ہاکس بے پر 12افراد کی المناک موت
کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے ایک ہی خاندان کے 12افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے
کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے ایک ہی خاندان کے 12افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے . فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے ایک ہی خاندان کے 12افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ انھیں اتوار کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری' پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری' وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت کی دعا کی۔
ہاکس بے پر پیش آنے والے اس سانحہ پر افسوس کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے المناک واقعات اتنی کثرت سے کیوں پیش آتے رہتے ہیں' گزشتہ ماہ بھی کراچی کے سمندر میں شہریوں کی بڑی تعداد ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ سندھ حکومت نے سمندر میں نہانے پر دفعہ 144نافذ کر رکھی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو شہری قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ انتظامیہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
آج کل کے موسم میں سمندر کی لہروں میں تیزی آنے کے باعث حادثات کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے' ایسی صورت حال میں شہریوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ساحل پر پکنک مناتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کریں اور دور ہی سے اس کے نظارے سے لطف اندوز ہوں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ہاکس بے کے ساحل پر لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے کم از کم 30 لائف گارڈز تعینات ہیں مگر حیرت انگیز امر ہے کہ کوئی بھی اہلکار اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دینے کے لیے آمادہ نہیں۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں مختلف ٹریفک حادثات' سمندر' دریا یا ندی نالوں میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دہشتگردی کی نذر ہونے والے افراد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ہر سال سیکڑوں افراد ان حادثات کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ہفتے کو لیہ کے قریب ایک ٹریکٹر ٹرالی نے باراتیوں سے بھری ایک وین کو روند ڈالا جس سے اس میں سوار10افراد جاں بحق اور 14زخمی ہوگئے۔ جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو حکمران اظہار افسوس کے جملے بول کراور انتظامیہ کو ذمے دار قرار دے کر اپنی کارکردگی دکھاتے اور ہر قسم کی ذمے داری سے بری ہو جاتے ہیں اور وقتی طور پر اپنی ان ''پھرتیوں'' کے بعد معاملات کو درست کرنا بھول جاتے ہیں۔
اگر حکمران خلوص نیت سے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان افسوسناک حادثات میں نمایاں کمی آ سکتی اور ہر سال جو ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ان حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں انھیں بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن عوام کے مسائل سے بے حسی اور لاپروائی حکمران طبقے کا معمول بن چکا ہے انھوں نے کبھی سسٹم کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آخر ایسا کیوں ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق کرپٹ اور غیرمربوط نظام ہی حکمرانوں کو راس آتا ہے اور نظام کی بہتری میں انھیں اپنا اقتدار ڈولتا نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تمام تر قوانین اور وسائل ہونے کے باوجود ملک بھر میں پھیلی بدنظمی اور افراتفری کے مظاہر عام ہیں۔ انھی عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر سیاستدان الیکشن مہم چلاتے ہیں اس کے سوا ان کے پاس ملکی ترقی اور خوشحالی کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا۔
میڈیا ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ کی توجہ بار بار اس جانب مبذول کرا چکا ہے لیکن نظام اس قدر بگڑ چکا ہے کہ انتظامیہ بھی اس جانب سے بے حس اور بے پروا ہو چکی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی جانب سے ہونے والی بے ضابطگیوں کے باعث ٹریفک حادثات روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ گاڑیوں کی شکستہ حالی، ڈرائیورز کی تیز رفتاری اور زیادہ پیسے کے حصول کے لیے اوور ٹائم ڈیوٹی ٹریفک حادثات کا ایک بڑا سبب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد ساحل سمندر پر پکنک منانے کے لیے جاتی ہے مگر وہاں ایسے حادثات رونما نہیں ہوتے جیسے ہمارے ہاں معمول بن چکے ہیں۔
اس کی ایک وجہ وہاں کے شہریوں کی جانب سے قانون پر عملدرآمد اور ذمے داری کا احساس ہونا بھی ہے۔ کراچی میں ساحل پر آنے والے شہری بھی چونکہ خطرات کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہوتے اور بے دھڑک سمندر میں نہانے کے لیے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر المناک سانحے جنم لیتے ہیں' حکومتی نا اہلی اور شہریوں کی غیر ذمے داری کے باعث کراچی کے ساحلوں پر آئے روز المیے جنم لیتے ہیں لیکن ان کے سدباب کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا' حالیہ سانحے پر بھی چند روز بیانات جاری ہوں گے' شہری بھی خوفزدہ ہوں گے لیکن اس کے بعد بے حسی' بے پروائی اور نااہلیت کا بھوت دوبارہ اپنا کام شروع کر دے گا۔
کراچی کے ساحل ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے ایک ہی خاندان کے 12افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ انھیں اتوار کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری' پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری' وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت کی دعا کی۔
ہاکس بے پر پیش آنے والے اس سانحہ پر افسوس کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے المناک واقعات اتنی کثرت سے کیوں پیش آتے رہتے ہیں' گزشتہ ماہ بھی کراچی کے سمندر میں شہریوں کی بڑی تعداد ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ سندھ حکومت نے سمندر میں نہانے پر دفعہ 144نافذ کر رکھی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو شہری قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ انتظامیہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
آج کل کے موسم میں سمندر کی لہروں میں تیزی آنے کے باعث حادثات کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے' ایسی صورت حال میں شہریوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ساحل پر پکنک مناتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کریں اور دور ہی سے اس کے نظارے سے لطف اندوز ہوں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ہاکس بے کے ساحل پر لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے کم از کم 30 لائف گارڈز تعینات ہیں مگر حیرت انگیز امر ہے کہ کوئی بھی اہلکار اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دینے کے لیے آمادہ نہیں۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں مختلف ٹریفک حادثات' سمندر' دریا یا ندی نالوں میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دہشتگردی کی نذر ہونے والے افراد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ہر سال سیکڑوں افراد ان حادثات کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ہفتے کو لیہ کے قریب ایک ٹریکٹر ٹرالی نے باراتیوں سے بھری ایک وین کو روند ڈالا جس سے اس میں سوار10افراد جاں بحق اور 14زخمی ہوگئے۔ جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو حکمران اظہار افسوس کے جملے بول کراور انتظامیہ کو ذمے دار قرار دے کر اپنی کارکردگی دکھاتے اور ہر قسم کی ذمے داری سے بری ہو جاتے ہیں اور وقتی طور پر اپنی ان ''پھرتیوں'' کے بعد معاملات کو درست کرنا بھول جاتے ہیں۔
اگر حکمران خلوص نیت سے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان افسوسناک حادثات میں نمایاں کمی آ سکتی اور ہر سال جو ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ان حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں انھیں بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن عوام کے مسائل سے بے حسی اور لاپروائی حکمران طبقے کا معمول بن چکا ہے انھوں نے کبھی سسٹم کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آخر ایسا کیوں ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق کرپٹ اور غیرمربوط نظام ہی حکمرانوں کو راس آتا ہے اور نظام کی بہتری میں انھیں اپنا اقتدار ڈولتا نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تمام تر قوانین اور وسائل ہونے کے باوجود ملک بھر میں پھیلی بدنظمی اور افراتفری کے مظاہر عام ہیں۔ انھی عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر سیاستدان الیکشن مہم چلاتے ہیں اس کے سوا ان کے پاس ملکی ترقی اور خوشحالی کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا۔
میڈیا ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ کی توجہ بار بار اس جانب مبذول کرا چکا ہے لیکن نظام اس قدر بگڑ چکا ہے کہ انتظامیہ بھی اس جانب سے بے حس اور بے پروا ہو چکی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی جانب سے ہونے والی بے ضابطگیوں کے باعث ٹریفک حادثات روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ گاڑیوں کی شکستہ حالی، ڈرائیورز کی تیز رفتاری اور زیادہ پیسے کے حصول کے لیے اوور ٹائم ڈیوٹی ٹریفک حادثات کا ایک بڑا سبب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد ساحل سمندر پر پکنک منانے کے لیے جاتی ہے مگر وہاں ایسے حادثات رونما نہیں ہوتے جیسے ہمارے ہاں معمول بن چکے ہیں۔
اس کی ایک وجہ وہاں کے شہریوں کی جانب سے قانون پر عملدرآمد اور ذمے داری کا احساس ہونا بھی ہے۔ کراچی میں ساحل پر آنے والے شہری بھی چونکہ خطرات کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہوتے اور بے دھڑک سمندر میں نہانے کے لیے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر المناک سانحے جنم لیتے ہیں' حکومتی نا اہلی اور شہریوں کی غیر ذمے داری کے باعث کراچی کے ساحلوں پر آئے روز المیے جنم لیتے ہیں لیکن ان کے سدباب کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا' حالیہ سانحے پر بھی چند روز بیانات جاری ہوں گے' شہری بھی خوفزدہ ہوں گے لیکن اس کے بعد بے حسی' بے پروائی اور نااہلیت کا بھوت دوبارہ اپنا کام شروع کر دے گا۔