فوج کوئٹہ میں ہی نہیں کراچی میں بھی آنی چاہیےزاہد حسین

بلوچستان میں گورنر راج سے مسئلہ اس لیے حل نہیں ہوا کہ وہاں ایڈمنسٹریشن پرانی ہے

دھرنا دنیا بھرمیں پاکستان کیلیے باعث شرمندگی ہے،شہزاد چوہدری،لائیوود طلعت میں گفتگو فوٹو : فائل

تجزیہ کارزاہد حسین نے کہاکہ ہم ایک کمزور ریاست ہیں اورکمزور ریاست میں کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔

بلوچستان 1970 سے پراکسی وارکا مرکز بنا ہوا ہے ۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد حسین نے کہاکہ ہر10 کلومیٹر پر پانی وبجلی شائد نہ ہو لیکن غیر ملکی سرمائے سے چلنے والے مدرسے ضرور ہیں۔ بلوچستان کے حالات ملٹری اورسول اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہیں جنوری کے واقعہ کے بعد فوری ایمرجنسی لگانی چاہیے تھی۔کوئٹہ کے حالات میں فوج کا کردار بہت عرصے سے ہے، سول انتظامیہ مکمل طور ناکام ہوچکی ہے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہی،گورنر راج سے مسئلہ اس لیے حل نہیں ہوا کہ ایڈمنسٹریشن وہی ہے ، بلوچستان میں امن کے لیے انتظامیہ کو اسپیشل پاورزدی جاسکتی ہیں۔




کوئٹہ میں فرقہ وارانہ واقعات میں شدت آئی ہے، ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور بھتہ خوری یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئٹہ کی صورتحال بہت خراب ہے، اور یہ مسائل صرف کوئٹہ کے ہی نہیں ہیں کراچی کے بھی ہیں اگر کوئٹہ میں فوج آتی ہے تو پھر کراچی میں بھی آنی چاہیے۔دہشت گردی کیخلاف حکومت کی کوئی واضع پالیسی نہیں ہے سیاسی جماعتوں سول اورملٹری انتظامیہ میں بھی اتفاق نہیں ہے۔۔ایئروائس مارشل شہزاد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کو بہت سی بیماریاں لگی ہوئی ہیں اور سب کا علاج الگ الگ ہے ۔ بلوچستان میں دھرنے کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کوشرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
Load Next Story