پی ایس او کے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات ناکام
آئل ٹینکرز ہڑتال کی وجہ سے کراچی کے50 فیصد پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل ختم ہوگیا۔
آئل ٹینکرز ہڑتال کی وجہ سے کراچی کے50 فیصد پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل ختم ہوگیا۔ فوٹو : فائل
پاکستان اسٹیٹ آئل کے رجسٹرڈ آئل ٹینکرز مالکان کی جاری ہڑتال کے باعث کراچی کے50 فیصد پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل ختم ہوگیا جبکہ منگل کوپی ایس او کے ایسوسی ایشن سے مذاکرات ناکام ہوگئے۔
واضح رہے کہ آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے پیر سے ملک گیر ہڑتال کی ہوئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شمس شہوانی نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ہڑتال کنٹریکٹرز کے کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، انشورنس کلیمز کی عدم منظوری اور وزارت پٹرولیم کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف کی گئی، پی ایس او میں پہلے سے ایس او پی کی بنیاد پر رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کے 10 ہزار سے زائد آئل ٹینکرز کو مطلوبہ حجم کا کاروبار نہیں مل رہا۔
اس کے باوجود وزارت پٹرولیم 2 ماہ سے500 نئے آئل ٹینکروں کی رجسٹریشن کرانے کیلیے بضد ہے تاہم ایسوسی ایشن نے رائج نظام کے تحت مشروط اور یکساں انداز میں 500 نئے آئل ٹینکرزکی رجسٹریشن پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، اس کے باوجود پہلے سے رجسٹرڈ وہیکلز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی جو ناقابل برداشت ہے۔
شمس شہوانی نے بتایا کہ پٹرول پمپس، بجلی گھروں، ایئرپورٹس اور ریلوے کو تیل سپلائی بند ہے، حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تونیا بحران پیدا ہوگا۔ دوسری جانب پی ایس او کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 ہزار آئل ٹینکروں میں سے چند سو کی این اوسی بار بار یاددہانی کے باوجود جمع نہیں کرائی جا رہی، یہ تحفظات بے بنیاد ہیں کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے پیر سے ملک گیر ہڑتال کی ہوئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شمس شہوانی نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ہڑتال کنٹریکٹرز کے کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، انشورنس کلیمز کی عدم منظوری اور وزارت پٹرولیم کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف کی گئی، پی ایس او میں پہلے سے ایس او پی کی بنیاد پر رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کے 10 ہزار سے زائد آئل ٹینکرز کو مطلوبہ حجم کا کاروبار نہیں مل رہا۔
اس کے باوجود وزارت پٹرولیم 2 ماہ سے500 نئے آئل ٹینکروں کی رجسٹریشن کرانے کیلیے بضد ہے تاہم ایسوسی ایشن نے رائج نظام کے تحت مشروط اور یکساں انداز میں 500 نئے آئل ٹینکرزکی رجسٹریشن پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، اس کے باوجود پہلے سے رجسٹرڈ وہیکلز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی جو ناقابل برداشت ہے۔
شمس شہوانی نے بتایا کہ پٹرول پمپس، بجلی گھروں، ایئرپورٹس اور ریلوے کو تیل سپلائی بند ہے، حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تونیا بحران پیدا ہوگا۔ دوسری جانب پی ایس او کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 ہزار آئل ٹینکروں میں سے چند سو کی این اوسی بار بار یاددہانی کے باوجود جمع نہیں کرائی جا رہی، یہ تحفظات بے بنیاد ہیں کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کیا جارہا ہے۔