اقوام متحدہ کو امریکی اثر سے باہر نکالنے کی ضرورت
امریکا پر مالی بوجھ کم ہو گا تو وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
امریکا پر مالی بوجھ کم ہو گا تو وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔۔ فوٹو: فائل
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے 72 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر منعقدہ خصوصی اصلاحاتی سیشن سے خطاب میں اقوام متحدہ کے کردار پر تنقیدکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ عالمی ادارہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ اقوام متحدہ کو بیوروکریسی سے زیادہ لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں جاری آپریشنز پر آنے والے اخراجات کا سب سے زیادہ بوجھ امریکا کی جانب سے اٹھائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کسی بھی ملک پر غیر منصفانہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے خاصے عرصے سے بحث جاری ہے ۔دنیا میں کمزور اقوام کے رہنماؤں کا یہ پرانا گلا ہے کہ اقوام متحدہ جن مقاصد کے لیے قائم ہوئی تھی'انھیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اب امریکا کے صدر نے بھی اسی قسم کا اعتراض اٹھا دیا ہے۔بلاشبہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو چلانے کے لیے بھاری رقوم خرچ ہو رہی ہیں۔ان رقوم کا سب سے بڑا حصہ امریکا ادا کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہی اعتراض کیا ہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے بحالی امن مشنز پر جو خرچہ آتا ہے اس کا 28.5 فیصد حصہ امریکا ادا کرتا ہے جو غیر منصفانہ ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ناکامی میں بھی امریکا کا ہاتھ ہے۔ امریکا چونکہ اقوام متحدہ کے اخراجات کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے'اسی لیے اس ادارے پر اسی کا کنٹرول بھی ہے'دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی اقوام متحدہ کی امن افواج تعینات ہیں'ان ممالک میں لڑائی کے ڈانڈے بھی امریکن پالیسی سے ہی ملتے ہیں۔
اصولی طور پر اقوام متحدہ کو فعال بنانے کے لیے امریکا اور دیگر طاقتور ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس پر زور دیا کہ وہ عالمی ادارے کی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جن مقاصد کے لیے اقوام متحدہ میں پیسہ لگا رہا ہے اس کے نتائج نظر نہیں آرہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے اعتراف کیا کہ انتظامی معاملات میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جہاں تک مالی معاملات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں غریب ممالک یقیناً اتنا سرمایہ مہیا نہیں کر سکتے جتنا اس ادارے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کو اپنے عملے کی تنخواہوں اور مراعات پر ہی کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں' اس کے علاوہ امن مشنز پر بھی بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔
یہ اخراجات یقینی طور پر صنعتی اعتبار سے طاقتور اور امیر ممالک ہی ادا کر سکتے ہیں۔اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور کو اپنا کردار انصاف کے اصولوں کے مطابق متعین کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد دنیا کی قوموں کے درمیان موجود تنازعات کو حل کرانا اور جنگ کو روکنا ہے۔ گو یہ ادارہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا ہے لیکن اس کامیابی کا تناسب خاصا کم ہے۔ اب چونکہ امریکا کی معیشت دباؤ میں ہے اس لیے امریکا اقوام متحدہ سے بھی جان چھڑانا چاہتا ہے۔دنیا کی دیگر اقوام کو اس صورت حال میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ امریکا کی من مانی ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا پر مالی بوجھ بھی کم کیا جائے' امریکا پر مالی بوجھ کم ہو گا تو وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے خاصے عرصے سے بحث جاری ہے ۔دنیا میں کمزور اقوام کے رہنماؤں کا یہ پرانا گلا ہے کہ اقوام متحدہ جن مقاصد کے لیے قائم ہوئی تھی'انھیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اب امریکا کے صدر نے بھی اسی قسم کا اعتراض اٹھا دیا ہے۔بلاشبہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو چلانے کے لیے بھاری رقوم خرچ ہو رہی ہیں۔ان رقوم کا سب سے بڑا حصہ امریکا ادا کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہی اعتراض کیا ہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے بحالی امن مشنز پر جو خرچہ آتا ہے اس کا 28.5 فیصد حصہ امریکا ادا کرتا ہے جو غیر منصفانہ ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ناکامی میں بھی امریکا کا ہاتھ ہے۔ امریکا چونکہ اقوام متحدہ کے اخراجات کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے'اسی لیے اس ادارے پر اسی کا کنٹرول بھی ہے'دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی اقوام متحدہ کی امن افواج تعینات ہیں'ان ممالک میں لڑائی کے ڈانڈے بھی امریکن پالیسی سے ہی ملتے ہیں۔
اصولی طور پر اقوام متحدہ کو فعال بنانے کے لیے امریکا اور دیگر طاقتور ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس پر زور دیا کہ وہ عالمی ادارے کی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جن مقاصد کے لیے اقوام متحدہ میں پیسہ لگا رہا ہے اس کے نتائج نظر نہیں آرہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے اعتراف کیا کہ انتظامی معاملات میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جہاں تک مالی معاملات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں غریب ممالک یقیناً اتنا سرمایہ مہیا نہیں کر سکتے جتنا اس ادارے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کو اپنے عملے کی تنخواہوں اور مراعات پر ہی کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں' اس کے علاوہ امن مشنز پر بھی بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔
یہ اخراجات یقینی طور پر صنعتی اعتبار سے طاقتور اور امیر ممالک ہی ادا کر سکتے ہیں۔اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور کو اپنا کردار انصاف کے اصولوں کے مطابق متعین کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد دنیا کی قوموں کے درمیان موجود تنازعات کو حل کرانا اور جنگ کو روکنا ہے۔ گو یہ ادارہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا ہے لیکن اس کامیابی کا تناسب خاصا کم ہے۔ اب چونکہ امریکا کی معیشت دباؤ میں ہے اس لیے امریکا اقوام متحدہ سے بھی جان چھڑانا چاہتا ہے۔دنیا کی دیگر اقوام کو اس صورت حال میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ امریکا کی من مانی ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا پر مالی بوجھ بھی کم کیا جائے' امریکا پر مالی بوجھ کم ہو گا تو وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔