ایک بہترین کتاب
یہ بڑی خوشی اور اعتماد کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں جہاں ہر طرف جہل کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
یہ بڑی خوشی اور اعتماد کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں جہاں ہر طرف جہل کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے افکار اس گھپ اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر مایوس لوگوں میں امید کی جوت جگا رہے ہیں، ان میں سے ایک سلیم راز ہیں، سلیم راز نے اپنے مضامین کو کتابی شکل دے کر طالبان علم و شعور کے لیے سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ سلیم راز نے اپنے اس مضامین کے مجموعے کا نام ''یقین'' رکھا ہے۔ یقین خود اعتمادی سے پیدا ہوتا ہے، مجھے یقین ہے کہ سلیم راز نے بڑے یقین سے اس کتاب کا نام یقین رکھا ہوگا۔
اس یقین میں 25 مضامین شامل ہیں۔ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جہل کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو یقین کے اجالوں سے روشناس کرائیں۔ ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بوجوہ کتاب کلچر ختم ہوگیا ہے اس کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں، ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے اپنے ناظرین کو یہ سہولت فراہم کردی ہے کہ وہ نیٹ پر جو کتاب پڑھنا چاہتے ہیں وہ نیٹ پر ہی نہیں بلکہ اب موبائل فون کے اسکرین پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ بہرحال کتاب کلچر ہمارے معاشرے سے اٹھ گیا ہے جس کے نقصانات ہم جرائم کی بھرمار، مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں، بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کتاب کلچر بھرپور طریقے سے موجود تھا، کراچی میں کیبن لائبریری اور لاہور میں آنہ لائبریریوں کی شکل عوام کو ادبی کتابیں مہیا کرنے کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود تھا، جہاں برصغیر کے معروف لکھاریوں کی کتابیں معمولی کرائے پر ادب کے شائقین کو فراہم کی جاتی تھیں۔
اس کا اثر یہ تھا کہ اس دور میں معاشرہ جرائم سے پاک تھا اور لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر بے فکری سے سوجاتے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گھروں کے دروازوں میں علی گڑھی تالا موجود ہونے کے باوجود لوگ غیر محفوظ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کتاب کلچر کے خاتمے سے معاشرے میں بہت ساری برائیاں پیدا ہوگئی ہیں ان کا ایک سبب تو کتاب کلچر کا عدم وجود ہے لیکن اس کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب سرمایہ دارانہ نظام ہے جو برائیوں اور جرائم سے شروع ہوتا ہے اور ان ہی پر ختم ہوتا ہے۔
ان مضامین کے بارے میں صرف یہی کہاجاسکتا ہے کہ گھپ اندھیرے میں یہ مضامین روشنی کی کرنیں ہیں جو لکھاری پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اس گلے سڑے معاشرے میں اب بنیادی تبدیلیاں آنی چاہئیں ان کی تخلیقات خواہ وہ مضامین کی شکل میں ہوں، افسانوں کی شکل میں یا شاعری کی شکل میں عوام میں یہ یقین پیدا کرتی ہیں کہ اب بنیادی تبدیلیوں کے بغیر اس بوسیدہ معاشرے کی عمارت باقی نہیں رہ سکتی۔ سلیم راز کی کتاب پڑھنے کے بعد پڑھنے والے کا یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ اب ایک فکری انقلاب ناگزیر ہے۔
یقین کو ہم نظریاتی استحکام بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً ہر مذہب کے ماننے والے خدا پر یقین رکھتے ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن اس ملک کے اکیس کروڑ اور دنیا کے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ ان کی غربت ان کا افلاس خدا کی دین اور خدا کی مرضی ہے، معاشرے کے مقدس لوگ اس یقین کو سادہ لوح انسانوں کے ذہنوں میں پختہ کرتے ہیں، یہ ایک ایسا فریب ہے جس کا پردہ سلیم راز اور ان جیسے لوگ چاک کررہے ہیں، لوگ جب تک مجرموں کو نہیں پہچانیںگے اس وقت تک ان کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھائیںگے جو لوگ صدیوں سے بھوک، غربت و افلاس کو تقدیر کا لکھا اور خدا کی مرضی کہتے آرہے ہیں، اب یہ لوگ زیادہ دیر تک اس عیارانہ کھیل کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
خدا ایک ہے لیکن ہر مذہب نے اسے الگ نام دے کر ایک خدا کے کئی خدا بناڈالے ہیں اور اپنے اپنے خداؤں کے نام پر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ مسئلہ خدا کا ہو یا خدا کے بندوں کا تقسیم ہی ہر برائی کی جڑ ہے۔ رنگ، نسل، قومیت، ملک و ملت، دین دھرم کے حوالوں سے سرمایہ داروں کے ایجنٹوں نے عوام کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ عوام متحدہ ہوتے ہیں تو پھر وہ طاقت کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور استحصالی طبقات جانتے ہیں کہ عوام کا اتحاد ان کی موت ہوگا۔ اب سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی تحقیق اور انکشافات کا دور ہے اب ان حوالوں سے دنیا کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ اب فرسودہ عقائد و نظریات سے چمٹے رہنے کا وقت نہیں ہے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر دور کے عقائد و نظریات اپنے دور کے علم اور معلومات کے مطابق ہوتے ہیں آج کا علم آج کی معلومات کا تقاضا یہ ہے کہ جدید علوم کی روشنی میں دنیا کی از سر نو نظریاتی تشکیل کی جائے تاکہ کرۂ ارض پر رہنے والا انسان امن اور خوشحالی کے ساتھ زندہ رہ سکے۔
سلیم راز نے اپنے مضامین میں جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی اہمیت ضرورت اور تحفظ کی بات بھی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی تاریخ میں جمہوریت ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں عوام بڑی حد تک جمہوریت کے ثمرات سے مستفید بھی ہورہے ہیں لیکن اس حوالے سے ہم اگر اپنی جمہوریت پر نظر ڈالتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ جمہوریت کو دنیا میں روشناس کرانے والوں نے جمہوریت کی تعریف یا وضاحت اس طرح کی ہے ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے عوام، عوام کے ذریعے'' سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری جمہوریت اس تعریف پر پوری اترتی ہے؟پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے اب 70 سال ہورہے ہیں۔
اس دوران تقریباً پاکستان کی عمر کا نصف سے زیادہ حصہ جمہوریت کے زیر تسلط رہا لیکن اس طویل عرصے میں عوام کے مسائل میں کمی تو نہ ہوسکی بلکہ بے تحاشا اضافہ ضرور ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوریت رہی ہی نہیں اس جمہوریت کے دودھ سے عوام کو مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں خاندانی حکمرانی مستحکم ہوگئی ہے اور حکمران طبقات اپنا سارا وقت لوٹ مار میں صرف کردیتے ہیں اس کلچر سے نکلے بغیر جمہوریت بے معنی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے نے ولیعہدی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور بلدیاتی نظام کو مفلوج بنادیا ہے اور یوں جمہوری ارتقا کے راستے بند کردیے ہیں جب تک ملک سے خاندانی جمہوریت کا خاتمہ اور مکمل اختیارات کے ساتھ بلدیاتی نظام نافذ نہیں ہوتا اس ملک کے 22 کروڑ عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
(یہ مضمون سلیم راز کی کتاب ''یقین'' کی تقریب اجرا میں پڑھا گیا)
اس یقین میں 25 مضامین شامل ہیں۔ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جہل کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو یقین کے اجالوں سے روشناس کرائیں۔ ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بوجوہ کتاب کلچر ختم ہوگیا ہے اس کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں، ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے اپنے ناظرین کو یہ سہولت فراہم کردی ہے کہ وہ نیٹ پر جو کتاب پڑھنا چاہتے ہیں وہ نیٹ پر ہی نہیں بلکہ اب موبائل فون کے اسکرین پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ بہرحال کتاب کلچر ہمارے معاشرے سے اٹھ گیا ہے جس کے نقصانات ہم جرائم کی بھرمار، مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں، بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کتاب کلچر بھرپور طریقے سے موجود تھا، کراچی میں کیبن لائبریری اور لاہور میں آنہ لائبریریوں کی شکل عوام کو ادبی کتابیں مہیا کرنے کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود تھا، جہاں برصغیر کے معروف لکھاریوں کی کتابیں معمولی کرائے پر ادب کے شائقین کو فراہم کی جاتی تھیں۔
اس کا اثر یہ تھا کہ اس دور میں معاشرہ جرائم سے پاک تھا اور لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر بے فکری سے سوجاتے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گھروں کے دروازوں میں علی گڑھی تالا موجود ہونے کے باوجود لوگ غیر محفوظ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کتاب کلچر کے خاتمے سے معاشرے میں بہت ساری برائیاں پیدا ہوگئی ہیں ان کا ایک سبب تو کتاب کلچر کا عدم وجود ہے لیکن اس کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب سرمایہ دارانہ نظام ہے جو برائیوں اور جرائم سے شروع ہوتا ہے اور ان ہی پر ختم ہوتا ہے۔
ان مضامین کے بارے میں صرف یہی کہاجاسکتا ہے کہ گھپ اندھیرے میں یہ مضامین روشنی کی کرنیں ہیں جو لکھاری پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اس گلے سڑے معاشرے میں اب بنیادی تبدیلیاں آنی چاہئیں ان کی تخلیقات خواہ وہ مضامین کی شکل میں ہوں، افسانوں کی شکل میں یا شاعری کی شکل میں عوام میں یہ یقین پیدا کرتی ہیں کہ اب بنیادی تبدیلیوں کے بغیر اس بوسیدہ معاشرے کی عمارت باقی نہیں رہ سکتی۔ سلیم راز کی کتاب پڑھنے کے بعد پڑھنے والے کا یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ اب ایک فکری انقلاب ناگزیر ہے۔
یقین کو ہم نظریاتی استحکام بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً ہر مذہب کے ماننے والے خدا پر یقین رکھتے ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن اس ملک کے اکیس کروڑ اور دنیا کے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ ان کی غربت ان کا افلاس خدا کی دین اور خدا کی مرضی ہے، معاشرے کے مقدس لوگ اس یقین کو سادہ لوح انسانوں کے ذہنوں میں پختہ کرتے ہیں، یہ ایک ایسا فریب ہے جس کا پردہ سلیم راز اور ان جیسے لوگ چاک کررہے ہیں، لوگ جب تک مجرموں کو نہیں پہچانیںگے اس وقت تک ان کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھائیںگے جو لوگ صدیوں سے بھوک، غربت و افلاس کو تقدیر کا لکھا اور خدا کی مرضی کہتے آرہے ہیں، اب یہ لوگ زیادہ دیر تک اس عیارانہ کھیل کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
خدا ایک ہے لیکن ہر مذہب نے اسے الگ نام دے کر ایک خدا کے کئی خدا بناڈالے ہیں اور اپنے اپنے خداؤں کے نام پر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ مسئلہ خدا کا ہو یا خدا کے بندوں کا تقسیم ہی ہر برائی کی جڑ ہے۔ رنگ، نسل، قومیت، ملک و ملت، دین دھرم کے حوالوں سے سرمایہ داروں کے ایجنٹوں نے عوام کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ عوام متحدہ ہوتے ہیں تو پھر وہ طاقت کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور استحصالی طبقات جانتے ہیں کہ عوام کا اتحاد ان کی موت ہوگا۔ اب سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی تحقیق اور انکشافات کا دور ہے اب ان حوالوں سے دنیا کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ اب فرسودہ عقائد و نظریات سے چمٹے رہنے کا وقت نہیں ہے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر دور کے عقائد و نظریات اپنے دور کے علم اور معلومات کے مطابق ہوتے ہیں آج کا علم آج کی معلومات کا تقاضا یہ ہے کہ جدید علوم کی روشنی میں دنیا کی از سر نو نظریاتی تشکیل کی جائے تاکہ کرۂ ارض پر رہنے والا انسان امن اور خوشحالی کے ساتھ زندہ رہ سکے۔
سلیم راز نے اپنے مضامین میں جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی اہمیت ضرورت اور تحفظ کی بات بھی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی تاریخ میں جمہوریت ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں عوام بڑی حد تک جمہوریت کے ثمرات سے مستفید بھی ہورہے ہیں لیکن اس حوالے سے ہم اگر اپنی جمہوریت پر نظر ڈالتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ جمہوریت کو دنیا میں روشناس کرانے والوں نے جمہوریت کی تعریف یا وضاحت اس طرح کی ہے ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے عوام، عوام کے ذریعے'' سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری جمہوریت اس تعریف پر پوری اترتی ہے؟پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے اب 70 سال ہورہے ہیں۔
اس دوران تقریباً پاکستان کی عمر کا نصف سے زیادہ حصہ جمہوریت کے زیر تسلط رہا لیکن اس طویل عرصے میں عوام کے مسائل میں کمی تو نہ ہوسکی بلکہ بے تحاشا اضافہ ضرور ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوریت رہی ہی نہیں اس جمہوریت کے دودھ سے عوام کو مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں خاندانی حکمرانی مستحکم ہوگئی ہے اور حکمران طبقات اپنا سارا وقت لوٹ مار میں صرف کردیتے ہیں اس کلچر سے نکلے بغیر جمہوریت بے معنی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے نے ولیعہدی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور بلدیاتی نظام کو مفلوج بنادیا ہے اور یوں جمہوری ارتقا کے راستے بند کردیے ہیں جب تک ملک سے خاندانی جمہوریت کا خاتمہ اور مکمل اختیارات کے ساتھ بلدیاتی نظام نافذ نہیں ہوتا اس ملک کے 22 کروڑ عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
(یہ مضمون سلیم راز کی کتاب ''یقین'' کی تقریب اجرا میں پڑھا گیا)