٹرینوور ٹریک سسٹم پر کام کرنے والے قائم مقام رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹرمنوررشید کے دفتر میں ہائوس الائوٹنمنٹ کمیٹی کے بعض اراکین کے منعقدہ غیر رسمی اجلاس میں کیا گیا۔ یہ اجلاس جامعہ کراچی انصارشریعہ نامی تنظیم کے افرادکی سرگرمیوں کے تناظرمیں بلایا گیا تھا، اجلاس میں ریٹائرڈملازمین سے گھرخالی کرانے کا معاملہ زیر غورآیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کچھ ملازمین ایسے ہیں جو گزشتہ 5سال یااس سے بھی زائد عرصے سے ریٹائرمنٹ کے باوجود گھروں پر قابض ہیں اورگھرخالی کرنے کو تیار نہیں جبکہ بعض غیرتدریسی ملازمین ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنے گھراوراس کا کچھ حصہ تک کرائے پر دے رکھا ہے، ان ملازمین سے جامعہ کراچی کی سابقہ انتظامیہ گھرخالی نہیں کرا سکی اورموجودہ انتظامیہ بھی 6ماہ گزرنے کے باوجود رہائشی مکانات واگزار کرانے کے حوالے سے کوئی حکمت عملی طے نہیں کر سکی۔


یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب نے اپنے دورسربراہی میں ایک سابق وائس چانسلرکی جانب سے گھرخالی نہ کرنے پر ان کے گھرکی بجلی کاٹ دی تھی تاہم سابقہ یا موجودہ انتظامیہ اس حوالے سے کوئی بڑاقدم اٹھانے سے قاصر ہے۔

''ایکسپریس'' کو ذرائع نے بتایا کہ گھروں پر قابض جن ملازمین کی فہرست اجلاس میں شرکاکے حوالے کی گئی،ان میں کئی برس قبل ریٹائرہونے والے جامعہ کراچی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالرحمٰن ذکی ،شعبہ فلسفہ کے پروفیسر ظہورالحسن بابر ،سابق رئیس کلیہ فارمیسی ڈاکٹرغزالہ پروین، شعبہ جغرافیہ کی پروفیسر عذرا پروین، شعبہ مائیکروبیالوجی کے پروفیسرایس ایم خالد،کئی برس قبل عہدے سے سبکدوش کیے گئے۔ سابق ڈائریکٹر فنانس مسعود عباس، قسیم طاہرہ، نگہت سرور، اختیار عباس، رشید شاہ، کوثرعلی صدیقی، عابدہ شاہین، قاسم الدین، سابق اکائونٹنٹ عبدالباری، جبران میاں ،ارشاد حسین،حسنین میاں، راشد مرزا، حسین فاطمہ، حلیمہ، جاوید اقبال، روحیل، عبدالوہاب کے علاوہ دیگرملازمین بھی شامل ہیں۔

ادھرانجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدرڈاکٹرشکیل فاروقی نے اس معاملے پر ''ایکسپریس'' کے رابطہ کرنے پرکہاکہ اگرتحقیق کی جائے توان سرکاری گھروں کی تعداد 21 سے بھی زیادہ ہے جن پر قابضین موجود ہیں جوجامعہ کراچی کی شرائط پوری کیے بغیر غیرقانونی طورپرمقیم ہیں،دوسری جانب حاضرسروس تدریسی وغیرتدریسی ملازمین اپنی باری کے منتظرہیں انتظامیہ کواس حوالے سے فوری اورجامع پالیسی بنانی ہو گی۔
Load Next Story