دہشت گردی کے خلاف اشتراک عمل کی ضرورت
کوئٹہ میں صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی دہشت گردی کا واحد سبب نہیں،یہ اجتماعی پسپائی اور مشترکہ ہزیمت ہے۔
خواتین، بچے اور دیگر افراد اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر رو رہے ہیں۔ ۔فوٹو : اے ایف پی
GILGIT:
سانحہ کوئٹہ کے درد انگیز مضمرات اوراثرات سے ملکی سیاست اور معمولات زندگی جس بڑے پیمانہ پر درہم برہم ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آئی جی بلوچستان کو تبدیل کردیا اور ٹارگیٹڈ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے وفد نے کوئٹہ پہنچ کر متاثرین سانحہ سے بات چیت شروع کی، جب کہ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جائے گا۔ان سرگرمیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پورے ملک سے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ میںدہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن بھی شروع ہو گیا ہے۔ ادھر دہشت گردوں نے غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی قوم کو مزید کچوکے لگائے اور کراچی اور پشاور میں پیر کو دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں کیں ۔
سانحہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات کے مختلف پہلوئوں پر غور کرنے کی ضرورت پر میڈیا میں مختلف آپشنز کا حوالہ دیا جارہا ہے جس میں امن وامان قائم رکھنے اور دہشت گردی کے واقعات کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت خفیہ ایجنسیوں کو ملفوف انداز میں ہدف تنقید بنایا جارہا ہے اور ارباب اختیار کھل کر اس حقیقت کا اظہارنہیں کرپاتے کہ کس ایجنسی کی ناکامی کے باعث کوئٹہ یا ملک کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کامیابی سے سر انجام پا گئیں جب کہ امن وامان کے حوالے سے اس بنیادی حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امن وامان صوبائی مسئلہ ہے، صوبے کے گورنر اور پولیس اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے اشتراک عمل سے ایک فیصلہ کن کریک ڈائون کرسکتے ہیں ،صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی دہشت گردی کا واحد سبب نہیں ، یہ اجتماعی پسپائی اور مشترکہ ہزیمت ہے،جو چشم کشا ہونی چاہیے، اس میں دیگر عوامل کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ایک دہشت انگیز اینٹی ٹیرر میکنزم کی ضرورت ہے ۔
کوئٹہ ،کراچی،اور خیبر پختونخوا کی صورتحال خاصی گھمبیر، پیچیدہ،اور اعصاب شکن ہے جہاں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے مروجہ قوانین کے نفاذ، علاقے میں وفاقی و صوبائی حکومت کی رٹ،داخلی دور افتادہ اور قبائلی علاقوںمیں پولیس کی رسائی کے انتظامی اور قانونی سقم، دشواریوں، سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنے پر بھی سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔ جنرل پرویزمشرف لاکھ برے ڈکٹیٹر تھے مگر اس نے فاٹا اور کوئٹہ کے قبائلی علاقوں میںمختلف فورسز کی قانونی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نو گو ایریاز ختم کرائے اور قانون کا اطلاق کرایا جس سے نسبتاً دہشت گردی تھمی مگر بعد میںجب دہشت گردوں ، فرقہ وارانہ گروپوں، اور کالعدم تنظیموں نے ملک میں جنگل کا قانون نافذ کیا تو خیبر پختونخوا،کراچی اور کوئٹہ سب لپیٹ میں آگئے۔
پولیس ،آئی بی، ایف آئی اے، سی آئی ڈی ،بشمول اسپیشل برانچ عضومعطل بنائے گئے ۔چنانچہ شاہراہ فیصل پر گورا قبرستان کے قریب زوردار بم دھماکا ہوا،شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگاموں کے دوران شرپسندوں نے 7 گاڑیاں نذر آتش کردیں،نامعلوم افراد کی فائرنگ سے10افراد ہلاک اور خاتون سمیت17زخمی ہوگئے۔ پشاورمیںخیبرایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر خودکش حملہ میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 افراد جاں بحق اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لنڈی کوتل ممتازکنڈی سمیت 10 زخمی ہوگئے جن میں 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ادھرسانحہ کوئٹہ شہر کی فضاء سوگوار رہی ،خواتین، بچے اور دیگر افراد اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر روتے رہے ۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف شیعہ علماء کونسل کی اپیل پرپشاور،اسلام آباد، کراچی سمیت مختلف شہروں میں پیر کو بھی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے کہاکہ شیعہ اور سنی کے مابین اختلافات کو فروغ دیکربیرونی قوتیں ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں حکومت کو دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیے۔انھوں نے دھمکی دی کہ اگر فوری طور پر قتل وغارت گری کا یہ سلسلہ نہ رکا تو وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائینگے۔ وکلا برادری نے پاکستان بار کونسل کی کال پرمکمل عدالتی بائیکاٹ کیا اور یوم سوگ منایا ۔ بائیکاٹ کی کال پاکستان بارکونسل نے دی تھی جس کا مقصدکوئٹہ میں جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔
صدر آصف زرداری نے گورنرکوہدایت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پرفوج کی بھی مدد لی جائے ۔ وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایاہے کہ حکومت ظالموں کو جہنم واصل کرکے ہی دم لے گی ۔ صدر آصف علی زرداری نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کو ٹیلی فون کرکے کوئٹہ دھماکے کانشانہ بننے والے افراد کے لواحقین کی ہرممکن امداد اور اس سانحہ میں ملوث عناصرکی گرفتاری کے لیے ہرممکن اقدامات کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کا ازخود نوٹس لے لیا ،اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی طلب کر لیا۔
ازخود نوٹس رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹ پر لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ باچا خان چوک اور علمدار روڈ پر بم دھماکے میں 93 افرادجاں بحق اور 120 زخمی ہوئے جس کے نتیجے میں صوبے میں گور نر راج نافذ کیا گیا لیکن اس دوران ایک اور دھماکا ہوا جس میں 83جان بحق اور 200زخمی ہوئے۔ نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں اور وہ جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کررہے ہیں، سیاسی اور مذہبی حلقے کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ کوئٹہ پر شدید احتجاج کیا ۔ ارباب اختیار یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھیں کہ سانحہ کوئٹہ درد ناک تھا اور اس ضمن میں مظاہرین کے مطالبات کے پس پردہ کوئی مزموم عزائم نہیں ہوسکتے کیونکہ ایک پوری برادری پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ بلوچستان میں کئی عامل سرگرم عمل ہیں،وہاں مزاحمت کاروں نے بھی قتل وغارت کا بازار گرم کررکھا ہے۔
بلوچستان کے عوام کے دکھ کو وفاقی اور صوبائی حکومت شیئر کرے،متاثرہ برادری کے جائز مطالبات بلا تاخیر مان لیے جائیں تاکہ وہ اذیت سے نکل سکیں ۔امن قائم ہونا چاہیے۔خدارا ! خوںریزی بند ہونی چاہیے۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف شیعہ علماء کونسل کی اپیل پرپشاور،اسلام آباد، کراچی سمیت مختلف شہروں میں پیر کو بھی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے کہاکہ شیعہ اور سنی کے مابین اختلافات کو فروغ دیکربیرونی قوتیں ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں حکومت کو دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیے۔
امید کی جانی چاہیے کہ حکمران کوئٹہ سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کریں گے جس کی بنیاد قانون کی اٹل حکمرانی کے قیام کے عہد پر ہو۔ بلوچستان میں شورش ،دہشت گردی،مختلف سیاسی،مذہبی،فرقہ وارانہ اور غیرملکی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے طویل سائے پھیلے ہوئے ہیں ،اس خطے میں بد باطن عالمی قوتیں پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے کے گھنائونے منصوبوںپر عمل پیرا ہیں، ارباب اختیار کو کراچی، خیبر پختونخوا اور کوئٹہ میں دہشتگردی ، عدم استحکام،سماجی بدنظمی اور انارکی کو ہوا دینے والے عناصر کے عزائم سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور ملک دشمن عناصرقبل اس کے کہ ملکی سالمیت کوکسی قسم کا نقصان پہنچائیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اشتراک عمل اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان کا سر کچل دیں تاکہ آیندہ کسی کو وطن عزیز میں قتل و غارت اور دہشت گردی کی جرات نہ ہو۔لیکن اس کے لیے قانون کا اطلاق اور جزا وسزا کو یقینی بنانے کے لیے دھرتی پر موجود بدامنی کی ہر کوشش کا قلع قمع کرنے کا عہد کیا جائے۔اب بیانات اور طفل تسلیوں کا وقت گزر گیا۔
سانحہ کوئٹہ کے درد انگیز مضمرات اوراثرات سے ملکی سیاست اور معمولات زندگی جس بڑے پیمانہ پر درہم برہم ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آئی جی بلوچستان کو تبدیل کردیا اور ٹارگیٹڈ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے وفد نے کوئٹہ پہنچ کر متاثرین سانحہ سے بات چیت شروع کی، جب کہ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جائے گا۔ان سرگرمیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پورے ملک سے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ میںدہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن بھی شروع ہو گیا ہے۔ ادھر دہشت گردوں نے غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی قوم کو مزید کچوکے لگائے اور کراچی اور پشاور میں پیر کو دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں کیں ۔
سانحہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات کے مختلف پہلوئوں پر غور کرنے کی ضرورت پر میڈیا میں مختلف آپشنز کا حوالہ دیا جارہا ہے جس میں امن وامان قائم رکھنے اور دہشت گردی کے واقعات کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت خفیہ ایجنسیوں کو ملفوف انداز میں ہدف تنقید بنایا جارہا ہے اور ارباب اختیار کھل کر اس حقیقت کا اظہارنہیں کرپاتے کہ کس ایجنسی کی ناکامی کے باعث کوئٹہ یا ملک کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کامیابی سے سر انجام پا گئیں جب کہ امن وامان کے حوالے سے اس بنیادی حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امن وامان صوبائی مسئلہ ہے، صوبے کے گورنر اور پولیس اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے اشتراک عمل سے ایک فیصلہ کن کریک ڈائون کرسکتے ہیں ،صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی دہشت گردی کا واحد سبب نہیں ، یہ اجتماعی پسپائی اور مشترکہ ہزیمت ہے،جو چشم کشا ہونی چاہیے، اس میں دیگر عوامل کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ایک دہشت انگیز اینٹی ٹیرر میکنزم کی ضرورت ہے ۔
کوئٹہ ،کراچی،اور خیبر پختونخوا کی صورتحال خاصی گھمبیر، پیچیدہ،اور اعصاب شکن ہے جہاں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے مروجہ قوانین کے نفاذ، علاقے میں وفاقی و صوبائی حکومت کی رٹ،داخلی دور افتادہ اور قبائلی علاقوںمیں پولیس کی رسائی کے انتظامی اور قانونی سقم، دشواریوں، سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنے پر بھی سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔ جنرل پرویزمشرف لاکھ برے ڈکٹیٹر تھے مگر اس نے فاٹا اور کوئٹہ کے قبائلی علاقوں میںمختلف فورسز کی قانونی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نو گو ایریاز ختم کرائے اور قانون کا اطلاق کرایا جس سے نسبتاً دہشت گردی تھمی مگر بعد میںجب دہشت گردوں ، فرقہ وارانہ گروپوں، اور کالعدم تنظیموں نے ملک میں جنگل کا قانون نافذ کیا تو خیبر پختونخوا،کراچی اور کوئٹہ سب لپیٹ میں آگئے۔
پولیس ،آئی بی، ایف آئی اے، سی آئی ڈی ،بشمول اسپیشل برانچ عضومعطل بنائے گئے ۔چنانچہ شاہراہ فیصل پر گورا قبرستان کے قریب زوردار بم دھماکا ہوا،شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگاموں کے دوران شرپسندوں نے 7 گاڑیاں نذر آتش کردیں،نامعلوم افراد کی فائرنگ سے10افراد ہلاک اور خاتون سمیت17زخمی ہوگئے۔ پشاورمیںخیبرایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر خودکش حملہ میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 افراد جاں بحق اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لنڈی کوتل ممتازکنڈی سمیت 10 زخمی ہوگئے جن میں 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ادھرسانحہ کوئٹہ شہر کی فضاء سوگوار رہی ،خواتین، بچے اور دیگر افراد اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر روتے رہے ۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف شیعہ علماء کونسل کی اپیل پرپشاور،اسلام آباد، کراچی سمیت مختلف شہروں میں پیر کو بھی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے کہاکہ شیعہ اور سنی کے مابین اختلافات کو فروغ دیکربیرونی قوتیں ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں حکومت کو دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیے۔انھوں نے دھمکی دی کہ اگر فوری طور پر قتل وغارت گری کا یہ سلسلہ نہ رکا تو وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائینگے۔ وکلا برادری نے پاکستان بار کونسل کی کال پرمکمل عدالتی بائیکاٹ کیا اور یوم سوگ منایا ۔ بائیکاٹ کی کال پاکستان بارکونسل نے دی تھی جس کا مقصدکوئٹہ میں جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔
صدر آصف زرداری نے گورنرکوہدایت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پرفوج کی بھی مدد لی جائے ۔ وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایاہے کہ حکومت ظالموں کو جہنم واصل کرکے ہی دم لے گی ۔ صدر آصف علی زرداری نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کو ٹیلی فون کرکے کوئٹہ دھماکے کانشانہ بننے والے افراد کے لواحقین کی ہرممکن امداد اور اس سانحہ میں ملوث عناصرکی گرفتاری کے لیے ہرممکن اقدامات کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کا ازخود نوٹس لے لیا ،اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی طلب کر لیا۔
ازخود نوٹس رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹ پر لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ باچا خان چوک اور علمدار روڈ پر بم دھماکے میں 93 افرادجاں بحق اور 120 زخمی ہوئے جس کے نتیجے میں صوبے میں گور نر راج نافذ کیا گیا لیکن اس دوران ایک اور دھماکا ہوا جس میں 83جان بحق اور 200زخمی ہوئے۔ نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں اور وہ جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کررہے ہیں، سیاسی اور مذہبی حلقے کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ کوئٹہ پر شدید احتجاج کیا ۔ ارباب اختیار یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھیں کہ سانحہ کوئٹہ درد ناک تھا اور اس ضمن میں مظاہرین کے مطالبات کے پس پردہ کوئی مزموم عزائم نہیں ہوسکتے کیونکہ ایک پوری برادری پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ بلوچستان میں کئی عامل سرگرم عمل ہیں،وہاں مزاحمت کاروں نے بھی قتل وغارت کا بازار گرم کررکھا ہے۔
بلوچستان کے عوام کے دکھ کو وفاقی اور صوبائی حکومت شیئر کرے،متاثرہ برادری کے جائز مطالبات بلا تاخیر مان لیے جائیں تاکہ وہ اذیت سے نکل سکیں ۔امن قائم ہونا چاہیے۔خدارا ! خوںریزی بند ہونی چاہیے۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف شیعہ علماء کونسل کی اپیل پرپشاور،اسلام آباد، کراچی سمیت مختلف شہروں میں پیر کو بھی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے کہاکہ شیعہ اور سنی کے مابین اختلافات کو فروغ دیکربیرونی قوتیں ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں حکومت کو دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیے۔
امید کی جانی چاہیے کہ حکمران کوئٹہ سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کریں گے جس کی بنیاد قانون کی اٹل حکمرانی کے قیام کے عہد پر ہو۔ بلوچستان میں شورش ،دہشت گردی،مختلف سیاسی،مذہبی،فرقہ وارانہ اور غیرملکی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے طویل سائے پھیلے ہوئے ہیں ،اس خطے میں بد باطن عالمی قوتیں پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے کے گھنائونے منصوبوںپر عمل پیرا ہیں، ارباب اختیار کو کراچی، خیبر پختونخوا اور کوئٹہ میں دہشتگردی ، عدم استحکام،سماجی بدنظمی اور انارکی کو ہوا دینے والے عناصر کے عزائم سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور ملک دشمن عناصرقبل اس کے کہ ملکی سالمیت کوکسی قسم کا نقصان پہنچائیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اشتراک عمل اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان کا سر کچل دیں تاکہ آیندہ کسی کو وطن عزیز میں قتل و غارت اور دہشت گردی کی جرات نہ ہو۔لیکن اس کے لیے قانون کا اطلاق اور جزا وسزا کو یقینی بنانے کے لیے دھرتی پر موجود بدامنی کی ہر کوشش کا قلع قمع کرنے کا عہد کیا جائے۔اب بیانات اور طفل تسلیوں کا وقت گزر گیا۔