قانون نافذ کرنیوالے ادارے کب تک خاموش رہیں گے
ملک میں پیش آنے والے واقعات مسلکی منافرت کا شاخسانہ ہرگز نہیں
متحدہ بین المسلمین فورم کے صدر مولانا تنویرالحق تھانوی کی پریس کانفرنس فوٹو : ایکسپریس
متحدہ بین المسلمین فورم پاکستان کے صدر مولانا تنویرالحق تھانوی نے کہا ہے کہ مسلکوں کی جنگ چھیڑکرحلال و حرام اور اسلام و کفر کی حدوں تک پہنچانے کا یہ عمل ان ہی لوگوں کا ہے جو پہلے ہی قیام پاکستان کے مخالف تھے۔
پھر پاکستان بننے کے بعد یہ لوگ ملک کی بقا و سلامتی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے ہیں، اگر کراچی سے خیبر اور گلگت بلتستان تک اور تمام صوبوں میں ایک ایک پاکستانی مسلمان اپنی اپنی مسلکی شناخت کو سرینڈر کرکے کم سے کم اتنے شیر و شکر ہوجائیں جس طرح بھارت کے تمام مسلکی مسلمان اپنے مدمقابل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواراور مضبوط چٹان کی مانند آج اپنی دھرتی کی سلامتی اور معاشی استحکام کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کا حالیہ اور گزشتہ المناک سانحات سمیت کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں پیش آنے والے واقعات شیعہ سنی جھگڑے اور باہمی منافرت کا شاخسانہ ہرگز نہیں، خاص طور پر ہزارہ برادری کے سیکڑوں مرد و خواتین بوڑھوں اور نوجوانوں کے ساتھ بچوں کا قتل عام خالص تعصب اور علاقائی دہشت گردی کا کھلے عام مظاہرہ ہے، اس قسم کے حیا سوز اور سفاکانہ ہتھکنڈوں سے صوبہ ہزارہ کی انتظامی نوعیت کی تقسیم و تشکیل کی راہ میں بدترین رکاوٹ ڈالنے کی انتہائی کوششوں سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
متحدہ بین المسلمین فورم پاکستان کے نمائندے حکومت پاکستان سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کب تک مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کیے رکھیں گے، قوم و ملک کا اربوں کھربوں روپے ان اداروں کے اہلکاروں پر خرچ کیا جاتا ہے آخر وہ اپنی کارکردگی کیوں نہیں دکھاتے؟، انھوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے باعث متاثرین کے شدید مطالبے کے باعث ایمرجنسی نافذ کرکے گورنر راج بھی بظاہر ناکام ہی نظرآیا ہے لہٰذا کراچی میں اب اس قسم کا مطالبہ کرنے کا کوئی جواز بظاہر سمجھ میں نہیں آتا،انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کوئٹہ کے ملزمان کو گرفتار کرکے انھیں عبرتناک سزا دی جائے۔
پھر پاکستان بننے کے بعد یہ لوگ ملک کی بقا و سلامتی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے ہیں، اگر کراچی سے خیبر اور گلگت بلتستان تک اور تمام صوبوں میں ایک ایک پاکستانی مسلمان اپنی اپنی مسلکی شناخت کو سرینڈر کرکے کم سے کم اتنے شیر و شکر ہوجائیں جس طرح بھارت کے تمام مسلکی مسلمان اپنے مدمقابل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواراور مضبوط چٹان کی مانند آج اپنی دھرتی کی سلامتی اور معاشی استحکام کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کا حالیہ اور گزشتہ المناک سانحات سمیت کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں پیش آنے والے واقعات شیعہ سنی جھگڑے اور باہمی منافرت کا شاخسانہ ہرگز نہیں، خاص طور پر ہزارہ برادری کے سیکڑوں مرد و خواتین بوڑھوں اور نوجوانوں کے ساتھ بچوں کا قتل عام خالص تعصب اور علاقائی دہشت گردی کا کھلے عام مظاہرہ ہے، اس قسم کے حیا سوز اور سفاکانہ ہتھکنڈوں سے صوبہ ہزارہ کی انتظامی نوعیت کی تقسیم و تشکیل کی راہ میں بدترین رکاوٹ ڈالنے کی انتہائی کوششوں سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
متحدہ بین المسلمین فورم پاکستان کے نمائندے حکومت پاکستان سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کب تک مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کیے رکھیں گے، قوم و ملک کا اربوں کھربوں روپے ان اداروں کے اہلکاروں پر خرچ کیا جاتا ہے آخر وہ اپنی کارکردگی کیوں نہیں دکھاتے؟، انھوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے باعث متاثرین کے شدید مطالبے کے باعث ایمرجنسی نافذ کرکے گورنر راج بھی بظاہر ناکام ہی نظرآیا ہے لہٰذا کراچی میں اب اس قسم کا مطالبہ کرنے کا کوئی جواز بظاہر سمجھ میں نہیں آتا،انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کوئٹہ کے ملزمان کو گرفتار کرکے انھیں عبرتناک سزا دی جائے۔