ماحول میں بڑھتے زہریلے اثرات عوام کیلیے مضر ہیں ماہرین طب

سیسہ اور آرسینک اور اسپتال کے فضلے کو مناسب انداز میں تلف کیا جائے، آغا خان یونیورسٹی میں سیمینار سے ماہرین کا خطاب.

سیسہ اور آرسینک اور اسپتال کے فضلے کو مناسب انداز میں تلف کیا جائے، آغا خان یونیورسٹی میں سیمینار سے ماہرین کا خطاب. فوٹو : فائل

ماہرین طب نے کہا ہے کہ ماحول میں زہریلے اثرات کی وجہ سے عوام کی صحت کوشدید خطرات لاحق ہیں۔

فضا میں سیسہ سمیت آرسینک اور اسپتال کے طبی فضلے کوغیر سائنسی بنیادوں پرتلف نہ کرنے کی وجہ سے پھیلنے والے زہریلے اثرات پاکستان میں لاکھوں افرادکو متاثرکررہے ہیں، یہ بات آغا خان یونیورسٹی میں ماحولیاتی اثرات پرمنعقدکیے جانے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین طب نے کہی، سیمینار کا موضوع''ماحولیاتی خرابی اور صحت پر اس کے اثرات'' تھا ،سیمینارکا انعقاد اے کے یوکے ڈویژن آف انوائرنمنٹل ہیلتھ سائنسز اور ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ہیلتھ سائنسز نے سندھ کی انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اشتراک سے کیا۔




سیمینار میں برمنگھم کی یونیورسٹی آف البامہ کے ڈپارٹمنٹ آف ایپی ڈیمیولوجی فار اسکول آف پبلک ہیلتھ کی پروفیسر نلنی ساتھیاکمار نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اورکہا کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی کوششوں نے ماحولیاتی مسائل مثلاًآبی آلودگی پر فوقیت حاصل کرلی جس کے برے اثرات دونوں شعبوں پر پڑرہے ہیں، انھوں نے کہا،''زرخیز زمین کا سیم زدہ ہوجانا، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی طور پر سرسبز خطوں میں سے 80 فی صدکی تباہی کے باعث پاکستان شدید معاشی مسائل کا سامنا کررہا ہے''، وسرا اہم مسئلہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے، آغا خان یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر ظفر فاطمی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں پینے کے پانی میں آرسینک موجود ہے۔
Load Next Story