پاکستان نے غیر ملکیوں کے خوف کی دیوار گرادی
سری لنکاکے بعد ویسٹ انڈیزکا دورہ بھی ممکن، بورڈ چیف نے نومبرمیں میچزکی خوشخبری سنا دی
مقابلوں کی تعداد اورنوعیت کا تعین بعد میں ہوگا،ٹیسٹ بھی کھیلیں گے، کیمرون۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان نے غیرملکیوں کے خوف کی دیوار گرا دی، ورلڈ الیون سے سیریزکے کامیاب انعقاد نے سب کے دل موہ لیے.
پاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے کیلیے لاہور آنے والے ویسٹ انڈیزکرکٹ بورڈ کے صدر ڈیو کیمرون گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ہمراہ مغلیہ دور کے شاہی قلعہ کی سیر کیلیے گئے، بعد ازاں قذافی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران ہی دونوں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر نجم سیٹھی نے کہا کہ ویسٹ انڈین بورڈ3 میچز کی سیریز کیلیے نومبر میں ٹیم پاکستان بھجوانے کیلیے قائل ہوچکا ہے، ڈیو کیمرون کو کچھ عرصے قبل ٹور کیلیے کہا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس کیلیے ہوم ورک کرنا چاہیے، سب سے پہلے کھلاڑیوں کودورے پر آمادہ کرنا ہوگا، اس کیلیے فیکا کی آمادگی ضروری ہے، ویسٹ انڈیز کی پلیئرز ایسوسی ایشن کو قائل کیا جائے تو ٹیم دورہ کرسکتی ہے، ہم نے ڈیو کیمرون کی تمام تجاویز پر عمل در آمد کردیا، اب مجھے پوری امید ہے کہ کیریبیئنز نومبر کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔
ڈیو کیمرون نے کہا کہ میرے لیے سب سے مشکل کام اپنے کھلاڑیوں کو یہاں آنے پر راضی کرنا تھا، سیکیورٹی کمپنی کی مثبت رپورٹ کے بعد نومبر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کیلیے لاہور آئے گی، ہمارے 2کھلاڑی ڈیرن سیمی اور سیموئل بدری پاکستان میں کھیل رہے ہیں، میں بھی یہاں ہوں، اس تجربے کے بعد ویسٹ انڈیز کے دیگر کرکٹرز بھی ٹور کیلیے آمادہ ہونگے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے یہاں خود کو محفوظ محسوس کیا مگر کھلاڑیوں کو سیکیورٹی ایجنسی اور آئی سی سی کی رپورٹ کا انتظار رہے گا، ڈیرن سیمی 2بار یہاں آچکے دیگر انٹرنیشنل پلیئرز بھی آئے ہیں، ہمارے سیکیورٹی ماہرین بھی پہلے پی ایس ایل اور اب ان میچز میں پاکستان میں صورتحال دیکھ چکے ہیں جو فرسٹ کلاس ہے، یہ ملک بہترین میزبان بھی ہے، مجھے یقین ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نومبر میں پاکستان کا دورہ کریگی۔
انھوں نے کہا کہ آئی سی سی پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کیلیے مکمل تعاون کررہی ہے، پی سی بی کی طرح ہمارے حالات بھی مشکل ہیں، پہلے سمندری طوفان نے کافی نقصان پہنچایا پھر مالی مسائل بھی ہیں، پاکستان نے ہمیں ہمیشہ سپورٹ کیا، اب ہمارا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کا دورہ غیرملکی ٹیموں کوپاکستان لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ نومبر میں ویسٹ انڈیز کے مجوزہ دورے کے میچز کی تعداد اور نوعیت کا تعین باہمی رضامندی سے کیا جائے گا، ٹیسٹ میچز کے انعقاد پر بھی بات چیت جاری ہے، میں 2روز سے لاہور میں موجود اور یہاں کی سیکیورٹی صورتحال سے ذاتی طورپر مطمئن ہوں۔
یاد رہے کہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی یہ4روز میں چوتھی پریس کانفرنس تھی اور وہ کافی خوش دکھائی دے رہے تھے،بعد ازاں میچ ختم ہونے کے بعد میدان میں رمیز راجہ نے تاثرات پوچھے تو انھوں نے ورلڈ الیون کے کامیاب ٹور پر پاکستانیوں، مبارکاں،مبارکاں کی صدائیں بلند کیں۔
پاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے کیلیے لاہور آنے والے ویسٹ انڈیزکرکٹ بورڈ کے صدر ڈیو کیمرون گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ہمراہ مغلیہ دور کے شاہی قلعہ کی سیر کیلیے گئے، بعد ازاں قذافی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران ہی دونوں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر نجم سیٹھی نے کہا کہ ویسٹ انڈین بورڈ3 میچز کی سیریز کیلیے نومبر میں ٹیم پاکستان بھجوانے کیلیے قائل ہوچکا ہے، ڈیو کیمرون کو کچھ عرصے قبل ٹور کیلیے کہا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس کیلیے ہوم ورک کرنا چاہیے، سب سے پہلے کھلاڑیوں کودورے پر آمادہ کرنا ہوگا، اس کیلیے فیکا کی آمادگی ضروری ہے، ویسٹ انڈیز کی پلیئرز ایسوسی ایشن کو قائل کیا جائے تو ٹیم دورہ کرسکتی ہے، ہم نے ڈیو کیمرون کی تمام تجاویز پر عمل در آمد کردیا، اب مجھے پوری امید ہے کہ کیریبیئنز نومبر کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔
ڈیو کیمرون نے کہا کہ میرے لیے سب سے مشکل کام اپنے کھلاڑیوں کو یہاں آنے پر راضی کرنا تھا، سیکیورٹی کمپنی کی مثبت رپورٹ کے بعد نومبر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کیلیے لاہور آئے گی، ہمارے 2کھلاڑی ڈیرن سیمی اور سیموئل بدری پاکستان میں کھیل رہے ہیں، میں بھی یہاں ہوں، اس تجربے کے بعد ویسٹ انڈیز کے دیگر کرکٹرز بھی ٹور کیلیے آمادہ ہونگے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے یہاں خود کو محفوظ محسوس کیا مگر کھلاڑیوں کو سیکیورٹی ایجنسی اور آئی سی سی کی رپورٹ کا انتظار رہے گا، ڈیرن سیمی 2بار یہاں آچکے دیگر انٹرنیشنل پلیئرز بھی آئے ہیں، ہمارے سیکیورٹی ماہرین بھی پہلے پی ایس ایل اور اب ان میچز میں پاکستان میں صورتحال دیکھ چکے ہیں جو فرسٹ کلاس ہے، یہ ملک بہترین میزبان بھی ہے، مجھے یقین ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نومبر میں پاکستان کا دورہ کریگی۔
انھوں نے کہا کہ آئی سی سی پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کیلیے مکمل تعاون کررہی ہے، پی سی بی کی طرح ہمارے حالات بھی مشکل ہیں، پہلے سمندری طوفان نے کافی نقصان پہنچایا پھر مالی مسائل بھی ہیں، پاکستان نے ہمیں ہمیشہ سپورٹ کیا، اب ہمارا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کا دورہ غیرملکی ٹیموں کوپاکستان لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ نومبر میں ویسٹ انڈیز کے مجوزہ دورے کے میچز کی تعداد اور نوعیت کا تعین باہمی رضامندی سے کیا جائے گا، ٹیسٹ میچز کے انعقاد پر بھی بات چیت جاری ہے، میں 2روز سے لاہور میں موجود اور یہاں کی سیکیورٹی صورتحال سے ذاتی طورپر مطمئن ہوں۔
یاد رہے کہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی یہ4روز میں چوتھی پریس کانفرنس تھی اور وہ کافی خوش دکھائی دے رہے تھے،بعد ازاں میچ ختم ہونے کے بعد میدان میں رمیز راجہ نے تاثرات پوچھے تو انھوں نے ورلڈ الیون کے کامیاب ٹور پر پاکستانیوں، مبارکاں،مبارکاں کی صدائیں بلند کیں۔