ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا عزم
پاک فوج اور پوری قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی ہے
پاک فوج اور پوری قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ فوٹو: فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اراکین پارلیمنٹ نے مشترکہ ذمے داری اور کوششوں سے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں کے اراکین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، اس موقع پر اراکین پارلیمنٹ کو بہتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کمیٹیوں کے اراکین کو سرحد کی صورتحال اور امن کے قیام میں پاک فوج کی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو یاد ہوگا کہ 2 اگست2017 کو کوئٹہ کے ایک سیمینار میں چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے ریاستی اداروں کے مابین قریبی تعلقات، مفاہمت اور تعمیری تعلقات کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ انتظامیہ ،عدلیہ اور عسکری اداروں کے مابین ایک ادارہ جاتی ڈائیلاگ ہونا چاہیے کیونکہ سسٹم کسی قسم کے تنازع اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا، ان کی تجویز تھی کہ اس مکالمے کی روشنی میں طے پاجانا چاہیے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی یقینی بنائیں۔
یہ غالباً اسی نیک خواہش اور ناگزیر سیاسی ضرورت کا نتیجہ و تقاضہ تھا کہ پیر کو پارلیمنٹیرینز اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ایک خوش آیند ملاقات کا اہتمام کیا گیا جو دہشت گردی کے عفریت اور خطے میں امن واستحکام کے وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ خطے کو بلاشبہ کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے ،داخلی و خارجی سطح پر ملکی سالمیت کے ضمن میں نہ صرف اہم اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ اٹھتے ہوئے طوفانوں سے نمٹنے کیلیے بھی تزویراتی ، سیاسی ، سفارتی اور عسکری دانش و مدبرانہ حکمت عملی کو بروئے کار لانے کیلیے ہمہ گیر سیاسی اشتراک عمل وقت کا تقاضہ ہے، محض بیانات سے یہ آندھی رک نہیں سکے گی۔
اس وقت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلیے امریکا پہنچ گئے ہیں، وہ نیو یارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کریں گے، وزیراعظم کی منگل کو مختلف سربراہان مملکت اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقاتیں شروع ہوںگی۔ وزیراعظم کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت سے قبل سول اور ملٹری قیادت سے ملاقاتیں اور مشاورت ہوئی ہے جب کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی نیویارک سے واشنگٹن جائیں گے جہاں ان کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ''گھر کی صفائی ''سے متعلق بیان کو درست قراردیا ہے اور اس موقف کی حمایت کی ہے کہ اپنے گھر کی صفائی ہونی چاہیے۔ یہ تشبیہاتی صفائی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم سے جڑی ہوئی ہے جس کی گونج ایوان بالا کے اجلاس میں سنی گئی جہاں حکومتی و اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اراکین سینیٹ کا موقف تھا کہ پاک فوج اور پوری قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بطور طاقت ختم کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے لیکن اس کے برعکس ہمیں معاشرہ کے مجموعی فکری سوچ میں تبدیلی لانے کیلیے ٹھوس اقدامات اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق ایک اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور شدت پسندی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں تنظیم کے ممبر ممالک، پاکستان ، بھارت، قازقستان، چین، کرغزستان، روس ، تاجکستان و ازبکستان نے شرکت کی۔ اس لیے زمینی حقائق کا ملکی و علاقائی اور عالمی سیاق وسباق کو ہر دم پیش نظر رکھنا چاہیے، ٹرمپ کی پٹاری میں کیا کچھ ہے ،اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے ترکش میں کتنے ایسے تیر بہدف نسخے ہیں جس کی بدولت امریکا سے مفاہمت ہوجائے، ٹرمپ کسی کروٹ بیٹھ جائے، بقائے باہم ، قومی یکجہتی، ملکی سالمیت اور جمہوری اقدار و شفاف نظم حکمرانی کی قوم کو حکمرانوں کی طرف سے ضمانت مل جائے۔
خطے میں افغان پالیسی کا اعلان بلاشبہ ہوچکا ہے مگر ابھی انکل سام کی مٹھی بند ہے، ٹرمپ انتظامیہ اپنا مدعا بیان کرچکی ہے، امریکی عزائم صاف نظر آرہے ہیں ،اسی لیے کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔پاکستان کے اولین مفادات کے تحفظ کے لیے وزیراعظم اور ان کی کابینہ سمیت مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کیلیے بند امریکی مٹھی کے کھلنے سے پہلے قومی سیاست میں استحکام، آئین کے تحت سیاسی مصالحت ، اداروں کے مابین اشترک عمل اور خیر سگالی کا ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے، سوچنے کا مقام ہے کہ امریکا افغانستان میں مزید 3 ہزار سے زائد فوجی بھیجے گا جو شدت پسندوں کے خلاف افغان فورسز کی مدد کریں گے جب کہ افغان حکام سے ملنے والی ایک اطلاع کے مطابق افغان اسپیشل فورسز کے ضلع باٹی کوٹ میں کیے گئے آپریشن میں 3 شدت پسند مارے گئے جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبا ن پاکستان سے بتایا گیا تھا۔اندریں حالات ملک کو لاحق خطرات کی باتیں شدت کے ساتھ ہورہی ہیں،اسے بھی چشم کشائی کے لیے کافی سمجھنا چاہیے۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو یاد ہوگا کہ 2 اگست2017 کو کوئٹہ کے ایک سیمینار میں چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے ریاستی اداروں کے مابین قریبی تعلقات، مفاہمت اور تعمیری تعلقات کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ انتظامیہ ،عدلیہ اور عسکری اداروں کے مابین ایک ادارہ جاتی ڈائیلاگ ہونا چاہیے کیونکہ سسٹم کسی قسم کے تنازع اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا، ان کی تجویز تھی کہ اس مکالمے کی روشنی میں طے پاجانا چاہیے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی یقینی بنائیں۔
یہ غالباً اسی نیک خواہش اور ناگزیر سیاسی ضرورت کا نتیجہ و تقاضہ تھا کہ پیر کو پارلیمنٹیرینز اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ایک خوش آیند ملاقات کا اہتمام کیا گیا جو دہشت گردی کے عفریت اور خطے میں امن واستحکام کے وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ خطے کو بلاشبہ کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے ،داخلی و خارجی سطح پر ملکی سالمیت کے ضمن میں نہ صرف اہم اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ اٹھتے ہوئے طوفانوں سے نمٹنے کیلیے بھی تزویراتی ، سیاسی ، سفارتی اور عسکری دانش و مدبرانہ حکمت عملی کو بروئے کار لانے کیلیے ہمہ گیر سیاسی اشتراک عمل وقت کا تقاضہ ہے، محض بیانات سے یہ آندھی رک نہیں سکے گی۔
اس وقت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلیے امریکا پہنچ گئے ہیں، وہ نیو یارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کریں گے، وزیراعظم کی منگل کو مختلف سربراہان مملکت اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقاتیں شروع ہوںگی۔ وزیراعظم کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت سے قبل سول اور ملٹری قیادت سے ملاقاتیں اور مشاورت ہوئی ہے جب کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی نیویارک سے واشنگٹن جائیں گے جہاں ان کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ''گھر کی صفائی ''سے متعلق بیان کو درست قراردیا ہے اور اس موقف کی حمایت کی ہے کہ اپنے گھر کی صفائی ہونی چاہیے۔ یہ تشبیہاتی صفائی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم سے جڑی ہوئی ہے جس کی گونج ایوان بالا کے اجلاس میں سنی گئی جہاں حکومتی و اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اراکین سینیٹ کا موقف تھا کہ پاک فوج اور پوری قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بطور طاقت ختم کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے لیکن اس کے برعکس ہمیں معاشرہ کے مجموعی فکری سوچ میں تبدیلی لانے کیلیے ٹھوس اقدامات اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق ایک اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور شدت پسندی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں تنظیم کے ممبر ممالک، پاکستان ، بھارت، قازقستان، چین، کرغزستان، روس ، تاجکستان و ازبکستان نے شرکت کی۔ اس لیے زمینی حقائق کا ملکی و علاقائی اور عالمی سیاق وسباق کو ہر دم پیش نظر رکھنا چاہیے، ٹرمپ کی پٹاری میں کیا کچھ ہے ،اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے ترکش میں کتنے ایسے تیر بہدف نسخے ہیں جس کی بدولت امریکا سے مفاہمت ہوجائے، ٹرمپ کسی کروٹ بیٹھ جائے، بقائے باہم ، قومی یکجہتی، ملکی سالمیت اور جمہوری اقدار و شفاف نظم حکمرانی کی قوم کو حکمرانوں کی طرف سے ضمانت مل جائے۔
خطے میں افغان پالیسی کا اعلان بلاشبہ ہوچکا ہے مگر ابھی انکل سام کی مٹھی بند ہے، ٹرمپ انتظامیہ اپنا مدعا بیان کرچکی ہے، امریکی عزائم صاف نظر آرہے ہیں ،اسی لیے کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔پاکستان کے اولین مفادات کے تحفظ کے لیے وزیراعظم اور ان کی کابینہ سمیت مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کیلیے بند امریکی مٹھی کے کھلنے سے پہلے قومی سیاست میں استحکام، آئین کے تحت سیاسی مصالحت ، اداروں کے مابین اشترک عمل اور خیر سگالی کا ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے، سوچنے کا مقام ہے کہ امریکا افغانستان میں مزید 3 ہزار سے زائد فوجی بھیجے گا جو شدت پسندوں کے خلاف افغان فورسز کی مدد کریں گے جب کہ افغان حکام سے ملنے والی ایک اطلاع کے مطابق افغان اسپیشل فورسز کے ضلع باٹی کوٹ میں کیے گئے آپریشن میں 3 شدت پسند مارے گئے جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبا ن پاکستان سے بتایا گیا تھا۔اندریں حالات ملک کو لاحق خطرات کی باتیں شدت کے ساتھ ہورہی ہیں،اسے بھی چشم کشائی کے لیے کافی سمجھنا چاہیے۔