فیکٹری آتشزدگی کیس 16ناقابل شناخت لاشوں کی تدفین کی اجازت
لاشوں کے ازسر نو ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے دوبارہ نمونے حاصل کرکے 12مارچ تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
صوبائی حکومت اورکے ایم سی 10یوم میں 54 ہزار ملازمین کے واجبات کا بحران حل کریں، سندھ ہائیکورٹ کا حکم. فوٹو: اے ایف پی / فائل
سانحہ بلدیہ ٹائون گارمنٹس فیکٹری کی 16ناقا بل شناخت لاشوں کی تدفین کی اجازت دے دی گئی۔
سندھ ہائیکورٹ نے تدفین کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام لاشوںکو شناختی نمبروں کے سا تھ علیحدہ قبروں میں دفن کیا جائے،فاضل بینچ نے لاشوںکے ازسر نو ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے دوبارہ نمونے حاصل کرکے 12مارچ تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی،ڈی این اے ٹیسٹ کے نتیجے میں شناخت ہونے والی لاش کی قبرکے نمبر کو اس کے نام کی تختی سے تبدیل کردیا جائے گا ، جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے بدھ کو درخواست کی سماعت کی،اس موقع پر اعلیٰ پولیس افسران اور ڈائریکٹر نیشنل فارنسک سائنس ایجنسی( این ایف ایس اے )بھی پیش ہوئے،خرم احمد سمیت 20سے زائد درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ اپنے پیاروں کی اجتماعی نمازجنازہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
علی انٹرپرائززکے مالکان کے وکیل عامر رضا نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ناقا بل شناخت لاشوں کے لواحقین کے دکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے 13سے15خاندانوںکو فی خاندان 50 ہزار روپے اداکیے جا چکے ہیں، پائلر سمیت دیگر تنظیموں کے وکلا فیصل صدیقی اوروسیم اقبال ایڈوکیٹس کی جانب سے دائرکردہ متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوںکی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے اس لیے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے ، مختلف شخصیات اور اداروں نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے،اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔
علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے 54ہزارملازمین و پنشنرزکو واجبات کی ادائیگی کا بحران حل کرنے کے لیے حکومت سندھ اور کے ایم سی انتظامیہ کو 10یوم میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے متا ثرین کو ادائیگی کا حکم دیا ہے، عدالت نے مزید ہدایت کی کہ حکومت سندھ کی جانب سے کے ایم سی کوفراہم کی جانے والی رقم اور اخراجات کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں، یہ بھی بتایاجائے کہ کتنی رقم کس مد میں خرچ کی جاتی ہے اور کیا تنخواہوں اور پنشن کی رقم ترقیاتی یاکسی اورمد میں بھی استعمال ہوسکتی ہے ،سماعت کے موقع پر ڈپٹی سیکریٹری خزانہ حکومت سندھ شکیل احمد اورکے ایم سی کے فنانشل ایڈوائزر منور امام عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ہدایت کی کہ 10دن میں دونوں محکمے تنازع ختم کرکے رپورٹ پیش کریں تاکہ اس حوالے سے عدالت حکم جاری کرسکے،بدھ کو ندیم شیخ ایڈوکیٹ اورسجن یونین کی جانب سے چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ ، سیکریٹری بلدیات ، چیف افسر اور فنانشل ایڈوائزر کے ایم سی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی گئی۔
سندھ ہائیکورٹ نے تدفین کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام لاشوںکو شناختی نمبروں کے سا تھ علیحدہ قبروں میں دفن کیا جائے،فاضل بینچ نے لاشوںکے ازسر نو ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے دوبارہ نمونے حاصل کرکے 12مارچ تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی،ڈی این اے ٹیسٹ کے نتیجے میں شناخت ہونے والی لاش کی قبرکے نمبر کو اس کے نام کی تختی سے تبدیل کردیا جائے گا ، جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے بدھ کو درخواست کی سماعت کی،اس موقع پر اعلیٰ پولیس افسران اور ڈائریکٹر نیشنل فارنسک سائنس ایجنسی( این ایف ایس اے )بھی پیش ہوئے،خرم احمد سمیت 20سے زائد درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ اپنے پیاروں کی اجتماعی نمازجنازہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
علی انٹرپرائززکے مالکان کے وکیل عامر رضا نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ناقا بل شناخت لاشوں کے لواحقین کے دکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے 13سے15خاندانوںکو فی خاندان 50 ہزار روپے اداکیے جا چکے ہیں، پائلر سمیت دیگر تنظیموں کے وکلا فیصل صدیقی اوروسیم اقبال ایڈوکیٹس کی جانب سے دائرکردہ متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوںکی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے اس لیے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے ، مختلف شخصیات اور اداروں نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے،اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔
علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے 54ہزارملازمین و پنشنرزکو واجبات کی ادائیگی کا بحران حل کرنے کے لیے حکومت سندھ اور کے ایم سی انتظامیہ کو 10یوم میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے متا ثرین کو ادائیگی کا حکم دیا ہے، عدالت نے مزید ہدایت کی کہ حکومت سندھ کی جانب سے کے ایم سی کوفراہم کی جانے والی رقم اور اخراجات کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں، یہ بھی بتایاجائے کہ کتنی رقم کس مد میں خرچ کی جاتی ہے اور کیا تنخواہوں اور پنشن کی رقم ترقیاتی یاکسی اورمد میں بھی استعمال ہوسکتی ہے ،سماعت کے موقع پر ڈپٹی سیکریٹری خزانہ حکومت سندھ شکیل احمد اورکے ایم سی کے فنانشل ایڈوائزر منور امام عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ہدایت کی کہ 10دن میں دونوں محکمے تنازع ختم کرکے رپورٹ پیش کریں تاکہ اس حوالے سے عدالت حکم جاری کرسکے،بدھ کو ندیم شیخ ایڈوکیٹ اورسجن یونین کی جانب سے چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ ، سیکریٹری بلدیات ، چیف افسر اور فنانشل ایڈوائزر کے ایم سی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی گئی۔