تیسرا ٹیسٹ فاسٹ بولرز کی جنت سنچورین میں ہوگا
ماہرین کو عرفان سے تباہ کن بولنگ کی توقع، واٹمور اور اکرم کارکردگی سے مطمئن۔
ماہرین کو عرفان سے تباہ کن بولنگ کی توقع، واٹمور اور اکرم کارکردگی سے مطمئن۔ فوٹو : فائل
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ فاسٹ بولرز کی جنت سنچورین میں ہوگا۔
میزبان نے یہاں ہمیشہ ایسی پچز بنائیں جو پیسرزکیلیے بیحد سازگار رہیں، اسی وجہ سے گذشتہ سیزنز میں بھارت اور سری لنکا کو اننگز سے شکست دیں، مگر اب ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی پیس اٹیک خصوصاً محمد عرفان کی وجہ سے ایسا کرتے ہوئے اسے کئی بار سوچنا ہو گا، تیز پچ پر طویل القامت بولر کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے استعمال کا موقع ملے گا۔
یقیناً جنوبی افریقہ ایسا نہیں چاہے گا مگر دنیائے کرکٹ کی خواہش ہے کہ وہ تباہی مچاتے دکھائی دیں، عرفان نے کیپ ٹائون میں ڈیبیو ٹیسٹ کے دوران کارکردگی سے سب ہی کو بیحد متاثر کیا،انھوں نے پہلی اننگز میں 3 وکٹیں لیں تاہم دوسری میں کسی پلیئر کو آئوٹ نہ کر سکے، البتہ اس دوران ان کی بولنگ اچھی رہی۔
لمبے قد کا عرفان کو نقصان بھی ہوا اور انھوں نے 8 نو بالز کیں، اس میں سے ایک پر وہ وکٹ سے بھی محروم رہے، ایک بار پچ پر رننگ کی وجہ سے امپائر نے بھی ان سے بات کی، کوچ ڈیو واٹمور نے اس حوالے سے کہا کہ عرفان کا کھیل میرے لیے اطمینان بخش رہا ، اس نے خاصی محنت کی، یہ اس کے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ اور کنڈیشنز بھی سازگار نہ تھیں مگر پیسر نے ثابت کر دیا کہ اس میں دم خم موجود ہے۔
بولنگ کوچ محمد اکرم نے عرفان کے بارے میں کہا کہ وہ سخت محنت کرنے والا کرکٹر ہے، اس کے منہ سے واحد جملہ جو سننے کو ملا وہ یہی ہے کہ '' مجھے بولنگ سے محبت ہے''میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اس کی بولنگ سے لطف اندوزہوتی ہے، پہلے ٹیسٹ میں بھی اس کا کھیل مناسب رہا، جیسے جیسے وہ کھیلتا رہا کارکردگی میں نکھار آتا جائے گا۔
میزبان نے یہاں ہمیشہ ایسی پچز بنائیں جو پیسرزکیلیے بیحد سازگار رہیں، اسی وجہ سے گذشتہ سیزنز میں بھارت اور سری لنکا کو اننگز سے شکست دیں، مگر اب ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی پیس اٹیک خصوصاً محمد عرفان کی وجہ سے ایسا کرتے ہوئے اسے کئی بار سوچنا ہو گا، تیز پچ پر طویل القامت بولر کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے استعمال کا موقع ملے گا۔
یقیناً جنوبی افریقہ ایسا نہیں چاہے گا مگر دنیائے کرکٹ کی خواہش ہے کہ وہ تباہی مچاتے دکھائی دیں، عرفان نے کیپ ٹائون میں ڈیبیو ٹیسٹ کے دوران کارکردگی سے سب ہی کو بیحد متاثر کیا،انھوں نے پہلی اننگز میں 3 وکٹیں لیں تاہم دوسری میں کسی پلیئر کو آئوٹ نہ کر سکے، البتہ اس دوران ان کی بولنگ اچھی رہی۔
لمبے قد کا عرفان کو نقصان بھی ہوا اور انھوں نے 8 نو بالز کیں، اس میں سے ایک پر وہ وکٹ سے بھی محروم رہے، ایک بار پچ پر رننگ کی وجہ سے امپائر نے بھی ان سے بات کی، کوچ ڈیو واٹمور نے اس حوالے سے کہا کہ عرفان کا کھیل میرے لیے اطمینان بخش رہا ، اس نے خاصی محنت کی، یہ اس کے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ اور کنڈیشنز بھی سازگار نہ تھیں مگر پیسر نے ثابت کر دیا کہ اس میں دم خم موجود ہے۔
بولنگ کوچ محمد اکرم نے عرفان کے بارے میں کہا کہ وہ سخت محنت کرنے والا کرکٹر ہے، اس کے منہ سے واحد جملہ جو سننے کو ملا وہ یہی ہے کہ '' مجھے بولنگ سے محبت ہے''میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اس کی بولنگ سے لطف اندوزہوتی ہے، پہلے ٹیسٹ میں بھی اس کا کھیل مناسب رہا، جیسے جیسے وہ کھیلتا رہا کارکردگی میں نکھار آتا جائے گا۔