کیا کوئی آپ کے بلاگ کی نقل کررہا ہے
بلاگ چوروں کا کام ہی دوسروں کی محنت کاپی پیسٹ کرکے پیسہ کمانا ہوتا ہے
بلاگ چوروں کا کام ہی دوسروں کی محنت کاپی پیسٹ کرکے پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
گوگل مواد کی نقل کرنے والوں کو سخت سزا دیتا ہے لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر کبھی کبھار گوگل بھی نقل شدہ مواد کو اصل مواد کی طرح قبول کرلیتا ہے اور آپ اپنے اصل مواد کے باوجود نقل کرنے والوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی اس مسئلے کا شکار ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ ایسے آن لائن ٹولز موجود ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ کہیں کوئی آپ کا بلاگ نقل تو نہیں کررہا۔
اس مقصد کےلیے ''کاپی اسکیپ'' (copyscape.com) نامی ویب سائٹ آپ کےلیے یقیناً مفید رہے گی۔ بتاتا چلوں کہ کاپی اسکیپ دراصل ایک سافٹ ویئر بھی ہے جسے اس ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اگر بلاگروں کی زبان میں بات کروں تو کاپی اسکیپ ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو آپ کے مواد (کونٹینٹ) کی اصلیت اور انفرادیت کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے۔
کاپی اسکیپ مفت اور پریمیم، دونوں ورژن پیش کرتا ہے۔ ابتداء کرنے کےلیے آپ اس کا مفت ورژن استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کےلیے کاپی اسکیپ کے ہوم پیج پر جائیے اور اپنے بلاگ کا پتا (یو آر ایل) ڈال کر GO بٹن پر کلک کردیجیے۔
اگلے صفحے پر آپ کے سامنے نتائج کی ایک فہرست کھل جائے گی جہاں ان بلاگرز اور بلاگز کے پتے موجود ہوں گے جو مبینہ طور پر آپ کا مواد چوری کرتے ہیں۔
مواد کی نقل یا چوری کرنے والوں سے کیسے بچا جائے؟
کسی اصل یعنی طبع زاد بلاگر کےلیے مواد کی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ایک اصل بلاگر پہلے سوچتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور پھر اپنے پڑھنے والوں کےلیے بامعنی مواد لکھتا ہے۔ میں ایسے کئے بلاگرز کو دیکھ چکا ہوں جو کسی بلاگ پوسٹ سے مواد کو کاپی پیسٹ کرتے ہیں اور بغیر محنت کے پیسہ کماتے ہیں۔ اگرچہ وہ گوگل کے قانون کے مطابق ایسا کرسکتے ہیں لیکن انہیں کاپی پیسٹ کرنے کے ساتھ اصل مصنف اور اس کی ویب سائٹ کا لنک بلاگ میں شامل کرنا ہوتا ہے مگر مواد چوری کرنے والے اس پر عمل نہیں کرتے اور مواد کی چوری جاری رکھتے ہیں۔
مندرجہ ذیل چیزیں ہمیں اس طرح کے چوروں کی کارروائیوں سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہیں:
کیا کوئی آپ کے مواد کو چوری کررہا ہے؟
یہ واقعی ایک مشکل سوال ہے کیونکہ انٹرنیٹ کی دنیا بہت وسیع ہے اور کروڑوں لوگ بلاگنگ کررہے ہیں۔ البتہ آپ کاپی اسکیپ سے چیک کرسکتے ہیں کہ کیا کوئی آپ کا مواد چوری کر رہا ہے۔ (اس کا طریقہ میں بتاچکا ہوں۔)
ہمیں اپنے بلاگ کی نقل مل گئی۔ اب کیا کریں؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اس مقصد کےلیے ''کاپی اسکیپ'' (copyscape.com) نامی ویب سائٹ آپ کےلیے یقیناً مفید رہے گی۔ بتاتا چلوں کہ کاپی اسکیپ دراصل ایک سافٹ ویئر بھی ہے جسے اس ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اگر بلاگروں کی زبان میں بات کروں تو کاپی اسکیپ ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو آپ کے مواد (کونٹینٹ) کی اصلیت اور انفرادیت کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے۔
کاپی اسکیپ مفت اور پریمیم، دونوں ورژن پیش کرتا ہے۔ ابتداء کرنے کےلیے آپ اس کا مفت ورژن استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کےلیے کاپی اسکیپ کے ہوم پیج پر جائیے اور اپنے بلاگ کا پتا (یو آر ایل) ڈال کر GO بٹن پر کلک کردیجیے۔
اگلے صفحے پر آپ کے سامنے نتائج کی ایک فہرست کھل جائے گی جہاں ان بلاگرز اور بلاگز کے پتے موجود ہوں گے جو مبینہ طور پر آپ کا مواد چوری کرتے ہیں۔
مواد کی نقل یا چوری کرنے والوں سے کیسے بچا جائے؟
کسی اصل یعنی طبع زاد بلاگر کےلیے مواد کی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ایک اصل بلاگر پہلے سوچتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور پھر اپنے پڑھنے والوں کےلیے بامعنی مواد لکھتا ہے۔ میں ایسے کئے بلاگرز کو دیکھ چکا ہوں جو کسی بلاگ پوسٹ سے مواد کو کاپی پیسٹ کرتے ہیں اور بغیر محنت کے پیسہ کماتے ہیں۔ اگرچہ وہ گوگل کے قانون کے مطابق ایسا کرسکتے ہیں لیکن انہیں کاپی پیسٹ کرنے کے ساتھ اصل مصنف اور اس کی ویب سائٹ کا لنک بلاگ میں شامل کرنا ہوتا ہے مگر مواد چوری کرنے والے اس پر عمل نہیں کرتے اور مواد کی چوری جاری رکھتے ہیں۔
مندرجہ ذیل چیزیں ہمیں اس طرح کے چوروں کی کارروائیوں سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہیں:
کیا کوئی آپ کے مواد کو چوری کررہا ہے؟
یہ واقعی ایک مشکل سوال ہے کیونکہ انٹرنیٹ کی دنیا بہت وسیع ہے اور کروڑوں لوگ بلاگنگ کررہے ہیں۔ البتہ آپ کاپی اسکیپ سے چیک کرسکتے ہیں کہ کیا کوئی آپ کا مواد چوری کر رہا ہے۔ (اس کا طریقہ میں بتاچکا ہوں۔)
ہمیں اپنے بلاگ کی نقل مل گئی۔ اب کیا کریں؟
- سب سے پہلے آپ اس بلاگ پر کمنٹ کیجیے کہ وہ آپ کے بلاگ کا لنک نقل شدہ بلاگ میں شامل کرے یا پھر نقل شدہ بلاگ کو ڈیلیٹ کردے۔
- نقال بلاگر کو ای میل کیجیے اور اس مسئلے سے آگاہ کیجیے۔
- اپنے بلاگ اور سوشل پروفائل کے ذریعے اس نقال بلاگر کے کرتوت سے دوسروں کو آگاہ کیجیے۔
- اگر بلاگ کا مالک کوئی ردعمل نہ ظاہر کرے؟
- اس طرح کے بلاگرز کا بنیادی مقصد پیسہ کمانا ہوتا ہے او اس کےلیے وہ گوگل ایڈسینس استعمال کرتے ہیں۔ انہیں سخت سزا دینے کےلیے ویب حکام سے رابطہ کیجیے۔
- گوگل کی ایڈسینس پالیسی چیک کیجیے اور درخواست دائر کیجیے (پالیسی لنک دیکھنے کےلیے یہاں کلک کیجیے)۔
- گوگل کی سرچ انجن پالیسی پر بھی ایک نظر ڈالیے اور اس چوری سے متعلق شکایت درج کروائیے (پالیسی لنک یہاں ملاحظہ ہو)۔
- اس بلاگر کا بلاگ ہوسٹ کرنے والی کمپنی کو اطلاع دیجیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ https://www.whoishostingthis.com پر جائیے اور اس کے بلاگ کا لنک کاپی کرکے سرچ میں پیسٹ کردیجیے۔ ہوسٹنگ کی تفصیلات کھل جائیں گی۔ پھر آپ ہوسٹنگ سپورٹ سے رابطہ کرکے مواد چور کا بلاگ یا ویب سائٹ منسوخ کروا سکتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔