وقار یونس نے قومی ٹیم کی بولنگ سلیکشن پر سوال اٹھادیا
دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے تنویر اور راحت کے انتخاب پر سخت حیرت ہوئی، سابق پیسر
دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے تنویر اور راحت کے انتخاب پر سخت حیرت ہوئی، سابق پیسر فوٹو: رائٹرز
لاہور:
سابق کپتان و کوچ وقار یونس نے قومی ٹیم کی بولنگ سلیکشن پر سوال اٹھادیا۔
انھوں نے دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے میڈیم پیسرز تنویر احمد اور راحت علی کے انتخاب پرسخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ 5 دھائیوں سے پاکستان اپنی فاسٹ بولنگ کی وجہ سے پہچانا جا رہا تھا، دنیا کی بہترین ٹیم کیخلاف سیریز کیلیے ان دونوں بولرزکا انتخاب سمجھ سے بالاتر ہے، ہمارے پاس ان سے بہتر آپشن موجود تھا، سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ نے نہ جانے کیا دیکھ کر ان دونوں کو پاکستانی ٹیم کا حصہ بنایا، اس اہم سیریز کیلیے اعزاز چیمہ اور وہاب ریاض کو فوقیت دینے کی ضرورت تھی،انھوں نے کہا کہ مئی 2011 میں طلبی کے بعد تنویراحمد کو عدم فٹنس اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔
قومی ٹیم کے جنوبی افریقہ پہنچتے ہی ان دونوں کو طلب کرلیا گیا، دوسرے ٹیسٹ میں انکی خراب کارکردگی نے بہت مایوس کیا ،وہ نئی گیند سے متاثر کرنے میں ناکام رہے،وقار کے مطابق سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے اس چنائو کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ہی تنویر کو طلب کیا، ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ بھی اسی کا تھا،انھوں نے کہا کہ مینجمنٹ نے سیریز کیلیے دستیاب بولرز میں سے درست چنائو نہیں کیا،پہلے ٹیسٹ میں محمد عرفان کو کھلانے کا فیصلہ ہوا مگر عین وقت پر راحت علی کا نام ٹیم میں شامل کر لیا گیا،جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بناء پر قومی ٹیم میں جگہ بنانے والے نوجوان بولر احسان عادل کو صرف نیٹ پریکٹس کا ہی موقع دیا گیا۔
وقار نے عمر گل کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تیز بولر نے بھی مجھے بہت مایوس کیا،عمر گل نے نئی اور پرانی گیند کے استعمال میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی،انھوں نے کہا کہ میرے دور میں ہمیشہ پلان اور بیک اپ پلان تیار رکھا جاتا اور بولر کیلیے توجہ اور تسلسل اہم تھا مگر اب غیر یقینی کی سی کیفیت درپیش ہے، انھوں نے کہا گذشتہ 3 برسوں سے پاکستان اپنے اسپنرز پر انحصار کر رہا ہے، آصف اور عامر پر پابندی کے بعد ہر موقع پر سعید پر ہی انحصار کیا گیا وہ اپنا کردار جانتا اور لائن او لینتھ کی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہوتا رہے گا،وقار نے کہا کہ ہم اپنی کمزور بیٹنگ لائن کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں لیکن اب ہماری فاسٹ بولنگ ناکامی کا باعث بن رہی ہے۔
سابق کپتان و کوچ وقار یونس نے قومی ٹیم کی بولنگ سلیکشن پر سوال اٹھادیا۔
انھوں نے دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے میڈیم پیسرز تنویر احمد اور راحت علی کے انتخاب پرسخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ 5 دھائیوں سے پاکستان اپنی فاسٹ بولنگ کی وجہ سے پہچانا جا رہا تھا، دنیا کی بہترین ٹیم کیخلاف سیریز کیلیے ان دونوں بولرزکا انتخاب سمجھ سے بالاتر ہے، ہمارے پاس ان سے بہتر آپشن موجود تھا، سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ نے نہ جانے کیا دیکھ کر ان دونوں کو پاکستانی ٹیم کا حصہ بنایا، اس اہم سیریز کیلیے اعزاز چیمہ اور وہاب ریاض کو فوقیت دینے کی ضرورت تھی،انھوں نے کہا کہ مئی 2011 میں طلبی کے بعد تنویراحمد کو عدم فٹنس اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔
قومی ٹیم کے جنوبی افریقہ پہنچتے ہی ان دونوں کو طلب کرلیا گیا، دوسرے ٹیسٹ میں انکی خراب کارکردگی نے بہت مایوس کیا ،وہ نئی گیند سے متاثر کرنے میں ناکام رہے،وقار کے مطابق سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے اس چنائو کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ہی تنویر کو طلب کیا، ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ بھی اسی کا تھا،انھوں نے کہا کہ مینجمنٹ نے سیریز کیلیے دستیاب بولرز میں سے درست چنائو نہیں کیا،پہلے ٹیسٹ میں محمد عرفان کو کھلانے کا فیصلہ ہوا مگر عین وقت پر راحت علی کا نام ٹیم میں شامل کر لیا گیا،جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بناء پر قومی ٹیم میں جگہ بنانے والے نوجوان بولر احسان عادل کو صرف نیٹ پریکٹس کا ہی موقع دیا گیا۔
وقار نے عمر گل کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تیز بولر نے بھی مجھے بہت مایوس کیا،عمر گل نے نئی اور پرانی گیند کے استعمال میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی،انھوں نے کہا کہ میرے دور میں ہمیشہ پلان اور بیک اپ پلان تیار رکھا جاتا اور بولر کیلیے توجہ اور تسلسل اہم تھا مگر اب غیر یقینی کی سی کیفیت درپیش ہے، انھوں نے کہا گذشتہ 3 برسوں سے پاکستان اپنے اسپنرز پر انحصار کر رہا ہے، آصف اور عامر پر پابندی کے بعد ہر موقع پر سعید پر ہی انحصار کیا گیا وہ اپنا کردار جانتا اور لائن او لینتھ کی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہوتا رہے گا،وقار نے کہا کہ ہم اپنی کمزور بیٹنگ لائن کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں لیکن اب ہماری فاسٹ بولنگ ناکامی کا باعث بن رہی ہے۔