بھارت میں 3کمسن بہنیں زیادتی کے بعد قتل
تینوں بچیوں کی عمر 6سے11سال تھی، واقعے پر مقامی لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ.
4 افرادکو حراست میں لیا گیا، لاشوں کے ساتھ اسکول کے بستے اور جوتے بھی تھے، پولیس. فوٹو: فائل
MUMBAI:
بھارت کے مغربی دیہی علاقے میں 6اور11سال کی درمیانی عمر کی3 بہنوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیاگیا اور ان کی لاشیں گاؤں کے ایک کنویں میں ڈال دی گئی تھیں۔
بدھ کو پولیس سپرنٹنڈنٹ آرتی سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسکول جانے والی تین بچیوں کی لاشیں گزشتہ ہفتے برآمد ہوئی ہیں۔ بچیوں کو14فروری کو مہاراشٹرا ریاست کے ضلع بھاندرا سے اغوا کیا گیا تھا۔ سنگھ نے ناگپور سے فون پر اے ایف پی کو بتایا کہ تینوں بچیوں کی لاشیں ایک کنویں سے برآمد ہوئی ہیں جن کے ساتھ اسکول کے بستے اور جوتے بھی تھے بچیوں کی عمریں6،9اور11سال تھیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچیوں سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم سنگھ کا کہنا تھا کہ پوچھ گچھ کیلیے4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ متاثرہ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اپنی ماں کو دیکھنے گئی تھیںجو گھر پر نہیں تھی ۔ آرتی سنگھ کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 23سالہ طالبہ کیساتھ ایک بس میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد اسی طرح کی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
بھارت کے مغربی دیہی علاقے میں 6اور11سال کی درمیانی عمر کی3 بہنوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیاگیا اور ان کی لاشیں گاؤں کے ایک کنویں میں ڈال دی گئی تھیں۔
بدھ کو پولیس سپرنٹنڈنٹ آرتی سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسکول جانے والی تین بچیوں کی لاشیں گزشتہ ہفتے برآمد ہوئی ہیں۔ بچیوں کو14فروری کو مہاراشٹرا ریاست کے ضلع بھاندرا سے اغوا کیا گیا تھا۔ سنگھ نے ناگپور سے فون پر اے ایف پی کو بتایا کہ تینوں بچیوں کی لاشیں ایک کنویں سے برآمد ہوئی ہیں جن کے ساتھ اسکول کے بستے اور جوتے بھی تھے بچیوں کی عمریں6،9اور11سال تھیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچیوں سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم سنگھ کا کہنا تھا کہ پوچھ گچھ کیلیے4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ متاثرہ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اپنی ماں کو دیکھنے گئی تھیںجو گھر پر نہیں تھی ۔ آرتی سنگھ کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 23سالہ طالبہ کیساتھ ایک بس میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد اسی طرح کی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔