افغانستان میں امن اور سہ فریقی مذاکرات
اگر امریکا، افغانستان چاہیں تو سہ فریقی مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں
اگر امریکا، افغانستان چاہیں تو سہ فریقی مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان' امریکا اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی' داعش کا خاتمہ مشترکہ کوششوں اور مزید تعاون ہی سے ممکن ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مذاکرات میں باہمی مفادات اور تحفظات جب کہ پاکستان اور افغانستان کے اجلاس میں سرحد پار فائرنگ اور انسداد دہشت گردی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سہ فریقی اجلاس خاصا اہم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف ایشوز پر بات چیت بھی خوش آیند ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ خطے کو پرامن بنانے اور دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا عمل ناگزیر ہے اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی ملک اس عفریت سے تنہا نہیں نمٹ سکتا' یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے یہ کہا کہ خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے لیکن افغان حکومت نے پاکستان کی ان کوششوں کا مثبت جواب دینے کے بجائے اس کے خلاف الزام تراشی کا وتیرہ اپنائے رکھا۔
پاکستان نے بارہا اس امر کی جانب توجہ دلائی کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جنہوں نے پورے خطے میں اپنا خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس تک پہنچنے اور اسے ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی قوت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دے لیکن افغان حکومت نے بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے پاکستان کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھانے سے گریز کیا۔ امریکا کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو نا چاہیے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر خطے کو دہشت گردی سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔
سہ فریقی مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنا چاہیے، اگر امریکا ، افغانستان چاہیں تو سہ فریقی مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان کو بھی باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہوسکیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مذاکرات میں باہمی مفادات اور تحفظات جب کہ پاکستان اور افغانستان کے اجلاس میں سرحد پار فائرنگ اور انسداد دہشت گردی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سہ فریقی اجلاس خاصا اہم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف ایشوز پر بات چیت بھی خوش آیند ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ خطے کو پرامن بنانے اور دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا عمل ناگزیر ہے اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی ملک اس عفریت سے تنہا نہیں نمٹ سکتا' یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے یہ کہا کہ خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے لیکن افغان حکومت نے پاکستان کی ان کوششوں کا مثبت جواب دینے کے بجائے اس کے خلاف الزام تراشی کا وتیرہ اپنائے رکھا۔
پاکستان نے بارہا اس امر کی جانب توجہ دلائی کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جنہوں نے پورے خطے میں اپنا خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس تک پہنچنے اور اسے ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی قوت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دے لیکن افغان حکومت نے بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے پاکستان کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھانے سے گریز کیا۔ امریکا کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو نا چاہیے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر خطے کو دہشت گردی سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔
سہ فریقی مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنا چاہیے، اگر امریکا ، افغانستان چاہیں تو سہ فریقی مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان کو بھی باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہوسکیں۔