پاکستان نے ہار کر بھی پروٹیز پر دھاک بٹھادی
کیپ ٹاؤن میں فتح آسانی سے نہیں ملی، مہمان ٹیم نے اعصاب کا بھرپور امتحان لیا، آملہ
کیپ ٹاؤن میں فتح آسانی سے نہیں ملی، مہمان ٹیم نے اعصاب کا بھرپور امتحان لیا، آملہ فوٹو : فائل
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ سیریز ہار کر بھی پروٹیز پر دھاک بٹھا دی،اوپنرہاشم آملہ کا کہنا ہے کہ کیپ ٹاؤن میں ہمیں فتح آسانی سے نہیں ملی، مہمان ٹیم نے ہمارے اعصاب کا بھرپور امتحان لیا۔
روبن پیٹرسن بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی عمدہ پرفارم نہ کرتے تو بڑی مشکل ہوجاتی۔ تفصیلات کے مطابق کیپ ٹاؤن میں عمدہ بولنگ کے باوجود پاکستان کو دوسری اننگز میں بیٹنگ لائن کی غیر ذمہ داری کے سبب شکست ہوئی، دوسری طرف جنوبی افریقی ٹیم بھی میچ کے دوران دباؤ سے بھرپور لمحات کو ابھی تک فراموش نہیں کر پا رہی، دوسری اننگز میں نصف سنچری بنا کر فتح کی راہ ہموار کرنے والے بیٹسمین ہاشم آملہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال دورۂ آسٹریلیا کے بعد پہلی بار کسی ٹیم نے پروٹیز کو سخت امتحان میں ڈالا، مہمان پلیئرز نے آخری حد تک ہمارے اعصاب کا امتحان لیا، دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وکٹیں گنوانے کے بعد ہم دباؤ میں تھے، دوسری باری میں 182 رنز کے ہدف کا تعاقب بھی قطعی آسان نہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ روبن پیٹرسن نے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے ہمارا اعتماد بحال اور پھر بولنگ میں بھی عمدہ کارکردگی سے فتح کا راستہ ہموار کیا۔ ہاشم آملہ نے کہا کہ وکٹ اور حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہماری بیٹنگ لائن کی کارکردگی قابل تشویش رہی، پہلی اننگز میں پچ بیٹنگ کیلیے آسان نہ تھی، بعدازاں مزید مشکل ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ سنچورین کی باؤنسی وکٹ پر محمد عرفان کی پرفارمنس دلچسپی سے خالی نہ ہوگی، دوسرے ٹیسٹ سے قبل ہم میں سے کوئی بھی پہلے اتنے دراز قامت بولر کو کھیلنے کا تجربہ نہیں رکھتا تھا۔
نیٹ میں مورن مورکل کے سامنے سے کچھ مدد ضرور ملی ہے، امید ہے کہ تیسرے ٹیسٹ میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ روری کلینویلڈ ایک بہترین بولر ہیں، مورن مورکل کی غیر موجودگی میں ان کے پاس ٹیم میں جگہ بنانے کا اچھا موقع ہوگا، ہم سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل ہونے کے باوجود کلین سوئپ کا مقصد لے کر میدان میں اتریں گے، ابھی تک ٹاپ آرڈر بڑا اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، سنچورین میں رنز کی پیاس بجھانے کی کوشش ہوگی، دوسری طرف بولرز بھی سازگار وکٹ کا فائدہ اٹھائے ہوئے اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنا چاہیں گے، قوم ا پنی ٹیم پر فخر کرتی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ عوام کا مان رکھیں۔
روبن پیٹرسن بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی عمدہ پرفارم نہ کرتے تو بڑی مشکل ہوجاتی۔ تفصیلات کے مطابق کیپ ٹاؤن میں عمدہ بولنگ کے باوجود پاکستان کو دوسری اننگز میں بیٹنگ لائن کی غیر ذمہ داری کے سبب شکست ہوئی، دوسری طرف جنوبی افریقی ٹیم بھی میچ کے دوران دباؤ سے بھرپور لمحات کو ابھی تک فراموش نہیں کر پا رہی، دوسری اننگز میں نصف سنچری بنا کر فتح کی راہ ہموار کرنے والے بیٹسمین ہاشم آملہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال دورۂ آسٹریلیا کے بعد پہلی بار کسی ٹیم نے پروٹیز کو سخت امتحان میں ڈالا، مہمان پلیئرز نے آخری حد تک ہمارے اعصاب کا امتحان لیا، دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وکٹیں گنوانے کے بعد ہم دباؤ میں تھے، دوسری باری میں 182 رنز کے ہدف کا تعاقب بھی قطعی آسان نہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ روبن پیٹرسن نے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے ہمارا اعتماد بحال اور پھر بولنگ میں بھی عمدہ کارکردگی سے فتح کا راستہ ہموار کیا۔ ہاشم آملہ نے کہا کہ وکٹ اور حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہماری بیٹنگ لائن کی کارکردگی قابل تشویش رہی، پہلی اننگز میں پچ بیٹنگ کیلیے آسان نہ تھی، بعدازاں مزید مشکل ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ سنچورین کی باؤنسی وکٹ پر محمد عرفان کی پرفارمنس دلچسپی سے خالی نہ ہوگی، دوسرے ٹیسٹ سے قبل ہم میں سے کوئی بھی پہلے اتنے دراز قامت بولر کو کھیلنے کا تجربہ نہیں رکھتا تھا۔
نیٹ میں مورن مورکل کے سامنے سے کچھ مدد ضرور ملی ہے، امید ہے کہ تیسرے ٹیسٹ میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ روری کلینویلڈ ایک بہترین بولر ہیں، مورن مورکل کی غیر موجودگی میں ان کے پاس ٹیم میں جگہ بنانے کا اچھا موقع ہوگا، ہم سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل ہونے کے باوجود کلین سوئپ کا مقصد لے کر میدان میں اتریں گے، ابھی تک ٹاپ آرڈر بڑا اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، سنچورین میں رنز کی پیاس بجھانے کی کوشش ہوگی، دوسری طرف بولرز بھی سازگار وکٹ کا فائدہ اٹھائے ہوئے اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنا چاہیں گے، قوم ا پنی ٹیم پر فخر کرتی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ عوام کا مان رکھیں۔