غیر ملکی سرمایہ کاروں کا نئے کمپنیز ایکٹ پر تحفظات کا اظہار

اوورسیزانویسٹرزچیمبرکے وفدکی قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی سے ملاقات،کمپنیز ایکٹ 2017 پر 10اعتراضات پیش کردیے

شق 208،452،244،155،166،172،180،153کے انویسٹرز پرمنفی اثرات کا خدشہ، ظفر عبداللہ نے حل کایقین دلادیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نئے کمپنیز ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

اوورسیزانویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے وفد نے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم کی سربراہی میں ایس ای سی پی کے قائم مقام چیئرمین ظفر عبداللہ سے ملاقات کی، اس موقع پر ایس ای سی پی کے کمشنر طاہر محمود بھی موجودتھے۔ ملاقات کے دوران عبدالعلیم نے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایس ای سی پی کی قیادت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اوآئی سی سی آئی ممبران کی جانب سے کمپنی ایکٹ2017کے حوالے سے 10اہم خدشات کو پیش کیا جو براہ راست غیرملکی سرمایہ کاروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اوآئی سی سی آئی نے پاکستان کے کاروباری ماحول کے حوالے سے غیرملکی سرمایہ کاروں کے تصور کوبہتر بنانے کے لیے مسلسل، شفاف اور متوقع طویل مدتی پالیسیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر ایس ای سی پی کے قائم مقام چیئرمین ظفر عبداللہ نے نئے متعارف کرائے گئے کمپنی ایکٹ 2017کے کچھ حصوں کو فوری نافذ کرنے پر اپنے خدشات اورعملی دشواریوں کونمایاں کرنے پر او آئی سی سی آئی کو سراہا۔ اوورسیزانویسٹرز چیمبر نے سیکشن 208 کے تحت متعلقہ پارٹی کی ٹرانزیکشن کی وسیع گنجائش، سیکشن 452کے تحت بینیفیشل اونر شپ کی گلوبل رجسٹریشن جسے او آئی سی سی آئی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے امتیازی اور انتہائی منفی تصور کرتی ہے۔


سیکشن 244کے تحت 3 سال تک ان کلیمڈ رہنے والے حصص اور ڈیویڈنڈ کو حکومت کی تحویل میں دے دینا جو حصص یافتہ گان کے ساتھ انتہائی غیر مناسب ہے اور خطے کے ترقی پذیر ممالک کے مطابق نہیں ہے جیسے کلیدی معاملات کے ساتھ سیکشن155، 166(ڈائریکٹر شپ کی تعداد/ آزاد ڈائریکٹرکے انتخاب)، سیکشن 172 (معطلی کے احکام)، سیکشن 180 (ڈائریکٹرز اور آفیسرز کے قرضوں کی تفصیل) اور سیکشن 153(مخصوص افراد کا ڈائریکٹر بننے کے لیے عدم استحقاق) جیسے سیکشنز پر اپنے خدشات سے ایس ای سی پی کو آگاہ کیا۔

ایس ای پی کے چیئرمین ظفر عبداللہ اور کمشنر طاہر محمود نے او آئی سی سی آئی کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو حل کرنے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ایس ای سی پی کے دائرہ کارکے اندر آنے والے کچھ مسائل کو قانون کے مطابق جلد ہی حل کیا جائے گا جبکہ دیگر معلامات کو بھی ریگولیٹرزکی رضامندی سے قانون سازی کے ذریعے جلدحل کیا جائے گا، اس دوران کمپنیز ایکٹ 2017کی دفعات کے مطابق کاروباری اداروں کی کچھ واضح عملی شقوں کی تعمیل کیلیے ٹائم لائنز کو ختم کر کے سہولت فراہم کی جائیگی۔

اس موقع پر اوآئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ہمیشہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خدشات کو اہمیت دی ہے اور آج کی ملاقات ایس ای سی پی کی کوششوں کی ایک اور مثال ہے جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو مدد ملے گی۔
Load Next Story