پاک بھارت آبی تنازعہ اور سندھ طاس معاہدہ

عجیب بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں بھی بھارت کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے

عجیب بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں بھی بھارت کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ فوٹو : فائل

BEIJING:
بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے فوجی آمر ایوب خان نے 57 سال قبل سندھ طاس معاہدے کے عنوان سے جو معاہدہ کیا تھا، اس کے تحت پاکستان کے تین دریا بھارت کے حوالے کر دیے گئے تھے جب کہ ورلڈ بینک کو ضمانتی مقرر کرایا گیا تھا مگر دونوں ملکوں کے مابین پانی کی تقسیم کے حوالے سے مخاصمت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی، اب پھر دونوں ملکوں کے درمیان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے زیراہتمام دو روزہ مذاکرات کا اہتمام کرایا گیا۔

بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، پاکستان نے عالمی سطح پر اس کی شکایات بھی کی ہیں۔ ان شکایات کے ازالے کے بجائے بھارت نے پاکستان کے ان دریاؤں پر بھی دھڑادھڑ ڈیم بنانے شروع کر دیے جو سندھ طاس کے معاہدے میں بھی نہیں آتے تھے اور پاکستان کو معاہدے کے تحت جو ڈیم بنانے تھے ان کے لیے یا تو پاکستان کو بر وقت ورلڈ بینک کے فنڈز نہ مل سکے اور یا پھر کسی نئے ڈیم کی تعمیر سیاسی اختلافات کا نشانہ بن گئی۔


کالاباغ ڈیم کی فیزیبلٹی اور دیگر انتظامات پر اربوں ڈالر خرچ ہو گئے مگر اس پر اب تک کام شروع نہ ہو سکا۔ اب واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ورلڈ بینک کی خاتون ترجمان ایلینا کارابان نے کہا ہے کہ 14 اور 15 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کے فنی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے پاکستان پر جو اعتراضات کیے تھے انھیں واپس لے لیا گیا ہے بلکہ ترجمان نے کہا ہے کہ اب دونوں ملکوں میں اس حوالے سے خیرسگالی کی فضا قائم رہے گی۔ پاکستان کے لیے پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں بھی بھارت کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے اور جب بھی عالمی بینک یا کسی اور فورم پر بات چیت ہوئی، بھارت کا پلڑا بھاری رہا۔ بہرحال صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان دریائی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کام کرے، ڈیم بنانے میں جتنی تاخیر ہو گی اتنے ہی مسائل بڑھتے جائیں گے۔
Load Next Story