متوازن خارجہ پالیسی کی ضرورت
فاٹا میں افغانستان سے کوئی بھی باآسانی قبائلی علاقوں میں آ جاتا ہے اور یہاں سے ادھر چلا جاتا ہے
فاٹا میں افغانستان سے کوئی بھی باآسانی قبائلی علاقوں میں آ جاتا ہے اور یہاں سے ادھر چلا جاتا ہے ۔ فوٹو : فائل
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پاک افغان پالیسی کے اعلان کے بعد ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں پاک امریکا تعلقات میں مزید تناؤ آ سکتا ہے۔ امریکا نے گزشتہ دنوں پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ کیا جس میں ملا ضعیف کے داماد اور دیگر افراد مارے گئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کا تعلق افغان طالبان سے ہے' ویسے تو امریکا پہلے بھی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرتا رہا ہے لیکن کرم ایجنسی میں حالیہ حملہ اس اعتبار سے معنی خیز ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی نئی پاک افغان پالیسی کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے' دونوں ملکوں کے درمیان تاحال سرد مہری کی صورت حال ہے اور سفارتی سطح پر ایسی سرگرمی بھی نظر نہیں آ رہی جس سے یہ لگے کہ دونوں جانب برف پگھل رہی ہے' مغربی میڈیا میں ایسی خبریں اور مضامین سامنے آ رہے ہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ آنے والے وقت میں امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھے گی۔
امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے لیکن دونوں ملکوں میں محاذ آرائی جیسی صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوئی' پاکستان کو اس وقت نان نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل ہے' ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ یہ درجہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال نئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی پوزیشن لیتے ہوئے بہت احتیاط اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا' بلاشبہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور چین پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے' روس کے ساتھ بھی پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں' یوں دیکھا جائے تو اس خطے میں نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ بھارت امریکا کا اتحادی بن چکا ہے' دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے لیے بھارت امریکا اور یورپ کا اتحادی ہے اور اس خطے میں مغربی ممالک کے مفادات اور بھارت کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے' افغانستان میں بھی بھارت بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے' امریکا بھی افغانستان میں موجود ہے' بھارت' ایران میں چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے' اس صورتحال میںپاکستان نے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے' پاکستان کو اپنی ترجیحات کو واضح کرنا ہے' خارجہ پالیسی میں بھی ابہام کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے سب سے پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وطن عزیز کو امریکا اور مغربی یورپ کے ساتھ کھلی محاذ آرائی سے دور رکھا جائے' چین اور امریکا کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں غیرجانبدار رہنا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر ہونا چاہیے۔ افغانستان میں طالبان مزاحمت کر رہے ہیں' امریکا' نیٹو تنظیم اور افغانستان کی حکومت اس مزاحمت کے بارے میں کیا کہتی ہے' یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے' بلاشبہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور اب بھی یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہونا چاہیے لیکن امریکا' نیٹو اور افغانستان اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتے ہیں' اس صورت حال میں پاکستان کو پاک افغان سرحد پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے' فاٹا میں چونکہ ریاستی رٹ کمزور ہے' پاک افغان سرحد بھی غیرمحفوظ ہے۔
اس لیے فاٹا میں افغانستان سے کوئی بھی باآسانی قبائلی علاقوں میں آ جاتا ہے اور یہاں سے ادھر چلا جاتا ہے' کرم ایجنسی میں مارے گئے افراد کا تعلق بھی افغانستان سے جوڑا جا رہا ہے' وقت آ گیا ہے کہ پاکستان فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے کہ آخر اس علاقے کی آئینی و قانونی حیثیت کیا ہے اور ڈیورنڈ لائن مستقل سرحد ہے یا نہیں' اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سندھ یا پنجاب کا کوئی باشندہ قبائلی علاقوں میں باآسانی یا آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتا اور نہ وہ ڈیورنڈ لائن کراس کر سکتا جب کہ قبائلی علاقوں سے لوگوں کا پورے ملک میں آزادانہ آنا جانا ہے' ڈیورنڈ لائن کے آر پار بھی یہ لوگ با آسانی آ جا سکتے ہیں ' یہی وہ مسئلہ ہے جس کی بنا پر فاٹا میں پاکستان کے لیے مسائل پیدا ہوئے اور جو آگے بڑھ کر پورے ملک میں پھیلے ہیں' اب اس صورت حال کو تبدیل کیا جانا ضروری ہے' فاٹا میں آپریشن بھی اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد بنا کر اس پر پیدل اور گاڑیوں پر کراسنگ بند کی جائے تاکہ دہشت گردوں کی آمدورفت روکی جاسکے ' اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور یورپ کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے کیونکہ آج بھی پاکستان کی معیشت کا انحصار امریکا' یورپ اور جاپان پر ہے۔ پاکستان اب نئی طرز کی سرد جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے لیکن دونوں ملکوں میں محاذ آرائی جیسی صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوئی' پاکستان کو اس وقت نان نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل ہے' ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ یہ درجہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال نئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی پوزیشن لیتے ہوئے بہت احتیاط اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا' بلاشبہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور چین پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے' روس کے ساتھ بھی پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں' یوں دیکھا جائے تو اس خطے میں نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ بھارت امریکا کا اتحادی بن چکا ہے' دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے لیے بھارت امریکا اور یورپ کا اتحادی ہے اور اس خطے میں مغربی ممالک کے مفادات اور بھارت کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے' افغانستان میں بھی بھارت بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے' امریکا بھی افغانستان میں موجود ہے' بھارت' ایران میں چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے' اس صورتحال میںپاکستان نے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے' پاکستان کو اپنی ترجیحات کو واضح کرنا ہے' خارجہ پالیسی میں بھی ابہام کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے سب سے پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وطن عزیز کو امریکا اور مغربی یورپ کے ساتھ کھلی محاذ آرائی سے دور رکھا جائے' چین اور امریکا کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں غیرجانبدار رہنا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر ہونا چاہیے۔ افغانستان میں طالبان مزاحمت کر رہے ہیں' امریکا' نیٹو تنظیم اور افغانستان کی حکومت اس مزاحمت کے بارے میں کیا کہتی ہے' یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے' بلاشبہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور اب بھی یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہونا چاہیے لیکن امریکا' نیٹو اور افغانستان اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتے ہیں' اس صورت حال میں پاکستان کو پاک افغان سرحد پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے' فاٹا میں چونکہ ریاستی رٹ کمزور ہے' پاک افغان سرحد بھی غیرمحفوظ ہے۔
اس لیے فاٹا میں افغانستان سے کوئی بھی باآسانی قبائلی علاقوں میں آ جاتا ہے اور یہاں سے ادھر چلا جاتا ہے' کرم ایجنسی میں مارے گئے افراد کا تعلق بھی افغانستان سے جوڑا جا رہا ہے' وقت آ گیا ہے کہ پاکستان فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے کہ آخر اس علاقے کی آئینی و قانونی حیثیت کیا ہے اور ڈیورنڈ لائن مستقل سرحد ہے یا نہیں' اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سندھ یا پنجاب کا کوئی باشندہ قبائلی علاقوں میں باآسانی یا آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتا اور نہ وہ ڈیورنڈ لائن کراس کر سکتا جب کہ قبائلی علاقوں سے لوگوں کا پورے ملک میں آزادانہ آنا جانا ہے' ڈیورنڈ لائن کے آر پار بھی یہ لوگ با آسانی آ جا سکتے ہیں ' یہی وہ مسئلہ ہے جس کی بنا پر فاٹا میں پاکستان کے لیے مسائل پیدا ہوئے اور جو آگے بڑھ کر پورے ملک میں پھیلے ہیں' اب اس صورت حال کو تبدیل کیا جانا ضروری ہے' فاٹا میں آپریشن بھی اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد بنا کر اس پر پیدل اور گاڑیوں پر کراسنگ بند کی جائے تاکہ دہشت گردوں کی آمدورفت روکی جاسکے ' اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور یورپ کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے کیونکہ آج بھی پاکستان کی معیشت کا انحصار امریکا' یورپ اور جاپان پر ہے۔ پاکستان اب نئی طرز کی سرد جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔