دوڑا ‘دوڑا ‘دوڑا ‘گھوڑا دوڑا
اب یہ کوئی نفسیاتی ڈاکٹرہی بتا سکتا ہے کہ سیاسی لیڈروں سے گھوڑے کا تعلق کیا ہے
barq@email.com
ISLAMABAD:
جانے کیا بات ہے بلکہ ہو نہ ہو یہ ہماری کوئی ذہنی نفسیاتی گرہ ہے کہ جتنے انتخاب کے چرچے عام ہو رہے ہیں، اتنا ہی ہمارے دل میں ''تحقیق'' کا جذبہ بیدار ہوتا جارہا ہے اور پھر جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے بلکہ آپ نے خود بھی سڑکوں کے کنارے جہازی قسم کے ہورڈنگز اوران پر جمبو قسم کے چہرے دیکھے ہوں گے،ان بورڈوں اور چہروں کو دیکھ کر کہیں نہ کہیں ہماری کوئی نہ کوئی تحقیقی رگ پھڑک اٹھتی ہے، اس کے ساتھ ہی ایک اور الرجی مل کر ہمیں اتاؤلا کر دیتی ہے، یہ الرجی اخباروں اور چینلوں سے ہے، اس لیے تحقیق کے لیے مواد صرف فلمی گانوں ہی سے فراہم کرنا پڑتا ہے،آج بھی ایسا ہوا، شہر جاتے جاتے کچھ دیر تک تو ہم آنکھیں بند کیے رہے کیوں کہ بزرگوں نے کہا ہے کہ صبح صبح منحوس چہروں کو دیکھنے سے بچنا چاہیے لیکن کہاں تک۔
عالم غبار وخشت مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
ان بورڈوں اور چہروں پر نظر پڑ ہی گئی اور پہلی ہی نظر میں جن چہروں کو دیکھا، ان سے اچانک نہ جانے کہاں سے دماغ میں ایک گانا گونجنے لگا،
لکڑی کا گھوڑا، گھوڑے پر کاٹھی
گھوڑے کی دم پر مارا ہتھوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دوڑا
اب یہ کوئی نفسیاتی ڈاکٹرہی بتا سکتا ہے کہ سیاسی لیڈروں سے گھوڑے کا تعلق کیا ہے اور پھر لکڑی کا گھوڑا جو صرف ایک جگہ کھڑا آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے، گھوڑے پہ کاٹھی تو خیر سمجھ میں آجاتی ہے کیوں کہ اکثر گھوڑوں کی پیٹھ پر کسی نہ کسی پارٹی کی کاٹھی رکھی ہوتی ہے چونکہ یہ کاٹھی ہلکی ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات گھوڑا کاٹھی سمیت بھاگ کر کسی اور اصطبل میں چلا جاتا ہے، جنرل مشرف کے دور میں بھی ایسے آٹھ دس گھوڑے کاٹھیوں سمیت بھاگ گئے تھے کیونکہ دوسرے اصطبل میں بڑی تازہ اور ہری ہری گھاس تھی اور ان کو جو گھاس یہاں مل رہی تھی وہ سہ رنگی تھی، سبز، سرخ اور کالی، خبر یہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے، سبز اور ہری گھاس ہر گھوڑے کی کمزوری ہوتی ہے لیکن کاٹھی سمیت بھاگنے کی یہ پہلی مثال تھی۔
خط سبزے بہ خط سبز مرا کرد اسیر
دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار شدم
ویسے گھوڑے کا سیاست سے تعلق بہت قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ہیرو ڈوٹس نے بھی ایک ایسے تاریخی واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں گھوڑے نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ مشہور ایرانی فاتح سائرس یاکورش کے مرنے کے بعد جب اس کا بیٹا کمبوجہ مصر میں تھا تو ایک ''مغ'' (مذہبی پروہت) نے تحت پر قبضہ کر لیا جو اس کے بھائی اور کورش کے دوسرے بیٹے کا ہم شکل تھا حالانکہ اپنے بھائی کو کمبوجہ نے مصر ہی سے سازش کر کے مروایا تھا۔ اب وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا لیکن مصر سے چل پڑا لیکن راستے ہی میں مر گیا، اب تو اس نقلی بادشاہ کی بادشاہت پکی ہو گئی تھی لیکن اکمیندے کے کچھ سرداروں کو یہ راز معلوم تھا چنانچہ سات سرداروں نے مل کر ایک دن اس ''مغ'' کو قتل کر دیا۔
ان سرداروں میں مشہور و معروف ایرانی بادشاہ داریوش کبیر یا دارائے اعظم بھی تھا، مغ کو قتل کرنے کے بعد اب مسئلہ یہ تھا کہ سات سرداروں میں سے بادشاہ کون بنے، اس کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سویرے وہ ساتوں اپنے اپنے گھوڑوں پر شہر سے ایک خاص سمت میں نکل جائیں اور جس کا گھوڑا سب سے پہلے ہنہنایا وہی بادشاہ بنے گا، داریوش کے پاس ایک بڑا ہی ماہر سائس تھا۔ اس نے داریوش کو ایک تجویز پیش کی، وہ رات کو ایک گھوڑی اور دارا کے گھوڑے کو لے کر اس طرف نکل گیا، پھرگھوڑی کو تو وہیں درختوں میں چھپا کر باندھ دیا اور گھوڑے کو لے کر واپس ہوا، صبح جب داریوش سرداروں کے ساتھ گھوڑے پر نکلا تو اس مخصوص مقام پر پہنچ کر گھوڑے نے گھوڑی کی بو پائی اور زور سے ہنہنانے لگا۔ اس طرح دارا بادشاہ بن گیا، لیکن یہ کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
وہ لوگ نہیں رہے،گھوڑے گھوڑیاں بھی وہ نہیں رہیں لیکن گھوڑوں کو رجھانے کا یہ فن سینہ بسینہ چلتا ہوا آج کے دور تک آگیا ہے بلکہ اس میں مزید ریسرچ کر کے پتہ چلایا گیا کہ انسان نما سیاسی گھوڑوں کو کیسے ہنہنایا جا سکتا ہے۔کسی ماہر محقق نے پتہ لگایا کہ انسان نما دو پاؤں کے گھوڑوں کو جو اسمبلی نامی اصطبل میں پائے جاتے ہیں،کس چیز پر رجھایا جاسکتا ہے اور یہ چیز ایک خاص قسم کا کاغذ ہے جس پر خاص قسم کی سیاہی میں خاص قسم کے نقش بنائے گئے ہوتے ہیں،کچھ لوگ اس کاغذ کو تعویز اعظم بھی کہتے ہیں۔ اس کی بو میں اتنی زیادہ کشش ہے کہ کم زور قسم کے گھوڑے تو پہلے ہی جھونکے میں ہنہنانے لگتے ہیں۔کچھ ذرا زیادہ سخت قسم کے گھوڑوں کے لیے کاغذوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور اس کی خوشبو مزید تیز کی جاتی ہے، لیکن بعض اوقات کچھ گھوڑے اس کے باوجود بھی راستے پر نہیں آتے، اس کے لیے ماہرین نے ایک خاص قسم کا ہتھوڑا ایجاد کیا، اس ہتھوڑے کو جب گھوڑے کی دم پر مارا جاتا ہے تو پھر
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دوڑا
اس ہتھوڑے کی مار اتنی سخت ہے کہ اکثر گھوڑے امریکا، لندن اور دبئی تک بھاگتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ تو اس ہتھوڑے کی ایک ہی ضرب سے ایک گھوڑا دم لیے بغیر ایک ہی رات میں جدہ پہنچ گیا تھا، لیکن ہمار ے ہاں ابھی ''گھوڑا دوڑ''میں یہ مرحلہ تو نہیں آیا ہے کہ ہتھوڑے سے کام لیا جائے، اس لیے خوش بودار گھاس یعنی کاغذوں سے کام لیا جارہا ہے ۔۔۔ اور گھوڑے اتنی تیزی سے یہاں وہاں بھاگ کر اصطبل بدلنے لگے ہیں کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ گھوڑا کہاں ہے اور اس کی کاٹھی کہاں گر گئی اور یہ کہ گھوڑا کس اصطبل سے آرہا ہے یا کس اصطبل جارہا ہے، سارے اصطبلوں کے نقشے بدل رہے ہیں اور گھوڑے دم اٹھائے یہاں وہاں بھاگ رہے ہیں یہاں تک کہ گدھوں نے بھی گھوڑوں جیسے حلیے بنا لیے ہیں،
اسپ تازی شدہ مجروح پہ زیر پالان
طوق زرق ھمہ درگردن خرمی بنیم
جانے کیا بات ہے بلکہ ہو نہ ہو یہ ہماری کوئی ذہنی نفسیاتی گرہ ہے کہ جتنے انتخاب کے چرچے عام ہو رہے ہیں، اتنا ہی ہمارے دل میں ''تحقیق'' کا جذبہ بیدار ہوتا جارہا ہے اور پھر جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے بلکہ آپ نے خود بھی سڑکوں کے کنارے جہازی قسم کے ہورڈنگز اوران پر جمبو قسم کے چہرے دیکھے ہوں گے،ان بورڈوں اور چہروں کو دیکھ کر کہیں نہ کہیں ہماری کوئی نہ کوئی تحقیقی رگ پھڑک اٹھتی ہے، اس کے ساتھ ہی ایک اور الرجی مل کر ہمیں اتاؤلا کر دیتی ہے، یہ الرجی اخباروں اور چینلوں سے ہے، اس لیے تحقیق کے لیے مواد صرف فلمی گانوں ہی سے فراہم کرنا پڑتا ہے،آج بھی ایسا ہوا، شہر جاتے جاتے کچھ دیر تک تو ہم آنکھیں بند کیے رہے کیوں کہ بزرگوں نے کہا ہے کہ صبح صبح منحوس چہروں کو دیکھنے سے بچنا چاہیے لیکن کہاں تک۔
عالم غبار وخشت مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
ان بورڈوں اور چہروں پر نظر پڑ ہی گئی اور پہلی ہی نظر میں جن چہروں کو دیکھا، ان سے اچانک نہ جانے کہاں سے دماغ میں ایک گانا گونجنے لگا،
لکڑی کا گھوڑا، گھوڑے پر کاٹھی
گھوڑے کی دم پر مارا ہتھوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دوڑا
اب یہ کوئی نفسیاتی ڈاکٹرہی بتا سکتا ہے کہ سیاسی لیڈروں سے گھوڑے کا تعلق کیا ہے اور پھر لکڑی کا گھوڑا جو صرف ایک جگہ کھڑا آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے، گھوڑے پہ کاٹھی تو خیر سمجھ میں آجاتی ہے کیوں کہ اکثر گھوڑوں کی پیٹھ پر کسی نہ کسی پارٹی کی کاٹھی رکھی ہوتی ہے چونکہ یہ کاٹھی ہلکی ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات گھوڑا کاٹھی سمیت بھاگ کر کسی اور اصطبل میں چلا جاتا ہے، جنرل مشرف کے دور میں بھی ایسے آٹھ دس گھوڑے کاٹھیوں سمیت بھاگ گئے تھے کیونکہ دوسرے اصطبل میں بڑی تازہ اور ہری ہری گھاس تھی اور ان کو جو گھاس یہاں مل رہی تھی وہ سہ رنگی تھی، سبز، سرخ اور کالی، خبر یہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے، سبز اور ہری گھاس ہر گھوڑے کی کمزوری ہوتی ہے لیکن کاٹھی سمیت بھاگنے کی یہ پہلی مثال تھی۔
خط سبزے بہ خط سبز مرا کرد اسیر
دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار شدم
ویسے گھوڑے کا سیاست سے تعلق بہت قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ہیرو ڈوٹس نے بھی ایک ایسے تاریخی واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں گھوڑے نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ مشہور ایرانی فاتح سائرس یاکورش کے مرنے کے بعد جب اس کا بیٹا کمبوجہ مصر میں تھا تو ایک ''مغ'' (مذہبی پروہت) نے تحت پر قبضہ کر لیا جو اس کے بھائی اور کورش کے دوسرے بیٹے کا ہم شکل تھا حالانکہ اپنے بھائی کو کمبوجہ نے مصر ہی سے سازش کر کے مروایا تھا۔ اب وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا لیکن مصر سے چل پڑا لیکن راستے ہی میں مر گیا، اب تو اس نقلی بادشاہ کی بادشاہت پکی ہو گئی تھی لیکن اکمیندے کے کچھ سرداروں کو یہ راز معلوم تھا چنانچہ سات سرداروں نے مل کر ایک دن اس ''مغ'' کو قتل کر دیا۔
ان سرداروں میں مشہور و معروف ایرانی بادشاہ داریوش کبیر یا دارائے اعظم بھی تھا، مغ کو قتل کرنے کے بعد اب مسئلہ یہ تھا کہ سات سرداروں میں سے بادشاہ کون بنے، اس کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سویرے وہ ساتوں اپنے اپنے گھوڑوں پر شہر سے ایک خاص سمت میں نکل جائیں اور جس کا گھوڑا سب سے پہلے ہنہنایا وہی بادشاہ بنے گا، داریوش کے پاس ایک بڑا ہی ماہر سائس تھا۔ اس نے داریوش کو ایک تجویز پیش کی، وہ رات کو ایک گھوڑی اور دارا کے گھوڑے کو لے کر اس طرف نکل گیا، پھرگھوڑی کو تو وہیں درختوں میں چھپا کر باندھ دیا اور گھوڑے کو لے کر واپس ہوا، صبح جب داریوش سرداروں کے ساتھ گھوڑے پر نکلا تو اس مخصوص مقام پر پہنچ کر گھوڑے نے گھوڑی کی بو پائی اور زور سے ہنہنانے لگا۔ اس طرح دارا بادشاہ بن گیا، لیکن یہ کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
وہ لوگ نہیں رہے،گھوڑے گھوڑیاں بھی وہ نہیں رہیں لیکن گھوڑوں کو رجھانے کا یہ فن سینہ بسینہ چلتا ہوا آج کے دور تک آگیا ہے بلکہ اس میں مزید ریسرچ کر کے پتہ چلایا گیا کہ انسان نما سیاسی گھوڑوں کو کیسے ہنہنایا جا سکتا ہے۔کسی ماہر محقق نے پتہ لگایا کہ انسان نما دو پاؤں کے گھوڑوں کو جو اسمبلی نامی اصطبل میں پائے جاتے ہیں،کس چیز پر رجھایا جاسکتا ہے اور یہ چیز ایک خاص قسم کا کاغذ ہے جس پر خاص قسم کی سیاہی میں خاص قسم کے نقش بنائے گئے ہوتے ہیں،کچھ لوگ اس کاغذ کو تعویز اعظم بھی کہتے ہیں۔ اس کی بو میں اتنی زیادہ کشش ہے کہ کم زور قسم کے گھوڑے تو پہلے ہی جھونکے میں ہنہنانے لگتے ہیں۔کچھ ذرا زیادہ سخت قسم کے گھوڑوں کے لیے کاغذوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور اس کی خوشبو مزید تیز کی جاتی ہے، لیکن بعض اوقات کچھ گھوڑے اس کے باوجود بھی راستے پر نہیں آتے، اس کے لیے ماہرین نے ایک خاص قسم کا ہتھوڑا ایجاد کیا، اس ہتھوڑے کو جب گھوڑے کی دم پر مارا جاتا ہے تو پھر
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دوڑا
اس ہتھوڑے کی مار اتنی سخت ہے کہ اکثر گھوڑے امریکا، لندن اور دبئی تک بھاگتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ تو اس ہتھوڑے کی ایک ہی ضرب سے ایک گھوڑا دم لیے بغیر ایک ہی رات میں جدہ پہنچ گیا تھا، لیکن ہمار ے ہاں ابھی ''گھوڑا دوڑ''میں یہ مرحلہ تو نہیں آیا ہے کہ ہتھوڑے سے کام لیا جائے، اس لیے خوش بودار گھاس یعنی کاغذوں سے کام لیا جارہا ہے ۔۔۔ اور گھوڑے اتنی تیزی سے یہاں وہاں بھاگ کر اصطبل بدلنے لگے ہیں کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ گھوڑا کہاں ہے اور اس کی کاٹھی کہاں گر گئی اور یہ کہ گھوڑا کس اصطبل سے آرہا ہے یا کس اصطبل جارہا ہے، سارے اصطبلوں کے نقشے بدل رہے ہیں اور گھوڑے دم اٹھائے یہاں وہاں بھاگ رہے ہیں یہاں تک کہ گدھوں نے بھی گھوڑوں جیسے حلیے بنا لیے ہیں،
اسپ تازی شدہ مجروح پہ زیر پالان
طوق زرق ھمہ درگردن خرمی بنیم