سندھ اسمبلی نے سانحہ کوئٹہ کے خلاف قرارداد منظور کرلی

اپوزیشن کا شدید احتجاج، ملک کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، فیصل سبزواری

سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس1979کو آئینی تحفظ حاصل ہے، وزیرقانون ایاز سومرو۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی میں بدھ کو اس وقت زبردست ہنگامہ اور شور شرابہ ہوا جب اپوزیشن کے رکن عارف مصطفیٰ جتوئی کی طرف سے سوال پوچھنے پروزیر قانون ایازسومرو نے اسپیکر نثار احمدکھوڑو سے کہاکہ ''ان کا بلڈ ٹیسٹ کرایا جائے۔

قبل ازیں عارف مصطفیٰ جتوئی نے اسپیکر سے کہا کہ کیا وزیر قانون میرے شارٹ نوٹس سوال کا جواب دیں گے کہ بجٹ تقریر میں اعلان کے باوجود ارکان سندھ اسمبلی کے ترجیحی پروگراموں کیلیے2کروڑ روپے کی اضافی رقم ابھی تک کیوں منظور نہیں کی گئی۔ وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا ہے ۔ عارف مصطفیٰ جتوئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ اعلان کیا تھا وزیر خزانہ اس کا جواب دے سکتے ہیں ۔ وزیر قانون نے کہا کہ عارف مصطفیٰ جتوئی کا بلڈ ٹیسٹ کرایا جائے کہ وہ پی کر تو نہیں آئے، ان ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔

اپوزیشن رکن جام مدد علی نے کہا کہ وزیر قانون کی یہ تجویز ٹھیک ہے، ہم سب کا بلڈ ٹیسٹ ہونا چاہیے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ کس رکن کوکیا بیماری ہے اور کون پی کر آیا ہے اور کون پی کر نہیں آیا۔ بعدازاں سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی جس میں کوئٹہ کے کیرانی روڈ پر واقع سبزی منڈی میں خودکش حملے کی مذمت کی گئی اور متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ قرارداد کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس سانحہ کوئٹہ کے سوگ میں جمعرات کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔ قرارداد میں حکومت سندھ سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ وفاقی حکومت ٹھوس اقدامات کرے ۔ قرارداد متحدہ قومی موومنٹ کے سید فیصل سبزواری، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا، پیپلز پارٹی کے رکن غلام مجدد اسران، اپوزیشن کی خاتون رکن سیدہ ماروی راشدی اور دیگر ارکان نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔




قرارداد پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سید فیصل سبزواری نے کہا کہ ملک کو بیمار ذہن دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔50 ہزار بے گناہ پاکستانی شہری اب تک دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ غلام مجدد اسران نے کہا کہ دہشت گرد کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔ شہلا رضا نے کہا کہ لشکر جھنگوی کی سرپرستی طالبان اور القاعدہ والے کرتے ہیں، اپوزیشن کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ حکومت لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ اپوزیشن رکن جام مدد علی نے کہا کہ ضد اور انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے کوئٹہ میں فوج بلا کر حالات پر کنٹرول کیا جائے۔

وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، دہشت گرد زیادہ متحرک ہوگئے ہیں۔ اسپیکر نثار کھوڑو نے کہا کہ ان دہشت گردوں کے آگے سر نہیں جھکانا چاہیے مقابلہ کرنا چاہیے۔ قبل ازیں بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے سندھ کے وزیر قانون و پارلیمانی امور ایاز سومرو نے کہا کہ ایس ایم لا کالج کراچی میں داخلے کے لیے ڈومیسائل کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ وزیر قانون نے بتایا کہ یکم جنوری سے31 دسمبر 2011 تک پورے صوبے میں رجسٹر مقدمات میں سزا کی شرح 37فیصد رہی۔ ہم نے 1150 لا افسروں کا گریڈ 17تا گریڈ 19میں تقرر کیا ہے۔ کوئی بھی عدالت ایسی نہیں جہاں لا افسر نہ ہوں۔

Recommended Stories

Load Next Story