کاغذات نامزدگی کی چھلنی…
امیدواروں کو ذریعہ آمدن اور اگر ایک سے زیادہ ذریعہ آمدن ہو تو اس کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔
جیسے الیکشن کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان ہوگا تو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوجائے گا۔ فوٹو: فائل
GILGIT:
خیر سے ایک منتخب جمہوری حکومت اپنا عرصہ اقتدار مکمل کرنے والی ہے اورالیکشن کی آمد آمد ہے ،تمام سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ،جلسے ،جلوس ،رابطہ مہم ،میٹنگز ،سیاسی جوڑ توڑ جاری ہیں ایسے میں آزاد عدلیہ اور آزاد الیکشن کمیشن اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں ۔ملکی تاریخی میں پہلی بار جمہوری قوتوں کی متفقہ رائے اور آزاد عدلیہ کے تعاون سے ایک آزاد ،خودمختار الیکشن کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا اور اس کے مستحسن اقدامات کو عوام میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ شفاف ،آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کے انعقاد سے نہ صرف ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ جمہورکا جمہوریت پر یقین اور اعتماد بڑھے گا ۔
جیسے الیکشن کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان ہوگا تو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اسی سلسلے میں الیکشن کمیشن نے 15ترامیم کی منظوری دی ہے،اب امیدواروں کو 6 صفحات پر مشتمل کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنے تمام اثاثوں، بینک اکائونٹس، اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثہ جات اور گزشتہ تین سال کی مجموعی آمدنی اور ٹیکس کی تمام تفصیلات کے ساتھ ٹیکس ریٹرن کی رسیدوں کی نقول بھی منسلک کرنا ہونگی، امیدواروں کو ذریعہ آمدن اور اگر ایک سے زیادہ ذریعہ آمدن ہو تو اس کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تحت باکردار اور بااخلاق اورکسی بھی جرائم میں ملوث نہ ہونے والا شخص عوام کی نمایندگی کا حقدار ہے ۔
لہذا کاغذات نامزدگی کی کڑی جانچ پڑتال کے ذریعے ہی ایسے امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جاسکتا ہے جو قانون اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں اور اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوں ۔پارلیمنٹ کی نمایندگی کا مقصد عوام کی خدمت ہے نہ کہ اپنے بینک بیلنس اور جائیدادیں بنانا ، بعض اراکان اسمبلی سے کرپشن کے واقعات منسلک ہیں ایسے امیدواروں کو صرف پیسے کے بل بوتے پر دوبارہ الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا جانا یقیناً عوام سے زیادتی کے زمرے میں آتا ہے ۔ جعلی ڈگریوں اور دہری شہریت والے ارکان اسمبلی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایسے امیدوار اس بار الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔
اس فیصلے کی جتنی بھی ستائش اور تائید کی جائے وہ کم ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ پہلے کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں تو ان کی کارکردگی کیا رہی۔یہ بھی بڑا اہم سوال ہے کیونکہ بعض بااثر امیدوار تو منتخب ہونے کے بعد شاذ ونادر ہی اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کو اپنی صورت دکھاتے ہیں۔ امیدواروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگر سیاسی پارٹی سے ٹکٹ لیتے ہوئے انھوں نے کوئی پیسے لیے یا کسی نے ان کو پیسے دیے تو وہ بھی بتائیں۔ جن سیاست دانوں نے سیاست کو عبادت کے بجائے تجارت بنا لیا ہے وہ شفاف نامزدگیوں کی چھلنی سے نکل نہیں سکیں گے۔یہ احتسابی عمل ناگزیر تھا جو اب ہورہا ہے۔اس منفی عمل کی بیخ کنی بھی ہونی چاہیے یہ شق بھی انتہائی صائب ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی میں گھر گھر ووٹر فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور تمام ڈیٹا چند روز میں نادرا کو اسلام آباد میں ارسال کردیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کی فعالیت کا اندازہ ان اقدامات سے بھی باآسانی لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن نے سندھ میں 27 ہزار پلاٹس کی تقسیم کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کو بار کونسلز کو فنڈز جاری کرنے سے بھی روک دیاہے۔ خبر ایجنسیوںکے مطابق الیکشن کمیشن کے دو الگ الگ اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی صدارت میں ہونگے ایک اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے، دوسرے میں 62،63 پر عملدرآمد کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔بااختیار الیکشن کمیشن کے اقدامات اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ آیندہ آنے والے الیکشن شفاف ، غیرجانبدار اور آزادانہ ہونگے ،معترضین سے بصد احترام اتنا ہی عرض ہے کہ آخر ہمیں اصلاح احوال کے لیے کچھ پیمانے تو بنانے پڑیں گے تاکہ باکردار نمایندوں کا چنائو عوام کرسکیں ۔
خیر سے ایک منتخب جمہوری حکومت اپنا عرصہ اقتدار مکمل کرنے والی ہے اورالیکشن کی آمد آمد ہے ،تمام سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ،جلسے ،جلوس ،رابطہ مہم ،میٹنگز ،سیاسی جوڑ توڑ جاری ہیں ایسے میں آزاد عدلیہ اور آزاد الیکشن کمیشن اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں ۔ملکی تاریخی میں پہلی بار جمہوری قوتوں کی متفقہ رائے اور آزاد عدلیہ کے تعاون سے ایک آزاد ،خودمختار الیکشن کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا اور اس کے مستحسن اقدامات کو عوام میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ شفاف ،آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کے انعقاد سے نہ صرف ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ جمہورکا جمہوریت پر یقین اور اعتماد بڑھے گا ۔
جیسے الیکشن کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان ہوگا تو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اسی سلسلے میں الیکشن کمیشن نے 15ترامیم کی منظوری دی ہے،اب امیدواروں کو 6 صفحات پر مشتمل کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنے تمام اثاثوں، بینک اکائونٹس، اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثہ جات اور گزشتہ تین سال کی مجموعی آمدنی اور ٹیکس کی تمام تفصیلات کے ساتھ ٹیکس ریٹرن کی رسیدوں کی نقول بھی منسلک کرنا ہونگی، امیدواروں کو ذریعہ آمدن اور اگر ایک سے زیادہ ذریعہ آمدن ہو تو اس کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تحت باکردار اور بااخلاق اورکسی بھی جرائم میں ملوث نہ ہونے والا شخص عوام کی نمایندگی کا حقدار ہے ۔
لہذا کاغذات نامزدگی کی کڑی جانچ پڑتال کے ذریعے ہی ایسے امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جاسکتا ہے جو قانون اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں اور اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوں ۔پارلیمنٹ کی نمایندگی کا مقصد عوام کی خدمت ہے نہ کہ اپنے بینک بیلنس اور جائیدادیں بنانا ، بعض اراکان اسمبلی سے کرپشن کے واقعات منسلک ہیں ایسے امیدواروں کو صرف پیسے کے بل بوتے پر دوبارہ الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا جانا یقیناً عوام سے زیادتی کے زمرے میں آتا ہے ۔ جعلی ڈگریوں اور دہری شہریت والے ارکان اسمبلی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایسے امیدوار اس بار الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔
اس فیصلے کی جتنی بھی ستائش اور تائید کی جائے وہ کم ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ پہلے کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں تو ان کی کارکردگی کیا رہی۔یہ بھی بڑا اہم سوال ہے کیونکہ بعض بااثر امیدوار تو منتخب ہونے کے بعد شاذ ونادر ہی اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کو اپنی صورت دکھاتے ہیں۔ امیدواروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگر سیاسی پارٹی سے ٹکٹ لیتے ہوئے انھوں نے کوئی پیسے لیے یا کسی نے ان کو پیسے دیے تو وہ بھی بتائیں۔ جن سیاست دانوں نے سیاست کو عبادت کے بجائے تجارت بنا لیا ہے وہ شفاف نامزدگیوں کی چھلنی سے نکل نہیں سکیں گے۔یہ احتسابی عمل ناگزیر تھا جو اب ہورہا ہے۔اس منفی عمل کی بیخ کنی بھی ہونی چاہیے یہ شق بھی انتہائی صائب ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی میں گھر گھر ووٹر فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور تمام ڈیٹا چند روز میں نادرا کو اسلام آباد میں ارسال کردیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کی فعالیت کا اندازہ ان اقدامات سے بھی باآسانی لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن نے سندھ میں 27 ہزار پلاٹس کی تقسیم کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کو بار کونسلز کو فنڈز جاری کرنے سے بھی روک دیاہے۔ خبر ایجنسیوںکے مطابق الیکشن کمیشن کے دو الگ الگ اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی صدارت میں ہونگے ایک اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے، دوسرے میں 62،63 پر عملدرآمد کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔بااختیار الیکشن کمیشن کے اقدامات اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ آیندہ آنے والے الیکشن شفاف ، غیرجانبدار اور آزادانہ ہونگے ،معترضین سے بصد احترام اتنا ہی عرض ہے کہ آخر ہمیں اصلاح احوال کے لیے کچھ پیمانے تو بنانے پڑیں گے تاکہ باکردار نمایندوں کا چنائو عوام کرسکیں ۔